ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 1 از 19

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت ..... سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی

 میں جوانی میں شیعہ امامیہ میں سے تھا اور اپنے آباء کا مقلد تھا باوجود اس کے کہ میں طالب علم اور علوم دینیہ کے حصول میں مگن تھا میری یہی حالت رہی حتی کہ میں نے ان کے علماء اور مراجع کی تصدیق سے مجتہد کا درجہ حاصل کر لیا میں متعصب قسم کا شیعہ تھا اور اس مذہب کا مبلغ اور داعی شمار ہوتا تھا ہم اور ہمارے جیسے دوسرے مجتہدین شیعہ مذہب کی خرافات کو صحیح ثابت کرنے کیلئے کمزور توجیہات کا سہارا لیتے تھے جن پر ہم خود بھی مطمئن نہیں ہوتے تھے میں نے اپنے سابقہ مذہب کے مطابق بہت ساری تصانیف کی ہیں ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے مذہب کے علماء ہادی اور مہدی ہیں یہاں تک کہ جب میری عمر چالیس سال کو پہنچی تو میں نے کتاب اللہ کی آیات میں تدبر اور غور و فکر شروع کر دیا، میں نے دیکھا کہ میرے مذہب کے بہت سے مسائل قرآنی آیات کے موافق نہیں ہیں بلکہ میرے مذہب کی اکثر روایات بھی آیات قرآن کے خلاف ہیں تو اللہ تعالی نے اپنی آیات کی برکت سے مجھے ہدایت دی اللہ تعالی اپنی کتاب کے ساتھ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ان کی کہانی ان کی اپنی زبانی سنئے .....

الحمد لله الذي هدى عبده الفقير العاجز الى نور التوحيد واخرجه من الظلمات الداكنة الى المحجة البيضاء التي ليلها كنهارها فادرك الحق ونبذ الباطل فقد هداني ربي الى صراط مستقيم فله الحمد وله الشكر الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا ان هدانا الله الهى و خالقى ورازقي انت دللتني اليك ولولا انت لم ادر ما انت والصلاة والسلام على الرسول المحمود محمد المصطفى وعلى اهله واصحابه واتباعه الذين اتبعوه باحسان الى يوم لقاءه بعدد خلق الله ورضى نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته اما بعد...

 میرے بعض دوستوں اور محبت رکھنے والوں نے مجھ سے اصرار کیا کہ میں اپنی زندگی کے واقعات اور اپنے گذشتہ دنوں کے حالات لکھ دوں جن میں اپنے عقائد اور اس حق کی وضاحت کردوں جس تک میں اپنی زندگی کے مراحل میں پہنچا، تا کہ میرے مرنے کے بعد میرے دشمن مجھ پر کوئی تہمت نہ لگا سکیں اور خواہشات اور توہمات کے پجاریوں اور بدعات وخرافات میں مبتلاء لوگوں میں سے جس نے مجھ پر زبان درازی کی ہے اور مجھ پر طعن و تشنیع کی ہے وہ مجھ پر کوئی جھوٹی بات نہ گھڑ سکے۔ کوئی شک نہیں کہ جو آدمی بھی اسلام کا جھنڈا بلند کرتا ہے اور شرک و بدعت اور بتوں کے پھینکنے کی دعوت دیتا ہے تو اس کے سامنے اتنی ہی تعداد میں دشمن آتے ہیں جتنی کہ بدعتیں اور خواہشات ہیں جو نہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور نہ ان میں تقوی و خشیت ہے اس لیے وہ اپنے مخالفین کو کافر کہنے اور فسق و فجور سے متہم کرنے سے باز نہیں آسکتے بلکہ وہ اپنے ان اعمال سے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مذہب کے اصول میں سے ہے اور اس پر اجر و ثواب ملے گا اور انھوں نے ان جیسے اعمال شنیعہ کیلئے جن کو نہ عقل پسند کرتی ہے اور نہ کوئی انسانی احساس قبول کرتا ہے جھوٹی حدیثیں اور من گھڑت روایات اپنی کتب حدیث میں درج کی ہوئی ہیں۔ جاہل اور عام لوگ بہت زیادہ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ صحیح حدیثیں ہیں پھر ان پر عمل کر کے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ میں اپنے آپ کو عظیم خالق کے سامنے ایک حقیر اور کمزور بندہ سمجھتا ہوں اور مجہول لوگوں میں سے شمار کرتا ہوں اس لیے مناسب تو نہیں ہے کہ میں اپنی ذاتی سیرت لکھوں تاکہ اس کے ذریعے میں زمانہ میں اپنی شہرت کا طالب بن جاؤں لیکن میں اپنے دوستوں کے اصرار کو چھوڑ نہیں سکتا اس لیے میں ان کی بات قبول کرتے ہوئے مجبور ہوں کہ میں اپنے کچھ حالات لکھوں اگرچہ میں نے اپنی دوسری تصنیفات میں بعض حالات کی طرف بطور وعظ و نصیحت کے اشارہ کر دیا ہے

نسب نامه

 میری ولادت ایران کے شہر قم میں ہوئی تیس نسلوں سے میرے آباء اسی شہر میں رہ رہے ہیں میرے جد اعلی جو اس شہر میں آکر ٹھہرے تھے وہ سیدنا موسی مبرقع بن سیدنا محمد تقی بن سیدنا السید علی بن موسی الرضا ہیں ان کی قبر آج بھی قم شہر میں مشہور و معروف ہے چونکہ ہمارا شجرہ نسب سیدنا موسی مبرقع تک پہنچتا ہے اس لیے ہمیں برقعی کہا جاتا ہے اور چونکہ ہم سیدنا رضا کی اولاد سے ہیں اس لیے ہمیں رضوی یا ابن الرضا کہا جاتا ہے میں نے بھی اسی وجہ سے اپنے شناختی کارڈ پر اپنا نام ابن الرضا لکھوایا ہے۔

صفحہ 1 از 19