اللہ تعالیٰ سے مدد طلبی و فریاد رسی اور نماز استسقاء -…

اللہ تعالیٰ سے مدد طلبی و فریاد رسی اور نماز استسقاء

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2
چونکہ تو نے ان دونوں کے باپ کے نیک ہونے کی وجہ سے اس دیوار کی حفاظت کی، لہٰذا اے اللہ! اپنے نبی کی نیکی کی بنا پر آپﷺ کے چچا کی دعا کی حفاظت کر! تو حضرت عباسؓ نے دعا کی اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے: اے اللہ! کوئی بھی بلا و مصیبت گناہوں کی ہی وجہ سے آتی ہے، اور توبہ کے ذریعہ وہ ختم ہوتی ہے، تیرے نبی سے میرے تعلق کی بنیاد پر میری دعا کے ذریعہ سے پوری قوم تیری طرف متوجہ ہے، یہ میرے ہاتھ گناہوں سے رنگے ہوئے تیری طرف بلند ہیں، ہماری پیشانیاں توبہ کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہیں، تو ہمیں بارش سے سیراب کر دے، اے ارحم الراحمین تو ہمیں مایوس و نامراد لوگوں میں سے نہ بنا، اے اللہ تو ہی نگہبان ہے گم ہونے والے کو تو رائیگاں نہ کر، بے سہاروں کو ہلاکت کی وادی میں نہ چھوڑ، چھوٹے کمزور اور دبلے ہوتے جا رہے ہیں، اور عمر دراز لوگ موت سے گھبرانے لگے ہیں، تجھ ہی سے میری شکایت ہے، تو خفیہ اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ اے اللہ لوگوں کو بارش عطا فرما، رحمت کی بارش، اس سے پہلے کہ وہ مایوس ہو جائیں اور ہلاک و برباد ہو جائیں کیونکہ تیری رحمت سے کافر قوم ہی محروم و مایوس ہوتی ہے۔ 
(الفاروق عمر بن خطاب: محمد رشید رضا: صفحہ 217 اس روایت کی سند تحقیق طلب ہے)
دعا کے بعد ایک خوش منظر بادل نمودار ہوا، لوگوں نے کہا: دیکھ رہے ہو، پھر وہ اکٹھا ہوا اور ہواؤں کے ساتھ چلنے لگا، پھر ٹھہر گیا اور موسلا دھار بارش ہوئی، اللہ کی قسم! انہوں نے ابھی جگہ نہ چھوڑی تھی کہ دیوار کے سہارے اپنی ازار کے پائینچوں کو اٹھائے ہوئے گھروں کو واپس ہوئے، اور لوگوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہنا شروع کیا کہ تمہیں مبارک بادی ہے اے حرمین کو سیراب کرنے والے، اور فضل بن عباس بن عتبہ بن ابی لہب نے کہا:
بعمی سقی اللّٰه الحجاز وأہلہ
عشیۃ یستسقی بشیبتہ عمر
’’میرے چچا (کی دعاؤں) کے ذریعہ سے اللہ نے حجاز اور اس کے باشندوں کو شام کے وقت سیراب کر دیا، جب اس کے بڑھاپے میں حضرت عمرؓ اس کی دعاؤں کے وسیلہ سے پانی کا سوال کر رہے تھے۔‘‘
توجہ بالعباس فی الجدب راغبًا
إلیہ فما رام حتی أتی المطر
’’قحط کے موسم میں (عمر رضی اللہ عنہ ) حضرت عباسؓ کو شفیع بنا کر دعا کرتے ہوئے اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹے یہاں تک کہ بارش آ گئی۔‘‘
ومنا رسول اللّٰه فینا تراثہ
فہل فوق ہذا للمفاخر مفتخر
’’رسول اللہﷺ ہم میں سے تھے، ہم میں آپﷺ کی میراث ہے، کیا اس سے بڑھ کر فخر کرنے کی کوئی چیز ہے۔‘‘
اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا:
سأل الامام وقد تتابع جدبنا
فسقی الغمام لغرۃ العباس
’’امام (عمر رضی اللہ عنہ) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا اس حال میں کہ ہم پر مسلسل قحط کی مار تھی، تو بادل نے عباس کی چمک سے بارش برسائی۔‘‘
عم النبی وصنو والدہ الذی
ورث النبی بذلک دون الناس
’’آپ نبیﷺ کے چچا اور آپ کے والد کے حقیقی بھائی، دوسروں کے علاوہ، وہی نبیﷺ کے وارث ہوئے۔‘‘
أحیا الإ لہ بہ البلاد فاصبحت
مخضرۃ الأجناب بعد الیاس
(الفاروق عمر بن الخطاب: صفحہ 217)
’’اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے شہروں و زمینوں کو زندہ کر دیا، اور وہ شہر مایوسی کے بعد ہر جانب سے سرسبز ہو گئے۔‘‘
اس واقعہ میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی دعا کی مشمولات سے متعلق ایک روایت میں یہ وارد ہے: ’’اے اللہ کوئی بھی مصیبت گناہوں ہی کی پاداش میں آتی ہے، اور صرف توجہ کے ذریعہ سے ختم ہوتی ہے، تیرے نبی ہی سے میرا تعلق ہونے کی وجہ سے پوری قوم میری دعاؤں کے ذریعہ سے تیری طرف متوجہ ہے، یہ میرے ہاتھ ہیں جو گناہوں سے رنگے ہوئے ہیں، اور ہماری پیشانیاں توبہ کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہیں، تو ہمیں بارش عطا فرما۔‘‘ چنانچہ پہاڑ کی مانند آسمان لٹک گیا یہاں تک کہ زمین پر ہریالی چھا گئی، اور لوگوں کو زندگی مل گئی۔‘‘ 
(الخلافۃ الراشدۃ والدولۃ الأمویۃ: دیکھئے یحیٰی الیحیٰی: صفحہ 302)

صفحہ 2 از 2