اللہ کا کرم داستان ہدایت (مولانا سید محمد علی شاہ صاحب…

اللہ کا کرم داستان ہدایت (مولانا سید محمد علی شاہ صاحب رحمۃ ﷲ علیہ )

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 3

   مولانا اللہ وسایا صاحبؒ لکھتے ہیں راقم عینی گواہ ہے کہ 1968ء ماہ شوال کے ساتھ تاریخ کو جھوک وڑھیل تھانہ نوشہرہ جدید ضلع بہاولپور میں مناظرہ تھا مولانا عبد الستار تونسویؒ مناظر تھے معین مناظر مولانا سید محمد علی شاہ صاحبؒ پپلی راجن مولانا حافظ اللہ بخشؒ گروان اہلِ سنت کی طرف سے تھے یہ حضرت کی جانب سے مولانا محمد اسماعیل گوجروی مناظر تھے ان کے معاون مولوی قاری سعید الرحمنؒ تھے مناظرہ میدان میں ہونا تھا سامعین شائقین اور ناظرین کے دونوں جانب سے ٹھٹھ لگے ہوئے تھے شیعہ نمائندے اہلِ سنت نمائندوں سے بات طے کر کے جاتے لیکن مولوی محمد اسماعیل پھر مکر جاتے دن بھر یہ کیفیت رہی لیکن شام تک شیعہ مناظر اپنے رہائشی مکان سے باہر نہ آئے مولانا علامہ تونسوی صاحبؒ صبح سے میدان میں اسٹیج پر براجمان ہوگئے جب مالی محمد اسماعیل گوجروی کسی طرح مناظرہ پر تیار نہ ہوئے تو شیعہ سنی رہنماؤں نے مولانا تونسویؒ سے درخواست کی کہ وہ تقریر کریں مولانا تونسوی صاحبؒ کی ڈاڑھی کالی 42 سال عمر شباب کا جوبن بھرپور قد کاٹھ چہار پہلو وی ٹوپی سفید کپڑے سینے پر پستول آویزاں ہوا خطاب کیا کیا جادو کر دیا۔ ان کی ایک ایک للکار شیر کی دھاڑ معلوم ہوتی تھی ایک ہی خطاب میں ہزاروں لوگوں کے عقائد کو صحیح کر گئے۔

(ماہ نامہ لولاک فروری 1434)

ایک دفعہ رافضیوں سے مباہلہ طے ہوا آپ اپنے اہل و عیال و رفقاء کو لے کر مقام مباہلہ پر پہنچ گئے مگر دوسرے فریق نے بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

     عالم بے بدل

آپ مناظر، خطیب،علم و فضل ، دلائل کی پختگی،غضب کا حافظہ، فقہ کی جزئیات پر عمیق نظر،اور آپ کے مجاہدانہ کردار نے آپ کو مقبول عام بنا دیا تھا علاقے کے عوام آپ سے دلی محبت کرتے تھے ان کے چشم آبرہ کے اشارے پر جان بازی کی لگانے پر تیار ہو جاتے تھے آپ کے فتوی کو حرف آخر سمجھا جاتا تھا۔ مولانا سید محمد علی شاہ صاحبؒ سائیکل پر سوار جا رہے ھیں راستے میں کسی نے روک لیا سائیکل سے اترے اس نے فتوی پوچھا جیب سے قلم کاغذ نکالا سورۃ مسئولہ لکھی خود ہی جواب لکھا دستخط کیے دنیا کے کسی دارالافتاء یا ہائی کورٹ تک وہ فتوی جاتا اس میں ایک لفظ کی کوئی تغلیط یا ترمیم نہ کر سکتا اتنے ذہین تھے کہ کتابوں کی طرف مراجعت کے بغیر زبانی سب کام چلاتے تھے تمام پڑھی ہوئی کتب کا کتب خانہ ان کا اپنا ذہن ہوتا تھا جس میں کمپیوٹر کی طرح ڈیٹا جمع ہوتا تھا

میں جانا فرض سمجھتا ہوں

راقم (مولانا اللہ وسایا صاحبؒ شاہین ختم نبوت) کے استاد محترم مولانا حافظ اللہ بخش صاحبؒ آپ کے شاگرد رشید ہیں فقیر راقم خان پور سے دورہ حدیث شریف کر کے گھر آیا تو میرے والد صاحب مرحوم نے استاد محترم مولانا حافظ اللہ بخش صاحب سے فرمایا کہ اسے دین کے کام پر لگانا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں تو زمیندار ہوں میرا کام حاضر ہے آج سے شروع کر دے مولانا حافظ اللہ بخش صاحب اپنے استاد مولانا سید محمد علی شاہ صاحب کے پاس تشریف لے گئے شاہ صاحب نے مولانا علی جالندھری کو خط لکھا کہ ہمارے علاقے سے ایک نوجوان اس سال فارغ التحصیل ہوئے ہیں آپ ان کو جماعت میں شامل کر لیں۔

  مولانا محمد علی جالندھری نے حضرت شاہ صاحب کو خط لکھا مولانا لال حسین اخترؒ نے فجی آئی لینڈ سے ایک عالم دین کو بھیجا ہے ان کے لیے اسپیشل (شوال المکرم) میں تربیتی کلاس کھولنی ہے آپ ان کو بھی بھیج دیں چنانچہ مولانا عبد المجید فجیؒ آئی لینڈ مولانا بشیر احمدؒ مہتمم جامعہ عثمانیہ شور کوٹ اور فقیر راوم پر مشتمل سہ رکنی جماعت نے فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ سے رد قادیانیت کا دو ماہی کورس مکمل کیا امتحان ہوا اللہ رب العزت نے فضل فرمایا امتحان سے فراغت کے بعد مولانا اقدس محمد علی جالندھریؒ نے فرمایا کہ (1) آپ امتحان میں اچھے نمبروں پر کامیاب ہوئے (2) آپ کے استاد مولانا محمد حیاتؒ نے آپ کو جماعت میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے (3)آپ کے متعلق مولانا محمد علی شاہ صاحبؒ نے خط لکھا ہے۔

مولانا محمد علی شاہ صاحب میرے (مولانا محمد علی جالندھریؒ) کے نزدیک اس لیے قابل احترام ہے کہ سیدنا امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری صاحبؒ ان کا احترام اور ان کی رعایت کرتے تھے آل انڈیا مجلس احرار کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس چھوڑ کر پپلی راجن کے جلسے میں سیدنا امیر شریعتؒ شریک ہوتے تھے۔ چوہدری افضل حق مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ سیدنا امیر شریعتؒ سے اصرار کرتے کہ آپ اجلاس کو بھگتا کر جائیں تو شاہ جیؒ فرماتے تھے کے پورا خاندان اور علاقہ رافضی ہے وہاں ایک سید ہے (محمد علی شاہ صاحبؒ) اس کے جلسے پر میں جانا فرض سمجھتا ہوں۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے یہ تین باتیں ارشاد فرما کر مجھے حکم فرمایا کہ آپ تیاری کریں آج سے ہی میرے ساتھ جماعت کے پروگرام پر چلنا ہے اس لحاظ سے مجلس میں فقیہ کی شمولیت کا باعث بھی سیدنا مولانا محمد علی شاہ صاحبؒ تھے۔

کلمہ پڑھتے ہوئے کوچ کر گئے

صفحہ 2 از 3