Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اللہ تعالیٰ سے مدد طلبی و فریاد رسی اور نماز استسقاء

  علی محمد الصلابی

سلیمان بن یسارؓ سے روایت ہے کہ عام الرمادہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ خطبہ دیا:
’’اے لوگو! اپنے ظاہری اعمال میں، نیز تمہارے جو معاملات لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں سب میں اللہ سے ڈرو، میں تمہارے ذریعہ سے اور تم میرے ذریعہ سے آزمائے گئے ہو، میں نہیں جانتا کہ اللہ کی ناراضگی تم کو چھوڑ کر مجھ پر نازل ہوئی ہے، یا مجھ کو چھوڑ کو تم پر نازل ہوئی ہے، یہ ناراضگی ہم سب کو شامل ہے، آؤ ہم سب مل کر اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے دلوں کی اصلاح کر دے، اور ہم پر رحم فرمائے اور ہم سب سے اس آفت قحط سالی کو دور کر دے۔‘‘
سیدنا عمر فاروقؓ اس دن اس حالت میں دیکھے گئے کہ اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے تھے اور لوگوں نے بھی دعا کی، آپؓ خود گریہ کناں ہوئے، لوگ بھی گریہ کناں ہوئے، پھر آپؓ منبر سے نیچے اتر آئے۔‘‘ 
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 322، الشیخان بروایت: بلاذری: صفحہ 323)
اسلم سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ’’اے لوگو! مجھے خوف و خطر لاحق ہے کہ اللہ کی ناراضی ہم سب کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے، لہٰذا اپنے رب کو راضی کر لو، غلط حرکتوں سے باز آ جاؤ اور اپنے رب سے توبہ کرو، اور نیک اعمال کرو۔‘‘ 
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 322، أخبار عمر: صفحہ 116)
اور عبداللہ بن ساعدہؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ جب انہوں نے مغرب کی نماز پڑھی تو لوگوں کو آواز دیتے ہوئے کہا: اے لوگو! اپنے رب سے استغفار کرو، اور اسی سے توبہ کرو، اس سے اس کے فضل و کرم کے طالب بنو، اس سے ایسی بارش کا سوال کرو جو بارانِ رحمت ہو، بارانِ عذاب نہ ہو، یہی عمل مسلسل کرتے رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو ہٹا دے۔ 
(الشیخان بروایت بلاذری: صفحہ 319)
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ استسقاء کے لیے نکلے، منبر پر تشریف لائے اور ان آیات کی تلاوت فرمائی:
فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا۞يُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّدۡرَارًا ۞(سورۃ نوح: آیت 10، 11)
ترجمہ:’’تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگ لو، یقیناً وہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا ہے۔وہ تم پر بہت برستی ہوئی بارش اتارے گا۔‘‘
نیز یہ آیت پڑھی:
 اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ ۞
ترجمہ: ’’تم اپنے رب سے استغفار کرو پھر اسی سے توبہ کرو۔‘‘ 
اتنا کہہ کر آپؓ منبر سے اتر آئے۔ آپؓ سے پوچھا گیا کہ استسقاء یعنی پانی کا سوال کرنے سے آپ کو کس بات نے روک دیا؟ آپؓ نے فرمایا: میں نے آسمان جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے بارش طلب کر لی ہے۔
(الشیخان بروایت بلاذری: صفحہ 320)
