ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 10 از 19

 اللہ تعالی قیامت کے دن فرمائیں گئے آج کے دن ہر نفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا آج کسی پر ظلم نہ ہوگا بیشک اللہ جلد حساب لینے والے ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ شیعہ حکومتی لوگ یہ واجب اور ضروری کام نہیں کر سکتے اور نہ لوگوں کو اس بارے میں آزاد چھوڑ سکتے ہیں بلکہ جو آدمی بھی حق کی دعوت دیتا ہے اس کو یہ لوگ جیل خانوں کے اندھیروں میں ڈال دیتے ہیں یا اپنی وحشی بندوقوں کا نشانہ بنا دیتے ہیں جیسا کہ انھوں نے میرے ساتھ کیا ہے۔ علامہ عبد الحسین شرف الدین کی کتاب المراجعات پر تبصرہ میرے بعض دوستوں نے میری طرف ایک کتاب بھیجی جس کا نام مراجعات تھا اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس کتاب کو دیکھوں اور اس کے توہمات کو حقائق سے جدا کروں ، یہ کتاب شیعہ امامیہ کی ایک عالم سید عبد الحسین شرف الدین کی ہے اس کتاب کے اندر مصنف نے یہ دعوی کیا ہے کہ شیعہ کا مذہب عترت اور اہلِ بیت والا ہے اس کتاب کے اندر اہلِ السنت کے ایک عالم کی طرف سے سوالات ذکر کر کے جوابات دیے ہیں اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ مسلمانوں کا ہر گروہ دوسرے گروہ کے ساتھ بغض اور عناد رکھتا ہے چنانچہ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں یہ بھائی جن کی بنیاد ایک ہے جن کا عقیدہ ایک ہے جب یہ جمع ہوتے ہیں تو افسوس ہے کہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوتا ہے۔ یہی چیز افسوس غم اور فکر کا باعث ہے اس کی کیا تدبیر ہوسکتی ہے پھر آگے جا کر لکھتے ہیں چنانچہ میں مصر گیا اور میری اچھی قسمت نے مجھے ایک عالم دین کے ساتھ جمع کر دیا میں نے اس سے اپنے غم کا اظہار کیا اور اس نے مجھ سے اسی چیز کی شکایت کی وہ بڑی اچھی گھڑی تھی جس نے ہمیں ایسے طریقے کے متعلق سوچنے پر مجبور کر دیا کہ جس کے ساتھ مسلمانوں کی جماعت متحد ہو جائے اور امت کی پراگندگی ختم ہو جائے پس جس چیز پر ہمارا اتفاق ہوا وہ یہ تھی کہ شیعہ سنی دونوں مسلمان ہیں دونوں کا دین اسلام ہے ان کے درمیان کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے ان کے درمیان اختلاف ایسے ہے جیسا کہ مجتہدین کی درمیان بعض احکام میں اختلاف ہے علامہ برقعی فرماتے ہیں کہ جب میں نے اس کتاب میں غور و فکر کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ جیسے شرف الدین عبد الحسین کہہ رہے ہیں حقیقت اس کے خلاف ہے کیونکہ بہت سارے مذاہب کا وجود میں آنا اور عقائد باطلہ کا پیدا ہونا یہ سب کچھ دشمنان اسلام کی جانب سے تھا کہ جب انہوں نے دیکھا کہ اسلام کی شوکت بڑھتی جارہی ہے اور لوگ اس دین اسلام کے اصول و فروع کو کثرت سے قبول کر رہے ہیں تو انھوں نے فاسد عقائد اور باطل جھوٹی احادیث گھڑ کر اسلام اور ائمہ دین کی طرف منسوب کر دیں خاص طور پر ائمہ اہلِ بیت کی طرف اور انہوں نے اپنے لیے ائمہ اہلِ بیت کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور ان کے مبارک ناموں کے نیچے چھپے رہے ائمہ اہلِ بیت کے ناموں کا جھنڈا لے کر اس کے نیچے خرافات اور کفریہ عقیدے پھیلاتے رہے اور جب ائمہ اس سے براءت ظاہر کرتے تو یہ دشمنان اسلام کہتے کہ یہ ائمہ تقیہ کرتے ہیں، اسلام کی عمارت گرانے کیلئے سب سے بڑا ہتھیار جو انھوں نے استعمال کیا وہ یہ تھا مسلمانوں کی درمیان تفرقہ بازی ڈال دو، من گھڑت حدیثیں پھیلا دو اور ائمہ اہلِ بیت کے نام سے مختلف مذاہب پیدا کر دو، شیعہ مذہب کے راوی انہی دشمنان اسلام میں سے ہیں کیونکہ اس مذہب کے اکثر راوی مجہول اور کذاب جھوٹے ہیں یا ضعیف و کمزور ہیں یا ایسے لوگ ہیں جن کا کوئی دین ہی نہیں تھا یا غالی قسم کے گمراہ لوگ تھے جو جھوٹ اور تفرقہ بازی میں مشہور تھے۔ چنانچہ شیخ علامہ حرعاملی لکھتے ہیں الثقات الاجلاء كاصحاب الاجماع ونحوهم يروون عن الضعفاء والكذابين والمجاهيل حيث لا يعلمون حالهم ويروون عنهم ويعلمون بحديثهم يشهدون بصحته (وسائل الشیعہ جلد 30 صفحہ 206) ثقه ترین علماء جیسے اجماع والے اور ان کے علاوہ وہ ضعیف کذاب اور مجہول لوگوں سے روایت کرتے ہیں حالانکہ وہ ان کے حالات نہیں جانتے مگر ان سے روایت کرتے ہیں اور ان کی حدیث کو پڑھتے پڑھاتے ہیں اور اس حدیث کے صحیح ہونے کی گواہی دیتے ہیں شیخ ابو جعفر طوسی لکھتے ہیں ان كثيرا من مصنفى اصحابنا واصحاب الاصول ينتحلون المذاهب الفاسدة وان كانت كتبهم معتمدة (الفہر ست صفحہ 32) بیشک ہمارے شیعہ مذہب کے اکثر مصنف اور اصولی محققین فاسد مذہب رکھتے تھے اگرچہ ان کی کتابیں معتبر ہیں۔ امیر المؤمنین سیدنا علیؓ اور تمام اہلِ بیت کے افراد نے کوئی نیا مذہب نہیں گھڑا اور نہ ہی انہوں نے کبھی دعوی کیا ہے کہ ان کا مذہب امامی ہے یا اسماعیلی، زیدی ہے یا باطنی ، شیخی ہے یا اثنا عشری ، جتنے بھی شیعہ کے مذاہب آج موجود ہیں ان میں سے کسی کو انہوں نے اپنا مذہب قرار نہیں دیا اور نہ ان کی نیک اولاد نے اپنے آپ کو کسی کی طرف منسوب کیا ہے بلکہ سارے کے سارے کتاب وسنت کے تابع تھے ، انھوں نے اپنے نانا کی سنت کے علاوہ کسی نئی سنت کا دعوی نہیں کیا لیکن شیعہ امامیہ کہتے ہیں کہ بارہ سنتیں ہیں ہر امام کی اپنی سنت ہے۔ کتاب مراجعات کے مصنف کو کہا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنی اس بات میں سچا ہے کہ ہم نے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ ہم اس مسئلہ کو دونوں فریقوں کے دلائل میں غور و فکر کر کے حل کریں گے تو وہ (عبد الحسین شرف الدین) اپنے مذہب کی کتابوں کو غور سے کیوں نہیں دیکھتا خاص طور پر اپنی عظیم ترین اور مضبوط ترین کتاب یعنی کلینی کی اصول کافی کو کیوں غور سے نہیں دیکھتا تاکہ وہ اپنا امامیہ مذہب اچھی طرح جان لے؟ بلکہ اس نے یہ کتاب پڑھی ہے اور جان بوجھ کر جاہل بن رہا ہے ۔ اس کتاب میں مہاجرین اور انصار پر لعنت اور طعن و تشنیع بھری ہوئی ہے اس کے ہر باب میں عقل اور قرآن کے مخالف روایات ہیں نیز اس میں یہ روایات بھی ہیں کہ قرآن محرف ہے اور مصنف نے اپنی اس کتاب میں بے شمار ایسی آیات کا ذکر کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ ان میں تحریف ہوئی ہے اور اس کتاب میں فاسد عقائد اور باطل نظریات کو ذکر کیا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ شخص اسلام کا دشمن تھا۔ سنی علماء پر لازم ہے کہ وہ کتاب اصول کافی یا اس کے علاوہ شیعہ کی دوسری کتابوں میں سے کسی ایک کتاب کا مطالعہ تو کریں تا کہ ان کو شیعہ مذہب کے کفریہ عقیدے اور شیعہ مذہب کی خرافات نظر آسکیں اور وہ جان لیں کہ شیعہ کی اسلام سے کیسے دشمنی تھی ؟ اسی طرح وہ ان کی کتابوں میں غالی اور بے دینوں کی روایات کو پڑھیں تاکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ اختلاف صرف امامت کی وجہ سے نہیں ہے؟ اور نہ

صفحہ 10 از 19