تلاش حق داستان هدایت ..... محمد حسین صاحب مختار - ردِ…

تلاش حق داستان هدایت ..... محمد حسین صاحب مختار

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 4 از 4

اس سوال کا جواب یہ دیا گیا کہ حضرت امام اپنا قرآن شیعوں کو دیتے تو مسلمانوں میں دو قرآن ہو جاتے اور فرقہ بندی ہو جاتی۔

             جواب پر نظر

مگر انھوں نے جواب دیتے وقت کچھ سوچ کر جواب نہ دیا کہ مسلمانوں میں اب کس قدر فرقے ہیں اور فرقہ بندی تو اب بھی ہوئی لیکن یہ کسی قدر نقصان ہوا کہ خود شیعوں کے پاس بھی صحیح قرآن نہیں ہے جس سے وہ کسی بھی سوال کا جواب دے سکیں۔ آج اگر شیعوں کے پاس صحیح قرآن ہوتا تو وہ دکھلا دیتے کہ وضوء کا صیح طریقہ یہ ہےاور سیدنا علیؓ کی خلافت کی بابت اس طرح آیت نازل ہوئی تھی اور دیکھو یہ یہ لفظ ان آیتوں میں سے بدل دیے اور نکال دیے۔ شیعہ صاحبان اگر اپنا صحیح قرآن پڑھتے تو اور کوئی نہ مانتا مگر میں تو مان لیتا اور در در پھر کر سنی تو نہ ہوتا ۔

امام زمانہ کے متعلق میرا سوال اور ان کا جواب

حضرت امام زمانہ کے متعلق میں نے سوال کیا تو ان کی نسبت یہ جواب دیا کہ ان کی طرف سے مولوی صاحبان ھدایت کیلئے نائب ہیں۔

         جواب پر نظر

مگر ان کا جواب میری سمجھ سے باہر ہے کہ ایک روحانی ھادی کے نائب بلا سند کیسے ہو گئے؟ معصوم کے نائب غیر معصوم کیسے بن گئے؟ اگر خود بن گئے یا لوگوں نے بنا دیا تو معلوم ہوا کہ لوگ روحانی ھادی کا نائب یعنی حضرت رسول اللہ

ﷺ کا خلیفہ بھی بنا سکتے ہیں تو پھر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کے بعد سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو خلیفہ بنالیا تو یہ قاعدہ کے خلاف کیسے ہے؟۔

         افسوس

بھائیو! مجھے اصلی قرآن لا دو جو تمہارے نزدیک امام کے پاس ہے ، یا حضرت امام زمان کی زیارت کرادو ، مجھے تو یہ افسوس ہے کہ آج میرے پاس اگر سیدنا علیؓ والا قرآن ہوتا یا حضرت امام زمان ظاہر میں ہادی ہوتے تو سارا جھگڑاہی ختم تھا پھر تو میں اپنے شیعی قرآن سے اہل سنت و جماعت کی خوب ہی خبر لیتا اور پکڑ پکڑ کر اپنے امام زمان کے پاس لے جاتا اور ھدایت کراتا۔

    شیعہ مذھب چھوڑ دیا:

مجھے خود مشکل پڑ گئی کہ کوئی صاحب شیعوں والا اور اماموں کا جمع کردہ قرآن نہ دکھلا سکے، نہ حضرت امام زمان تک جزیرہ اخضر وابیض میں پہنچ سکا ، حضرت امام کےنائیوں نے بلا فیس للہ بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا واسطہ دینے کے باوجود بھی جواب نہ دیئے، میری مدد نہیں فرمائی آخر مجبوراً میں نے شیعہ مذہب چھوڑ دیا ۔ خاکسار، محمد حسین صاحب مختار عدالت کلکٹری سہارنپور 28 فروری 1934

 (ماخوذ از برق برخرمن شیعہ)

سیدنا جعفر صادقؒ کا فرمان

قالَ جَعْفَرُ الصَّادِقُؒ فِي مَرَضِ مَوْتِهِ

اللهُمَّ إِنى أُحِبُّ أَبَابَكْرٍؓ وَعُمَرَؓ فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِي غَيْرُ ذَلِكَ فلا تنلني شَفَاعَةٌ مُحَمَّدٍ ﷺ

 (الحسام المسلول على منتقصى اصحاب رسول اللہﷺ جلد 1صحفہ 73مؤلفہ محمد بن عمر بن مبارک الحضرمی المتوفی 930ھ)

سیدنا جعفر صادقؒ نے مرض الوفات میں کہا:

اے اللہ بے شک میں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدناعمرؓ سے محبت رکھتا ہوں اگر میرے دل میں اس کے علاوہ کوئی چیز (بغض و نفرت) ہو تو (قیامت

کے دن) مجھے محمد رسول اللہﷺ کی شفاعت نصیب نہ ہو۔


صفحہ 4 از 4