اور جب آپؓ نے پختہ ارادہ کر لیا کہ فلاں دن استسقاء کی نماز پڑھنی ہے اور لوگوں کو لے کر میدان میں نکلنا ہے تو اپنے تمام گورنروں و افسروں کو لکھا کہ فلاں دن وہ سب میدان میں نکلیں اور اپنے رب سے عاجزی و تضرع کریں اور اس سے سوال کریں کہ اس قحط سالی کی مصیبت کو ہم سے ہٹا دے، چنانچہ سیدنا عمرؓ مقررہ دن میں نماز استسقاء کے لیے نکلے اور سیدنا عمر فاروقؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر زیب تن کیے ہوئے تھے، آپؓ عید گاہ آئے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ سے عاجزی وگریہ زاری کی ، لوگ بھی الحاح کے ساتھ اللہ سے بارش کا مطالبہ کرنے لگے، آپؓ صرف استغفار میں لگے رہے اور جب لوٹنے کا وقت ہوا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر اوپر اٹھایا اور چادر کو اس طرح پلٹا کہ دائیں کنارے کو بائیں اور بائیں کو دائیں کر دیا، پھر دونوں ہاتھوں کو دراز کیا اور بڑے الحاح کے ساتھ دعا کرنے لگے، اور کافی دیر تک روتے رہے یہاں تک کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو گئی۔ 
(ابن سعد: جلد 3 صفحہ 320، 321۔ تاریخ المدینۃ المنورۃ ابن شبۃ: جلد 2 صفحہ 742)
اور صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے پانی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ ہم اپنے نبی محمد کریمﷺ کی دعاؤں (یہ وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے چچا کی زندگی میں ان کی دعاؤں کا وسیلہ تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی ذات، یا کسی بھی میت کی ذات کا وسیلہ لینا جائز ہوتا تو حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہؓ اللہ کے رسولﷺ کو چھوڑ کر آپﷺ کے چچا عباس بن عبدالمطلب کے پاس نہ جاتے۔) کے وسیلہ سے تیری قربت چاہتے تھے اور تو ہمیں پانی دیتا تھا، اور اب ہم اپنے نبی کریمﷺ کے چچا (کی دعاؤں) کے واسطے سے تیری قربت چاہتے ہیں لہٰذا تو ہمیں سیراب کر دے۔ 
(صحیح البخاری: حدیث 1010)
اور روایت کیا گیا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے عام الرمادہ میں استسقاء کے موقع پر اپنی دعا کے آخر میں کہا: اے اللہ! میں عاجز و درماندہ ہو گیا، اور جو کچھ تیرے پاس ہے وہ سب انسانوں کے لیے کافی ہے، پھر آپؓ نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: ہم تیرے نبی کے چچا اور آپﷺ کے باقی ماندہ اجداد (روایت میں اجداد کا ذکر محل نظر ہے۔ وفات شدہ لوگوں سے توسل صحیح نہیں ہے) واکابرین صحابہؓ کی دعاؤں کے ذریعہ سے تیری قربت چاہتے ہیں، کیونکہ تیری بات حق ہے اور تو کہتا ہے: 
وَاَمَّا الۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِى الۡمَدِيۡنَةِ وَكَانَ تَحۡتَهٗ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًـا ۞ (سورۃ الكهف: آیت 82)
ترجمہ: ’’اور رہ گئی دیوار تو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لیے ایک خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا۔‘‘
چونکہ تو نے ان دونوں کے باپ کے نیک ہونے کی وجہ سے اس دیوار کی حفاظت کی، لہٰذا اے اللہ! اپنے نبی کی نیکی کی بنا پر آپﷺ کے چچا کی دعا کی حفاظت کر! تو حضرت عباسؓ نے دعا کی اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے: اے اللہ! کوئی بھی بلا و مصیبت گناہوں کی ہی وجہ سے آتی ہے، اور توبہ کے ذریعہ وہ ختم ہوتی ہے، تیرے نبی سے میرے تعلق کی بنیاد پر میری دعا کے ذریعہ سے پوری قوم تیری طرف متوجہ ہے، یہ میرے ہاتھ گناہوں سے رنگے ہوئے تیری طرف بلند ہیں، ہماری پیشانیاں توبہ کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہیں، تو ہمیں بارش سے سیراب کر دے، اے ارحم