تلاش حق داستان هدایت ..... محمد حسین صاحب مختار - ردِ…

تلاش حق داستان هدایت ..... محمد حسین صاحب مختار

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 1 از 4

تلاش حق

داستان هدایت ..... محمد حسین صاحب مختار

محمد حسین صاحب مختار شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے ان کو اپنے آبائی مذہب کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے تو وہ دین اسلام کی تلاش میں مصروف ہوگئے اور جو اشکالات و شبہات انھیں شیعہ مذہب کے بارے میں ہوئے تھے وہ تمام شبہات لکھ کر شیعہ علماء ،مناظرین اور مجتہدین کی طرف روانہ کیے اور ان سے جواب طلب کیے مگر وہ جواب نہ دے سکے بعضوں نے جواب دیے لیکن تسلی بخش نہ تھے جس کی بناء پر انھیں یقین ہو گیا کہ سنی مذہب سچا اور حق ہے اور یہی حقیقی دین اسلام ہے۔ چنانچہ انھوں نے سنی مذہب اختیار کر لیا اور اپنے وہ سوالات ایک رسالہ کی شکل میں شائع کرا دیے اس رسالہ کا نام انھوں نے حصول اسلام رکھا پھر کچھ عرصہ بعد وہ رسالہ دوبارہ "برق برخرمن شیعہ" کے نام سے شائع کرایا ۔ اس رسالہ سے ہم چیدہ چیدہ باتیں آپ کے سامنے نقل کرتے ہیں

      بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْتَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ

ترجمہ: وہ ایک جماعت تھی جو گزرگئی ان کا وہ ہے جو وہ کر گئے اور تمہارا وہ ہے جو تم کرو گے اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔

اس آیت سے ثابت ہے کہ مجھے خدا نے جج یا منصف بنا کر دنیا میں نہیں بھیجا کہ میں خلافت کی ڈگری سیدنا علیؓ کے حق میں صادر کردوں ، نہ میں فدک اور جنگ جمل اور جنگ صفین وغیرہ کے جھگڑے طے کرنے آیا ہوں اور نہ مجھے اختیار ہے، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے کچھ کام کرنے کو بھیجا ہے کہ میں برے کام کو چھوڑ دوں اور اچھے کام کروں اور اللہ تعالیٰ کی یاد اور اسکا ذکر کروں اپنے نفس کی اصلاح کروں اور یہی قیامت میں اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھیں گے کہ تو کیا کر کے لایا ہے۔ یہی قرآن فرماتا ہے اور یہی دنیا کے سارے مذھب کہتے ہیں اس لیے مجھے ان جھگڑوں میں پڑ کر اپنا قیمتی عبادت کا وقت اور اللہ کے ذکر کرنے کا وقت برباد کرنے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے تو اپنی فکر ہے کہ میں کیا کروں۔

اس لیے میں عرصہ سے تلاش حق یعنی اسلام کی تلاش میں مصروف تھا جو اللہ پاک نے اپنے حبیب کے ذریعے دنیا میں ھدایت کیلئے بھیجا تھا۔مجھے ماں باپ کے دیے ہوئے شیعہ مذھب میں جو شکوک پیدا ہو گئے تھے ان کو میں نے مختصر لفظوں میں ہاتھ سے کاپیاں لکھ کر، تا کہ دوسروں کو معلوم نہ ہو خفیہ طور پر حضرات علماء سہارنپور سے اور حضرت صدرا محققین شمس العلماء قبله و مجتهد لکھنو ناصر الملت سیدنا ناصر حسین صاحب سے اور حضرت علامہ قبلہ دار الشریعت مجتہد لاہور سید علی الحائری صاحب سے اور رسالہ اصلاح کے ایڈیٹر صاحب سے جو شیعوں میں معروف و مشہور بحث و مباحثہ و مناظرہ کرنے والے ہیں ان سے اللہ کی رضا کیلئے مدد چاہی اور سوالوں کی کاپیاں ان کے پاس بھیجیں مگر بے فائدہ! انھوں نے جواب دینے سے صاف جواب دے دیا۔ ایڈیٹر صاحب نے جواب ارسال فرمائے مگر بلا دستخط اور مولوی سید محمد نقوی صاحب نے زبانی جواب ارشاد فرمایا اور بحث و مباحثہ بھی ہوا مگر مجھے اطمینان نہیں ہوا اور مجھے یقین ہو گیا کہ حق سنی مذھب میں ہے اور یہی اصلی اسلام ہے چنانچہ میں سنی ہو گیا۔ جس میں مجھے صرف یہ کرنا پڑا کہ وضوء کا طریقہ موجودہ قرآن کے حکم کے مطابق اختیار کر لیا اور نماز میں فطرت انسانی کے مطابق عاجزی اور انکساری سے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔ یہاں کسی بزرگ کو گالیاں دینے کی ضرورت تو تھی ہی نہیں اور ماہ رمضان میں روزے رکھنے اور عشاء کے بعد تروایح بھی پڑھنے لگا۔

