اللہ تعالیٰ سے مدد طلبی و فریاد رسی اور نماز استسقاء -…

اللہ تعالیٰ سے مدد طلبی و فریاد رسی اور نماز استسقاء

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2
سلیمان بن یسارؓ سے روایت ہے کہ عام الرمادہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ خطبہ دیا:
’’اے لوگو! اپنے ظاہری اعمال میں، نیز تمہارے جو معاملات لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں سب میں اللہ سے ڈرو، میں تمہارے ذریعہ سے اور تم میرے ذریعہ سے آزمائے گئے ہو، میں نہیں جانتا کہ اللہ کی ناراضگی تم کو چھوڑ کر مجھ پر نازل ہوئی ہے، یا مجھ کو چھوڑ کو تم پر نازل ہوئی ہے، یہ ناراضگی ہم سب کو شامل ہے، آؤ ہم سب مل کر اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے دلوں کی اصلاح کر دے، اور ہم پر رحم فرمائے اور ہم سب سے اس آفت قحط سالی کو دور کر دے۔‘‘
سیدنا عمر فاروقؓ اس دن اس حالت میں دیکھے گئے کہ اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے تھے اور لوگوں نے بھی دعا کی، آپؓ خود گریہ کناں ہوئے، لوگ بھی گریہ کناں ہوئے، پھر آپؓ منبر سے نیچے اتر آئے۔‘‘ 
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 322، الشیخان بروایت: بلاذری: صفحہ 323)
اسلم سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ’’اے لوگو! مجھے خوف و خطر لاحق ہے کہ اللہ کی ناراضی ہم سب کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے، لہٰذا اپنے رب کو راضی کر لو، غلط حرکتوں سے باز آ جاؤ اور اپنے رب سے توبہ کرو، اور نیک اعمال کرو۔‘‘ 
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 322، أخبار عمر: صفحہ 116)
اور عبداللہ بن ساعدہؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ جب انہوں نے مغرب کی نماز پڑھی تو لوگوں کو آواز دیتے ہوئے کہا: اے لوگو! اپنے رب سے استغفار کرو، اور اسی سے توبہ کرو، اس سے اس کے فضل و کرم کے طالب بنو، اس سے ایسی بارش کا سوال کرو جو بارانِ رحمت ہو، بارانِ عذاب نہ ہو، یہی عمل مسلسل کرتے رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو ہٹا دے۔ 
(الشیخان بروایت بلاذری: صفحہ 319)
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ استسقاء کے لیے نکلے، منبر پر تشریف لائے اور ان آیات کی تلاوت فرمائی:
فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا۞يُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّدۡرَارًا ۞(سورۃ نوح: آیت 10، 11)
ترجمہ:’’تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگ لو، یقیناً وہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا ہے۔وہ تم پر بہت برستی ہوئی بارش اتارے گا۔‘‘
نیز یہ آیت پڑھی:
 اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ۞
ترجمہ: ’’تم اپنے رب سے استغفار کرو پھر اسی سے توبہ کرو۔‘‘ 
اتنا کہہ کر آپؓ منبر سے اتر آئے۔ آپؓ سے پوچھا گیا کہ استسقاء یعنی پانی کا سوال کرنے سے آپ کو کس بات نے روک دیا؟ آپؓ نے فرمایا: میں نے آسمان جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے بارش طلب کر لی ہے۔
(الشیخان بروایت بلاذری: صفحہ 320)
اور جب آپؓ نے پختہ ارادہ کر لیا کہ فلاں دن استسقاء کی نماز پڑھنی ہے اور لوگوں کو لے کر میدان میں نکلنا ہے تو اپنے تمام گورنروں و افسروں کو لکھا کہ فلاں دن وہ سب میدان میں نکلیں اور اپنے رب سے عاجزی و تضرع کریں اور اس سے سوال کریں کہ اس قحط سالی کی مصیبت کو ہم سے ہٹا دے، چنانچہ سیدنا عمرؓ مقررہ دن میں نماز استسقاء کے لیے نکلے اور سیدنا عمر فاروقؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر زیب تن کیے ہوئے تھے، آپؓ عید گاہ آئے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ سے عاجزی وگریہ زاری کی ، لوگ بھی الحاح کے ساتھ اللہ سے بارش کا مطالبہ کرنے لگے، آپؓ صرف استغفار میں لگے رہے اور جب لوٹنے کا وقت ہوا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر اوپر اٹھایا اور چادر کو اس طرح پلٹا کہ دائیں کنارے کو بائیں اور بائیں کو دائیں کر دیا، پھر دونوں ہاتھوں کو دراز کیا اور بڑے الحاح کے ساتھ دعا کرنے لگے، اور کافی دیر تک روتے رہے یہاں تک کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو گئی۔ 
(ابن سعد: جلد 3 صفحہ 320، 321۔ تاریخ المدینۃ المنورۃ ابن شبۃ: جلد 2 صفحہ 742)
اور صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے پانی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ ہم اپنے نبی محمد کریمﷺ کی دعاؤں (یہ وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے چچا کی زندگی میں ان کی دعاؤں کا وسیلہ تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی ذات، یا کسی بھی میت کی ذات کا وسیلہ لینا جائز ہوتا تو حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہؓ اللہ کے رسولﷺ کو چھوڑ کر آپﷺ کے چچا عباس بن عبدالمطلب کے پاس نہ جاتے۔) کے وسیلہ سے تیری قربت چاہتے تھے اور تو ہمیں پانی دیتا تھا، اور اب ہم اپنے نبی کریمﷺ کے چچا (کی دعاؤں) کے واسطے سے تیری قربت چاہتے ہیں لہٰذا تو ہمیں سیراب کر دے۔ 
(صحیح البخاری: حدیث 1010)
اور روایت کیا گیا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے عام الرمادہ میں استسقاء کے موقع پر اپنی دعا کے آخر میں کہا: اے اللہ! میں عاجز و درماندہ ہو گیا، اور جو کچھ تیرے پاس ہے وہ سب انسانوں کے لیے کافی ہے، پھر آپؓ نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ہم تیرے نبی کے چچا اور آپﷺ کے باقی ماندہ اجداد (روایت میں اجداد کا ذکر محل نظر ہے۔ وفات شدہ لوگوں سے توسل صحیح نہیں ہے) واکابرین صحابہؓ کی دعاؤں کے ذریعہ سے تیری قربت چاہتے ہیں، کیونکہ تیری بات حق ہے اور تو کہتا ہے: 
وَاَمَّا الۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِى الۡمَدِيۡنَةِ وَكَانَ تَحۡتَهٗ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًـا ۞ (سورۃ الكهف: آیت 82)
ترجمہ: ’’اور رہ گئی دیوار تو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لیے ایک خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا۔‘‘
صفحہ 1 از 2