مرتے دم تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی وکالت کروں…

مرتے دم تک صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی وکالت کروں گا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 4 از 4

 بھوکا مرنا ہے تو لاکھ مرتبہ سنی ہو

 مسلمانو! پھر میری بیگم نے کہا میں اپنی امی سے پوچھ لوں آگے میری ساس بھی کٹر شیعہ تھی ۔ میری بیگم نے جاکر اپنی ماں سے کہا امی ! محسن رضا تو سنی ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ مجھے بھی کہتا ہے تو بھی سنی ہو میری ساس نے کہا بیٹی سنی نہ ہونا میری بیگم نے کہا ”کیوں“ تو میری ساس نے کہا اگر تو نے بھوکا مرنا ہے تو لاکھ مرتبہ سنی ہو، بالآخر گھر کا کوئی فرد سنی نہ ہوا۔

 اپنے مسکن سے کوچ

 چونکہ میں نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اگر یہ منظر پوری دنیا دیکھ لیتی تو ساری دنیا سنی ہو جاتی چونکہ صرف میرے اوپر یہ منظر گذرا تھا اس لیے میں تو سیدنا صدیق اکبرؓ کے قدموں میں گر گیا۔ میری بیوی نے نہ مانا اور مجھے بہت کچھ کہا کہ یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا مگر میں نے گھر چھوڑ دیا، دو جوڑے کپڑوں کے اٹھائے اور گھر سے باہر نکل آیا۔ جب گھر سے باہر آیا تو ایک مرتبہ گھر کی طرف دیکھا لیکن یہ دیکھنا کسی حسرت کی بناء پر نہ تھا بلکہ میں نے اس لیے دیکھا تھا کہ یہ گھر ، بیوی اور میرا جو کچھ اس میں سرمایا ہے یا میرے باپ کا جو سرمایا ہے سارا کا سارا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے جوتوں کی نوک پر قربان کرتا ہوں۔

 اکابرین دیوبند

  وہاں سے چل کر سیدھا لاہور جامعہ امامیہ میں آیا اس کے بعد میں سیدھا دفتر اہلِ سنت و الجماعت ملتان میں گیا جس طرح بھی پہنچا پہنچ گیا جب وہاں پہنچا تو اکابرین دیوبند اکابرین تنظیم نے مجھے سینے سے لگایا اور مجھ سے اس طرح سے سلوک کیا جس طرح انصار نے مہاجرین کے ساتھ سلوک کیا تھا۔ چنانچہ ایک ماہ کے بعد مجھے مرکزی تنظیم اہلَ سنت کا مبلغ بنا دیا گیا۔

 آخری آرزو

 میری پہلی اور آخری آرزو یہی ہے کہ خدا اس وقت تک موت نہ دینا جب تک پورے پاکستان میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی وکالت نہ کرلوں۔

 وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين


صفحہ 4 از 4