تلاش حق داستان هدایت ..... محمد حسین صاحب مختار - ردِ…

تلاش حق داستان هدایت ..... محمد حسین صاحب مختار

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 3 از 4

یارو! ایک خاص بات بتلاتا ہوں عقلی دلائل کو بھی چھوڑو اور منقول پر بھی بحث کو جانے دو تجربہ سے کام لو۔ بھائی حافظ یار محمد صاحب جن کو آپ شیعہ حضرات نے دیکھا ہے اور حال ہی میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ کسی قدر شیعہ حضرات ان سنی صاحب کے پاس دعا کرانے کیلئے اس اعتقاد سے جاتے تھے کہ خدا ان کی سنتا ہے اور ان کی دعا قبول ہوتی ہے اور پھر اس کا تجربہ بھی ان کو تھا کہ واقعی ان حضرت صاحب کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر سنیوں نے اپنے ایک بھائی کو پیر بنا رکھا ہے تو شیعہ صاحبان صرف جاہل نہیں بلکہ تعلیم یافتہ معقول پسند حق پسند بی اے، ایم اے کی ڈگری والے ان کی خدمت میں جاتے تھے اور اپنی مشکلات کے حل کیلئے دعا کراتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی پیشانی کو بوسے دیے اور ان کی قبر کو پیروں کی طرف سے زمین کو چومتے ہیں آخر کیوں؟ اس لیے کہ ان کو تجربہ نے بتا دیا ہے کہ اس سنی کو قرب الہی حاصل ہے وہ مذھب کے سنی گر تھے، شیعہ گرنہ تھے اور ان کے مرید کون تھے ؟ مذھب کے شیعہ اور ذات کے سید ان کے مرید تھے اگرچہ شیعہ مذھب میں حضرات اماموں کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو کوئی روحانی مرتبہ ملنے سے انکار ہے، نہ ولایت نہ کوئی درجہ روحانی کسی شخص کیلئے باقی ہے۔

حاجی عابد حسین صاحب اور سینکڑوں کی تعداد میں اہل سنت ہی سے روحانی بزرگ ہوئے ہیں اور موجود ہیں مگر ان کے مقابلہ میں سے شیعوں میں سے کوئی ایک ہی شخص بتا دیا جائے کہ فلاں سید اور فلاں شیعہ کو قرب الہی حاصل ہے اور دیکھو کس قدر سنی ان کی چوکھٹ چومتے ہیں مگر ایک بھی ایسا نہیں ہے۔

           رویائے صالحہ

شیعہ مذھب میں رویائے صالحہ سوائے حضرات اماموں کے کسی اور شخص کے نہیں ہوتے۔ بھائیو! میں خدا اور اس کے رسول ﷺ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھےرویائے صالحہ یعنی سچے خواب جن کو بشارت کہتے ہیں چند مرتبہ ہوئے ہیں اللہ کا احسان ہے کہ میں شیعیت میں بھی نماز کا قریب قریب پابند تھا اللہ اور اس کے رسولﷺ کو گواہ کر کے کہتا ہوں۔

              پہلا خواب

میں نے ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ میں نماز بے رخ اور قبلہ کے جانب کے علاوہ دوسری جانب پڑھ رہا ہوں۔

            دوسرا خواب

دوسری مرتبہ پھر خواب دیکھا کہ میں مسجد کے باہر مسجد کے سامنے ننگی زمین پر نماز پڑھ رہا ہوں۔

             تیسرا خواب

پھر تیسری مرتبہ خواب دیکھا کہ چند آدمیوں نے مجھے بتایا کہ اس مسجد کے اندر جا کر نماز پڑھو وہاں بوریا بھی ہے اور رخ بھی قبلہ کی طرف ہے وہاں نماز پڑھنے سے نماز صحیح ہوگی اور یہ احساس مجھے ہر مرتبہ خواب میں ہوا کہ یہ مسجد اہلِ السنت و الجماعت کی ہے۔

تعبیر : اس کے بعد یہ خواب میں نے ایک صاحب کے سامنے ذکر کیے توانھوں نے مجھے صاف کہہ دیا کہ تم شیعہ نہیں رہو گے بلکہ سنی ہو جاؤ گے چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے تحقیقات شروع کیں، کتب بینی کی ، علماء سے سوالات کیے اور بالاخر میں سنی ہو گیا ۔