 خیالات باطله

بس پھر کیا تھا اکثر شیعوں نے اپنے اپنے ذہنوں کے مطابق یہ خیالات ظاہر کرنے شروع کر دیے۔

(1) ۔۔۔کسی عورت کے لالچ میں سنی ہو گیا ہے، فلاں سنی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔

(2) ۔۔۔تقیہ کر لیا ہے

(3) ۔۔۔بڑا افسوس ہے لنگوٹوں کے پیچھے نماز پڑھنے لگا۔

(4)۔۔۔سنی ہو کر کیا ملا ؟

(5) ۔۔کسی لالچ کی بناء پر سنی ہوا ہوگا۔

(6)۔۔ آخری پیغام سید محسن علی صاحب اور ان کے ساتھ ایک اور شخص یہ لائے کہ تم سنی ہوئے تو خیر مگر اپنے سوالات مت چھپوانا ورنہ تمہاری ذاتیات پر حملے کیے جائیں گے یعنی تمہیں گالیاں دیں گے۔

               جوابات

سبحان الله ! جیسی ہمت ویسا خیال

 نمبر 1 کا جواب ...... متعہ وحدانیت ( ایک عورت کا ایک مرد سے متعہ کرنا ) اور متعہ دوریہ ایک عورت کا کئی مردوں سے متعہ کرنا) اور تحلیل ( میزبان کا اپنی باندی یا نوکرانی سے مہمان کی تفریح کرنا ) وغیرہ نے عورتوں کے مزوں میں شیعوں کو اس قدر محو کر دیا ہے کہ ان کے خیال میں مذھب صرف عورت کی خاطر ہی تبدیل ہو سکتا ہے ورنہ اللہ کا کوئی بندہ اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہیں لا سکتا مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ عورتوں کا لالچ ہو اور شیعہ مذھب کو چھوڑ دے، جہاں اس قدر مزوں کا میدان موجود ہو کہ متعہ وحدانیہ اور متعہ دوریہ اور تحلیل جو چاہیے مرضی کرو اور ثواب بھی کماؤ ، مزے بھی اڑاؤ اور اس کے بدلے جنت بھی لو۔

 نمبر 2 کا جواب پہلے تو میں سمجھتا تھا کہ شیعہ حضرات تقیہ کو جان کے خوف کی حالت میں جائز رکھتے ہوں گے مگر اب اس اعتراض سے تو معلوم ہوا کہ بغیر جان کے خوف سے بھی ان کے ہاں تقیہ جائز ہے کیونکہ شیعہ رہتے ہوئے مجھے جان کاکسی قسم کا خوف نہیں تھا کہ جس کی بناء پر میں تقیہ کر کے سنی ہوتا۔

 نمبر 3 کا جواب ..... یہ اعتراض شیعوں کے خاندانی غرور سے پیدا ہوا ہے اور ایسے پیدائشی غرور کو اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں بتا دیا ہے کہ یہ غرور ابلیس نے کیا تھا کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور حضرت آدمؑ مٹی سے پیدا ہوئے ہیں میں اس کو سجدہ کیوں کروں؟ میں تو اس سے بہتر ہوں حضرت عیسیؑ کے حواری مچھیرے اور گدڑیے تھے جو ایمان لے آئے تھے جبکہ بنی اسرائیل نبی زادے تھے مگر ان پر ایمان نہیں لائے۔حضرت نوحؑ کے مریدوں کو قوم کے سردار کمینے اور لنگوٹے کہتے تھے مگر وہ حضرت نوحؑ کے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر سلامت رہے جبکہ حضرت نوحؑ کا بیٹا جو مغرور تھا طوفان میں غرق ہوا اور نبی کے گھر والوں سے خارج کر دیا گیا،

صفحہ 1 از 4