ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 12 از 19

 اے موجودہ امت کے لوگو! کیا اس زمانے میں امامیہ شیعوں کی حکومت گذشتہ حکومتوں سے زیادہ سخت ہیں یہ حکومتی لوگ تمھاری اولاد کو قتل کر رہی ہے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھ رہی ہے تمھارے تمام معاملات حکومت کے اختیار میں ہیں تمہارے اختیار میں نہیں ہیں تم نہ اپنے مالوں کی طرف سے مطمئن ہو اور نہ تم اپنے گھروں اور تجارت کی طرف سے مطمئن ہو، تمھاری حج تمھارے معاملات تمام کے تمام تمہارے اختیار میں نہیں حکومت کے اختیار میں ہیں تمہاری کتابوں پر پابندی ہے تمھارے دین کے حقائق چھاپنے کی اجازت نہیں اگر تمھارے پاس عقل اختیار اور طاقت ہے تو پہلے اپنی موجودہ حکومتوں کو درست کرو ورنہ گذشتہ حکومتوں کو اب درست کرنا تو محال ہے کیا تمہارے پاس اتنی طاقت ہے کہ گذشتہ حکومتوں کے عوض کوئی دوسری حکومتیں بنا سکو؟ کیا ممکن ہے کہ سیدنا علیؓ اور سیدنا ابوبکرؓ کو ہم زندہ کریں اور سیدنا ابوبکرؓ کو معزول کر کے سیدنا علیؓ کو خلیفہ اور امام بنا دیں؟ کیا ہم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال کیا جائے گا پہلے زمانہ میں امامت و خلافت کے متعلق جو بحث کرتا ہے وہ بے وقوف ہے ہاں یہ بحث دشمنانِ اسلام نے جاہلوں کے درمیان ڈالی تھی تا کہ مسلمانوں کا اتحاد زائل ہو جائے اور پھر اس بحث کی آڑ میں ان دشمنان اسلام نے خرافات اور جھوٹ اور خاص مقاصد سے بھری ہوئی روایت اور احادیث گھڑیں اور ان کو ائمہ مسلمین خاص کر ائمہ اہلِ بیت کی طرف منسوب کیں اور دین کو فاسد و خراب کر دیا اور مسلمانوں کی غفلت سے خوب فائدہ اٹھایا اور اہلِ بیت کے نام سے منافقت مخالفت اور عداوت کی آگ بھڑکا دی حالانکہ اہلِ بیت نے کوئی مذہب نہیں گھڑا بلکہ وہ اس سے بری تھے۔ سید شرف الدین نے کتاب المراجعات مذہبی تعصب کی وجہ سے لکھی ہے حالانکہ دین اسلام ایک ہے اس میں کوئی مختلف مذاہب نہیں ہیں اور ائمہ اہلِ بیت کا ایک مذہب تھا یا کئی مذاہب تھے وہ مسلمان تھے یا غیر مسلم؟ کیا ان کا مذہب جعفری تھا یا امامی، شیخی تھا یا باطنی ، فاطمی تھا یا نصیری ؟ حالانکہ یہ سارے اپنے آپ کو اہلِ بیت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ وكل يدعى وصلا بليلي ....... وليلى لا تقر لهم بذلك یہ سارے لیلی سے وصال کا دعوی کرتے ہیں، حالانکہ لیلی ان کے اس دعوی کا انکار کرتی ہے شیعہ امامیہ مغلوں اور ہلاکوخاں وغیرہ کی حکومتوں پر تو راضی ہیں لیکن یہ شیعہ لوگ خلفاء راشدینؓ کی حکومتوں پر راضی نہیں ہیں۔ خواجہ نصیر الدین جو شیعہ کا بڑا عالم تھا اور اس کا شاگرد علامہ حلی اور ان کے پیرو کار مغلی بادشاہوں کے ہمنشین تھے اور انہی حالات میں وہ نبیﷺ کے خلفاء پر سب و شتم کرتے تھے اور ان کا اعتقاد تھا کہ مہاجرین اور انصار مرتد ہو گئے تھے اور اپنے ائمہ سے نقل کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہو گئے تھے سوائے تین کے حالانکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں تقریبا سو آیات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف کی ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کتب فی قلوبهم الایمان (المجادلة 22) کیا اہلِ بیت اور عترت رسول قرآن کریم کی ان آیات سے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف میں نازل ہوئی تھیں جاہل تھے؟ کیا یہ ائمہ اہلِ بیت ان مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر کہتے تھے جن کی کتاب اللہ میں تعریف کی گئی ہے؟ علماء امامیہ کہتے ہیں کہ صفوی بادشاہ جو نصاری کے مددگار تھے وہ خلفاء راشدینؓ سے بہتر ہیں اور شاہ طہماسب صفوی اور شاہ عباس کی مجلس علماء امامیہ سے بھری رہتی تھی حالانکہ یہ بادشاہ عیسائیوں کے دوست اور معاون تھے ۔ یہ صفوی بادشاہ اسلام دشمن عیسائیوں سے اسلحہ خریدتے تھے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ کی آگ بھڑکا دیتے تھے اور شیعہ علماء جنگ اور قتل و قتال کی نگرانی کرتے تھے بلکہ اہلِ السنت والجماعت کو کافر قرار دیتے تھے۔ علامہ مجلسی جو صفوی بادشاہوں کے دور میں شیخ الاسلام تھا وہ صفوی حکومت کی تعریف میں لکھتا ہے شيدها الله ووصلها بدولة القائم اللہ اس حکومت کو مضبوط کرے اور اس کو سیدنا مہدی کی حکومت کے ساتھ ملا دے ۔ حالانکہ صفوی حکومت نے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا تھا اور دین اسلام کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اگر سید عبد الحسین شرف الدین مسلمانوں کا خیر خواہ اور خادم ہے اور اس کے دل میں کوئی دنیاوی غرض نہیں ہے تو اس کے لائق اور مناسب یہ ہے کہ وہ دونوں گروہوں کو محمدی جماعت کی طرف دعوت دے اور جو عترت وائمہ اہلِ بیت کے نام سے مذاہب منسوب ہیں ان کو چھوڑ دے۔ کیا وہ جانتا نہیں کہ شیعوں کے تقریبا ستر مذہب بنے ہوئے ہیں اور ہر مذہب والا دوسرے کو کافر ٹہراتا ہے۔ اے شیعہ مذہب کی طرف دعوت دینے والے ! ذرا یہ تو بتاکہ شیعہ کے ان ستر مذاہب میں سے کون سا مذہب اتباع کے زیادہ لائق ہے؟ کیا اس نے شیعہ کے ایک بڑے عالم سعد بن عبد اللہ اشعری القمی کی کتاب "المقالات والفرق" نہیں پڑھی ؟ اسی طرح الشيخ المتكلم ابی محمد الحسن بن موسی النوبختی کی کتاب ”فرق الشیعہ“ اور ابو عیسی وراق کی کتاب المقالات وغیرہ نہیں پڑھیں انہوں نے شیعوں کے مختلف مذاہب ذکر کیے ہیں اور ان کی گنتی ذکر کی ہے جو سو تک جا پہنچتی ہے سعد بن عبداللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ امام ابومحمد حسن العسکری کی وفات کے بعد شیعوں کے پندرہ فرقے بن گئے تھے۔ کیا ہم اب بھی یہی کہیں گے کہ یہ سارے فرقے اور مذہب ائمہ اہلِ بیت کے بنائے ہوئے تھے؟ لہٰذا شیعہ مذہب کی طرف دعوت دینا ایسا ہے جیسے تفرقہ بازی کی طرف دعوت دینا ۔ اور سید شرف الدین تو اس تفرقہ بازی کی وجہ سے مغموم اور پریشان ہیں تو شیعہ مذہب کی طرف دعوت کیسے دے رہے ہیں؟

اہلِ بیت نے نیا مذہب نہیں گھڑا

صفحہ 12 از 19