الراحمین تو ہمیں مایوس و نامراد لوگوں میں سے نہ بنا، اے اللہ تو ہی نگہبان ہے گم ہونے والے کو تو رائیگاں نہ کر، بے سہاروں کو ہلاکت کی وادی میں نہ چھوڑ، چھوٹے کمزور اور دبلے ہوتے جا رہے ہیں، اور عمر دراز لوگ موت سے گھبرانے لگے ہیں، تجھ ہی سے میری شکایت ہے، تو خفیہ اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ اے اللہ لوگوں کو بارش عطا فرما، رحمت کی بارش، اس سے پہلے کہ وہ مایوس ہو جائیں اور ہلاک و برباد ہو جائیں کیونکہ تیری رحمت سے کافر قوم ہی محروم و مایوس ہوتی ہے۔ 
(الفاروق عمر بن خطاب: محمد رشید رضا: صفحہ 217 اس روایت کی سند تحقیق طلب ہے)
دعا کے بعد ایک خوش منظر بادل نمودار ہوا، لوگوں نے کہا: دیکھ رہے ہو، پھر وہ اکٹھا ہوا اور ہواؤں کے ساتھ چلنے لگا، پھر ٹھہر گیا اور موسلا دھار بارش ہوئی، اللہ کی قسم! انہوں نے ابھی جگہ نہ چھوڑی تھی کہ دیوار کے سہارے اپنی ازار کے پائینچوں کو اٹھائے ہوئے گھروں کو واپس ہوئے، اور لوگوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہنا شروع کیا کہ تمہیں مبارک بادی ہے اے حرمین کو سیراب کرنے والے، اور فضل بن عباس بن عتبہ بن ابی لہب نے کہا:
بعمی سقی اللّٰه الحجاز وأہلہ
عشیۃ یستسقی بشیبتہ عمر
’’میرے چچا (کی دعاؤں) کے ذریعہ سے اللہ نے حجاز اور اس کے باشندوں کو شام کے وقت سیراب کر دیا، جب اس کے بڑھاپے میں حضرت عمرؓ اس کی دعاؤں کے وسیلہ سے پانی کا سوال کر رہے تھے۔‘‘
توجہ بالعباس فی الجدب راغبًا
إلیہ فما رام حتی أتی المطر
’’قحط کے موسم میں (عمر رضی اللہ عنہ ) حضرت عباسؓ کو شفیع بنا کر دعا کرتے ہوئے اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹے یہاں تک کہ بارش آ گئی۔‘‘
ومنا رسول اللّٰه فینا تراثہ
فہل فوق ہذا للمفاخر مفتخر
’’رسول اللہﷺ ہم میں سے تھے، ہم میں آپﷺ کی میراث ہے، کیا اس سے بڑھ کر فخر کرنے کی کوئی چیز ہے۔‘‘
اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا:
سأل الامام وقد تتابع جدبنا
فسقی الغمام لغرۃ العباس
’’امام (عمر رضی اللہ عنہ) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا اس حال میں کہ ہم پر مسلسل قحط کی مار تھی، تو بادل نے عباس کی چمک سے بارش برسائی۔‘‘
عم النبی وصنو والدہ الذی
ورث النبی بذلک دون الناس
’’آپ نبیﷺ کے چچا اور آپ کے والد کے حقیقی بھائی، دوسروں کے علاوہ، وہی نبیﷺ کے وارث ہوئے۔‘‘
أحیا الإ لہ بہ البلاد فاصبحت
مخضرۃ الأجناب بعد الیاس
(الفاروق عمر بن الخطاب: صفحہ 217)
’’اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے شہروں و زمینوں کو زندہ کر دیا، اور وہ شہر مایوسی کے بعد ہر جانب سے سرسبز ہو گئے۔‘‘
اس واقعہ میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی دعا کی مشمولات سے متعلق ایک روایت میں یہ وارد ہے: ’’اے اللہ کوئی بھی مصیبت گناہوں ہی کی پاداش میں آتی ہے، اور صرف توجہ کے ذریعہ سے ختم ہوتی ہے، تیرے نبی ہی سے میرا تعلق ہونے کی وجہ سے پوری قوم میری دعاؤں کے ذریعہ سے تیری طرف متوجہ ہے، یہ میرے ہاتھ ہیں جو گناہوں سے رنگے ہوئے ہیں، اور ہماری پیشانیاں توبہ کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہیں، تو ہمیں بارش عطا فرما۔‘‘ چنانچہ پہاڑ کی مانند آسمان لٹک گیا یہاں تک کہ زمین پر ہریالی چھا گئی، اور لوگوں کو زندگی مل گئی۔‘‘ 
(الخلافۃ الراشدۃ والدولۃ الأمویۃ: دیکھئے یحیٰی الیحیٰی: صفحہ 302)