اللہ کا کرم داستان ہدایت (مولانا سید محمد علی شاہ صاحب…

اللہ کا کرم داستان ہدایت (مولانا سید محمد علی شاہ صاحب رحمۃ ﷲ علیہ )

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 3 از 3

 93 سال کی عمر پائی داڑھی کے بال دوبارہ سیاہ ہونا شروع ہو گئے تھے آخری وقت تک تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے اتنی بڑی عمر کے باوجود بڑے مضبوط قوی کے انسان تھے۔ قدرت نے علم و عمل کی طرح صحت کی دولت سے بھی نوازا تھا 17 جنوری کو مبارک پور کے قریب کسی گاؤں میں خطاب کیا مغرب کی نماز کی امامت شروع کی پہلی رکعت میں جب انعمت عليهم پر پہنچے تو خاموش ہو گئے کچھ دیر خاموش کھڑے رہے مقتدی پریشان ہو گئے آپ نے زور سے اللہ اللہ ! اللہ ! کہا اور لوگوں کے دل ہلا دیے نماز توڑ کر ساتھی آگے بڑھے اور آپ کو پکڑ کر بٹھا دیا فرمایا تم اپنی نماز پوری کرو ساتھی نماز سے فارغ ہوئے فرمایا مجھ پر فالج کا حملہ ہوا ہے آپ لوگ گواہ بن جائیں کہ میں تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور پھر کلمہ شریف کا بار بار ورد کرتے رہے لوگوں کو کہا تم بھی کلمہ پڑھو کلمہ پڑھتے پڑھتے فالج کا اثر زبان پر پہنچا سواری کرا کے گھر لایا گیا صبح پانچ بجے راہی ملک بقاء ہوئے۔ آپ کی وصیت کے مطابق اسلامیہ مشن بہاولپور کے شیخ الحدیث مولانا محمدحنیف نے نماز جنازہ پڑھائی بلا مبالغہ ہزاروں کا اجتماع تھا مرد، عورتیں ، چھوٹے بڑے سب ان کے انتقال پر رو رہے تھے یہ ان کی قبولیت عامہ اور مقبولیت عند اللہ کی دلیل ہے وصیت کے مطابق عام قبرستان میں ہمیشہ کیلئے محو خواب ہوگئے اللہ رب العزت ان پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں

(فراق یاراں صفحہ 301 تا 304 مؤلفہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب شاهین ختم نبوت)


صفحہ 3 از 3