Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عام الرمادہ میں ادائیگی زکوٰۃ میں تاخیر کا جواز

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عام الرمادہ میں لوگوں کے لیے زکوٰۃ کی واجبی و فوری ادائیگی موقوف کر دی، اور جب قحط سالی ختم ہوئی، زمین ہری بھری ہو گئی تب آپ نے عام الرمادہ کی زکوٰۃ لوگوں سے وصول کی، گویا آپؓ نے اسے مال داروں پر قرض شمار کیا اور ایسا اس لیے کیا تاکہ ضرورت مند افراد کی ضرورت پوری ہو جائے اور ایسے وقت میں ایک محفوظ سرمایہ بنے، جب کہ بیت المال کا خزانہ خرچ کرنے کے بعد خالی ہو چکا ہو گا۔ 

(الخلافۃ والخلفاء الراشدون: صفحہ 166)

چنانچہ یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے قحط سالی کے موقع پر صدقات کی وصولی کو مؤخر کر دیا، اور عاملین صدقات کو نہیں بھیجا، لیکن جب دوسرا سال آیا اور اللہ نے قحط سالی ختم کر دی تو سیدنا عمرؓ نے انہیں حکم دیا کہ جائیں اور مالداروں سے دو سال کی زکوٰۃ وصول کریں، ایک سال کی زکوٰۃ کو ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیں اور ایک سال کی زکوٰۃ لے کر میرے پاس آئیں۔ 

(الشیخان بروایت بلاذری: صفحہ 324)