مرتے دم تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی وکالت کروں…

مرتے دم تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی وکالت کروں گا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 3 از 4

 مسلمانو! ایک اور بات سنو ! انھوں نے یہ بھی کہا! بیٹا میں سید نہیں ہوں ساری زندگی انھوں نے مذھب شیعہ میں اپنے آپ کو سید کہلوایا اور ساری زندگی مذهب شیعہ میں پیش نمازی بھی کراتے رہے اور سید بھی کہلواتے رہے۔ حیدر آباد سندھ میں انھوں نے پانچ سو ھندو گھر شیعہ کیے اگر کسی کو یقین نہ ہو تو وہاں جا کر پوچھ سکتا ہے۔ جب انھوں نے کہا بیٹا میں سید نہیں ہوں تو پھر میں نے پوچھا؟ کہ ابا جان! اگر ہم سید نہیں تو پھر کون ہیں؟۔ میں نے یہ پوچھا اور ان کا دم نکل گیا اور مجھے نہیں بتا سکے کہ میں کون ہوں اور مجھے ضرورت بھی نہیں کہ میں اب پوچھتا پھروں کہ میں کون ہوں کیونکہ جنت میں جانے کا تعلق کسی ذات سے نہیں کہ سید جنت میں جائے گا غیر سید نہیں جائے گا بلکہ اس کا تعلق تو ایمان اور نیک عمل سے ہے۔

 سچ منہ سے کیوں نکلا ؟

 ساری زندگی یہ راز کسی کو نہیں دیا کہ میں سید نہیں ہوں ویسا بنا ہوا سید ہوں میں ان کا لاڈلا بیٹا تھا مجھے بھی نہیں بتایا تھا لیکن مرتے وقت انھوں نے کہا کہ میں سید نہیں ہوں ۔ جس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نظر آئے یہ سچ منہ سے کیوں نکلا ، ساری زندگی ملک جہالت ملک جھوٹ میں گزارا کرتے رہے سچ اس لیے کہنا پڑگیا تھا کہ ملک جھوٹ کی سرحد ختم ہو رہی تھی اور ملک صداقت کی سرحد شروع ہو رہی تھی۔

اعلان کیسے کروں

  مسلمانو! میرے والد صاحب تو دنیا سے چلے گئے مگر مجھے یہ تو پتہ چل گیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سچے ہیں ھدایت کے ستارے ہیں، بہت عظیم ہیں، پھر میں سوچتا رہا کہ میں سنی ہونے کا اعلان کیسے کروں یہ معمولی بات تو تھی نہیں بہت بڑا انقلاب تھا۔ جہاں میں کھڑا تھا وہاں تو اعلان کر نہیں سکتا تھا کیونکہ بیوی جو ایف اے پڑھی ہوئی ہے وہ بھی شیعہ ہے، ساس شیعہ ہے ، سالے سالیاں شیعہ ہیں مقتدی شیعہ ہیں ، اب میں کیسے اعلان کروں سنی ہونے کا ؟ اگر ان کے سامنے سنی ہونے کا اعلان کرتا ہوں تو اس جامع مسجد میں انھوں نے مجھے گولی مار دینی ہے۔ اگر میں چھپ کر جاؤں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا سارا منظر سامنے تھا خدا کی قسم میرا ٹھکانہ جھنم تھا کیونکہ حقیقت عیاں ہو چکی تھی حقیقت مل چکی تھی اور جس کو حقیقت مل جائے کیا وہ باطل کے پیچھے جاتا ہے۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔

چلا جاؤں

 مسلمانو ! جب میں نے یہ سوچا کہ اگر میں ان کے سامنے سنی ہونے کا اعلان کروں تو انھوں نے مجھے مار دینا ہے اور میں شہید ہو جاؤں گا لیکن اگر میں شہید ہو جاؤں شہادت مل بھی جائے گی جنت بھی مل جائے گی مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی کرامت کون بیان کرے گا ؟ وہ منظر کون پیش کرے گا ؟ مسلمانو! خدا کی قسم اس منظر کو بیان کرنے کیلئے خدا سے زندگی مانگی خدا مجھے زندگی دے میں پورے پاکستان کے چپہ چپہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی وکالت کروں گا ان کی صداقت بیان کروں گا کہ وہ تمام کے تمام صادق اور سچے تھے اس لیے میں نے پھر سوچا کہ بہتر یہی ہے کہ یہاں سے چلا جاؤں اور اس جگہ کو چھوڑ دوں۔