بھائیو! تجربہ ہی کو پیش نظر رکھو اور حق کی تلاش کرو ورنہ

 گندم از گندم بروید جواز جو۔۔۔۔ از مکافات عمل غافل مشو

             جھوٹی روایت

عشرہ ثانیہ کی ایک مجلس میں ایک شیعہ عالم صاحب نے بر سر منبر فرمایا تھا کہ صلیب کی شب کو حضرت عیسیٰؑ اپنی والد حضرت مریمؑ کے پاس رہے اور انھوں نے ان کے ہاتھوں میں مہندی لگائی سر میں تیل ڈالا، آنکھوں میں سرمہ لگا کر گھوڑے پر سوار کر کے صبح کو میدانِ صلیب میں بھیجا۔

اور پھر اس عالم نے کہا یہ روایت انجیل مقدس میں لکھی ہے، جس پر مجلس کے فوراً بعد اس مولوی صاحب سے میں نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ میں انجیل لاؤں مجھے دکھلا دیں اور بعد میں مولوی سید محمد نقوی صاحب کو بھی میں نے خط بھیجا کہ مذکورہ انجیل کا پتہ دیں مگر جواب ندارد۔

       کیا کچھ ہو گیا

ایک سید صاحب قصبہ نانوتہ میں شیعہ سے سنی ہو گئے ہیں کل تک وہ مولوی صاحب، حدیث خوان مجلس خوان تھے ان کی مجلس خوانی میں بڑی وقعت و عزت تھی۔ ان کو ہر محرم میں حدیث خوانی میں اجرت دے کر پڑھواتے تھے، اب وہ سنی ہو گئے ہیں۔

تو وہ توبہ ! توبہ شیعہ کے نزدیک بد معاش بن گئے ، جاہل بن گئے اور پتہ نہیں ان کے نزدیک کیا کچھ ہو گئے۔

تحریف قرآن پر میرا سوال اور ان کا جواب

میں نے تحریف قرآن کی چند معتبر روایتیں شیعہ علماء کے سامنے پیش کیں مثلاً سیدنا باقرؒ نے فرمایا کہ بس قرآن کو تحریف کر دیا گیا اور لوگوں نے اس میں ادل بدل کر دیا ہے ( حیات القلوب جلد 3 صحفہ 41 سطر 16) اس طرح کی اور روایتیں۔

تو انھوں نے جواب دیا کہ جن آیتوں میں روزہ نماز وغیرہ کا حکم ہے اور جو آیتیں نہایت ہی ضروری ہیں ان میں کچھ نہیں بدلا گیا ، بلکہ حضرات اماموں کی بابت جو آیات تھیں ان میں گھٹا دیا گیا ہے، ادل بدل کر دیا گیا ہے۔

             جواب پر نظر

مگر جواب دیتے وقت کچھ خیال نہ کیا دیکھو ! وضوء کے حکم میں شیعہ کہتے ہیں ارجلکم میں لام پر زیر تھی اس کو زبر کر دیا جس کی جگہ پیروں کے مسح کی جگہ پیر دھونا ہوگیا تو سارا وضوء غلط کر دیا جب وضوء غلط تو نماز غلط ہوئی ، پھر کس منہ سے کہتے ہیں کہ نماز وغیرہ کی آیتوں میں رد و بدل نہیں ہوا۔

اور لیجئے ! سب سے بڑا جھگڑا سیدناعلیؓ کی خلافت پر ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد سیدنا علیؓ اللہ کے حکم سے خلیفہ مقرر ہوئے تھے

 ”یا ایھا الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك في ولاية على ،

اے رسول ! بتلا دے تو وہ جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے سیدنا علیؓ کی خلافت کی بابت، شیعہ روایات میں ہے اس آیت میں سے فی ولایہ علی کے لفظوں کو نکال دیا بھلا اس سے بڑھ کر اور کون سی رد و بدل ہو گی کہ جس پر سنی شیعہ کے سارے جھگڑے کا دارو مدار ہے پھر یہ کہنا ضروری آیتوں میں تبدیلی نہیں ہوئی“ کہاں تک ٹھیک ہے ، جب اسلام کیلئے خلافت اتنی ضروری ہے جتنی کہ رسالت تو خلافت کے الفاظ نکالنے سے سارا اسلام گیا گزرا ہوا۔ پھر جب شیعہ کے نزدیک قرآن سے ایک اصول ایمان خلافت سیدنا علیؓ غائب ہوگیا اور صحیح وضوء غائب ہو گیا تو تحریف اس سے زیادہ کیا ہو گی ۔

میرا سوال اور ان کا جواب

میں نے شیعہ علماء سے سوال کیا کہ سیدنا علیؓ نے اپنے صحیح کیے ہوئے قرآن کو شیعوں میں رواج کیوں نہیں دیا! اور باقی اماموں نے اسکو اپنے شیعوں سےکیوں چھپائے رکھا اور آج تک چھپائے ہوئے ہیں۔

صفحہ 3 از 4