 بیگم کو دعوت اسلام

 میرے بھائی ! پھر میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں اپنی بیوی کے سامنے اس کا ذکر کروں کیونکہ وہ شریک حیات ہے اور قریب بھی زیادہ ہے حق بھی زیادہ رکھتی ہے ہو سکتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے اور ہم ایک سے دو ہو جائیں چنانچہ میں نے بیگم کے سامنے پورا وہ منظر بیان کیا اور میں نے کہا اپنی بیگم کو بیگم ! میں تو سنی ہوتا ہوں کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سچے ہیں اب تو میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو مانتا ہوں تو بھی سنی ہوجا آگے سے بیگم نے جواب دیا “ محسن رضا تو ان کو مانتا ہے جنھوں نے بتول کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر جلانے کی دھمکیاں دی تھیں تو ان کو مانتا ہے جنھوں نے سیدنا علیؓ کے گلے میں رسی ڈال کر زبردستی بیعت لی تو ان کو مانتا ہے جنھوں نے بتول کا حق کھا لیا، تو ان کو اپنا ھادی مانتا ہے اور ان کو اپنا مقتدا مانتا ہے،۔ میں نے کہا بیگم! ایمان کے ساتھ بتا جتنے تو نے بہتان لگائے ہیں قرآن میں ہیں، کہنے لگی نہیں قرآن میں نہیں ہے میں نے کہا حدیث میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ جن کو میں دین سکھاؤں گا جو میری مدد کریں گے میں ان کی مدد کروں گا وہ مجھے رشتہ دیں گے میں ان کو رشتہ دوں گا وہ سارے کے سارے میرے مرنے کے بعد میری بیٹی کے دشمن ہو جائے گے۔ کہنے لگی نہیں حدیث میں بھی نہیں کیونکہ حضورﷺ نے پیش گوئی نہیں کی تھی میں نے کہا پھر آخر مسئلہ کہاں ہے کہنے لگی تاریخ میں ہے تاریخ بتاتی ہے کہ انھوں نے اہل بیت پر مظالم کیئے میں نے کہا ” بات سن قرآن ہے ایک زبان ، صرف اللہ کا کلام اس میں کوئی شریک نہیں حدیث ہے حضورﷺ کا فرمان اس لیے اس میں بھی کوئی شریک نہیں تاریخ ہے اجتماع یہ سارے لوگوں کا کلام ہے کسی کو اپنی زمینوں کا دکھ تھا کسی کو اپنی بستیوں کا دکھ تھا، کسی بد مذھب کو اپنے مذھب کے مٹنے کا دکھ تھا کسی نے کس طرح لکھ دیا کسی نے کس طرح لکھ دیا لہذا میں تو تاریخ نہیں مانتا۔ کہنے لگی تاریخ تو ماننا پڑگی کیونکہ وہ دنیا کی زندگی ہے۔ میں نے کہا سیدنا صدیق اکبرؓ پر دھبہ بھی تاریخ نے لگایا،سیدنا فاروق اعظمؓ پر دھبہ بھی تاریخ نے لگایا، سیدنا عثمان غنیؓ پر دھبہ بھی تاریخ نے لگایا ،سیدنا معاویہؓ پر دھبہ بھی تاریخ نے لگایا ، سیدنا علیؓ سیدنا حسنؓ سیدنا حسینؓ پر دھبہ بھی تاریخ نے لگایا سیدہ فاطمہؓ پر بھی دھبہ تاریخ نے لگایا اگر تاریخ مانوں تو سب پر دھبہ بھی ماننا پڑے گا۔ قرآن تو کہتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین جنتی ہیں انصار بھی جنتی ہیں مہاجرین بھی جنتی ہیں۔ قرآن تو ان کی زندگی کے کارنامے بیان کرتا ہے قرآن ان کی مدح کا قصیدہ بنا ہوا ہے میں کیسے اس تاریخ کو مانوں جو قرآن کے خلاف ہے جو قرآن کے موافق ہوگی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان بیان کرے گی مان لوں گا جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے خلاف ہو گی قرآن کے خلاف ہو گی سمجھ لوں گا دشمن کی زبان ہے دشمن کا کلام ہے جس نے نبیﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر دھبے لگائے۔

صفحہ 3 از 4