ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 14 از 19

(3) تحریم متعه در اسلام

(4) بت شکن یا عرض اخبار اصول بر قرآن و عقول یا سیری در اصول کافی..... اس کتاب میں اصول کافی کی روایات پر جرح کی گئی ہے دو حیثیت سے (1) ان روایات کے راوی ضعیف یا مجہول یا کذاب یا بد عقیدہ و گمراہ تھے (2) یہ روایات قرآن اور عقل کے خلاف ہیں۔ اس کا عربی میں ترجمہ کسر الصنم کے نام سے ہو چکا ہے۔ (5)..... بررسی خطبه غدیریہ (6) نقد المراجعات . یه کتاب عبد الحسین شرف الدین کی کتاب المراجعات کا مختصر رد ہے۔

(7) ..... اصول دین از نظر قرآن (8) تضاد مفاتیح الجنان با آیات قرآن ... یہ کتاب شیعہ کی مشہور دعاؤں کی کتاب مفاتیح الجنان کا جواب ہے۔

 (9).... دعا ہائی از قرآن ۔

 (10) بررسی علمی در احادیث مهدی ..... اس رسالہ میں سیدنا مہدی کے متعلق شیعی روایات کے بارے میں تحقیق ہے۔ (11).... خرافات وفور در زیارات قبور ..... اس کتاب میں شیعہ مذہب میں جو زیارات کے حوالہ سے خرافات اور بدعات ہیں ان کا رد ہے

(12) علامہ ابن العربی کی کتاب العواصم والقواصم کا ترجمہ

(13) حديث الثقلين يا نصب الشيخين ....

(14) رہنمود سنت دررداہل بدعت ...... علامہ ابن تیمیہ کی کتاب منہاج السنۃ النبویہ کا

 (15) اختصار علامہ ذہبی نے المثقی کے نام سے کیا تھا علامہ برقعی کی یہ کتاب رہنمود سنت اس المثقی کا فارسی ترجمہ ہے۔(16) جامع المنقول في سنن الرسول (عربی)

(17) ترجمہ جامع المنقول في سنن الرسول (فارسی)

(18) ترجمه و شرح یکصد و ہشتادو دوخطبه از نہج البلاغه

 (19) مقدمه و حواشی بر کتاب شاہراہ اتحاد یا بررسی نصوص امامت

(20) ترجمه احکام القرآن شافعی

(21) حکومت جمهوری اسلامی (22) احکام القرآن

(23) سوانح ایام ... اس کتاب کے اندر علامہ برقعی نے اپنی سوانح خود لکھی ہے۔

 اصول دین علامہ برقعی کی نظر میں

 علامہ برقعی فرماتے ہیں

میں قم کے حوزہ علمیہ میں تعلیم کے دوران سے ہی آقائی شریعتمداری کو اچھی طرح جانتا ہوں وہ مجھے بھی اچھی طرح جانتے ہیں اور میرے احوال سے واقف ہیں ان کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں ایک واقعہ نقل کرتا ہوں جو فائدہ سے خالی نہیں ہے۔ ایک دن میں چند دیگر فضلاء کے ساتھ آقائی شریعتمداری کے گھر میں مہمان تھا کہ میں نے اصول دین کے متعلق بات چھیڑ دی اور میں نے ان سے پوچھا آیت اللہ صاحب اصول دین کتنے ہیں؟ انھوں نے کہا پانچ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی آیت یا حدیث بھی ہمارے پاس ہے کہ اصول دین پانچ ہیں۔ اس نے کہا نہیں۔ میں نے کہا پھر کس دلیل سے ہم کہتے ہیں کہ اصول دین پانچ ہیں تین یا چار یا چھ نہیں ہیں۔ وہ میرے سوال سے ڈر گئے اور کہنے لگے کہ ٹھیک ہے کہ ہمارے پاس کوئی صریح آیت یا حدیث نہیں ہے جس میں ہو کہ اصول دین پانچ ہیں لیکن ہمارے علماء تحقیق کے بعد عقلی دلائل اور علمی براہین سے اس نتیجہ تک پہنچے ہیں میں ان کے اس جواب پر ہنس پڑا۔ وہ تعجب کرنے لگے اور پوچھا آقائی برقعی کیوں ہنستے ہو؟ میں نے کہا یہ بات ہے بھی ہنسی کی کہ اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیغمبر کو بھیجا اور اس پر کتاب نازل کی اور لوگوں کو کہا ایمان لے آؤ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر لوگوں سے جہاد کرو تا کہ وہ ایمان لائیں لیکن اپنی کتاب میں یہ بیان نہ کیا کہ لوگ کتنی چیزوں پر ایمان لائیں ۔ بلکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مزید چند صدیاں صبر کرد حوزہ علمیہ کے علماء تمہیں دلائل عقلیہ اور براہین علمیہ سے تمہیں بتائیں گے کہ اتنی چیزوں پر ایمان لے آؤ۔ کیا ایسے مذہب پر ہنسنا نہیں چاہیئے اس وقت آقائی شریعتمداری خود بھی ہنسنے لگ گئے ۔

محترم قارئین ! تم جان لو کہ اصول دین اور ان کی تعداد کے بارے میں میں نے بہت سارے شیعہ علماء سے سوال کیا اور وہ تمام کے تمام جن میں آیت اللہ شریعتمداری بھی تھے آیات قرآن کے ساتھ دل کافی اور وافی جواب دینے سے بھاگتے تھے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر انھوں نے اصولِ دین کی وضاحت اور اصولِ دین کی تعیین میں قرآن کریم کی طرف رجوع کیا تو توحید نبوت اور معاد (آخرت) پر تو بہت سی آیات پیش کر دیں گے لیکن بقیہ اصول دین عدل اور امامت کے بارے میں وہ مشکلات سے دوچار ہو جائیں گے اسی وجہ سے وہ یہ بحث کرتے ہوئے ہرگز قرآن کریم کی طرف نہیں جائیں گے تاکہ سردردی میں مبتلا نہ ہوں اس لیے اگر وہ قرآن سے دلائل دیں گے تو پہلے وہ آیات ذکر کرتے ہیں جو توحید نبوت اور معاد پر دلالت کرتی ہیں اس کے بعد اگر چاہیں گے کہ وہ آیات جو اللہ تبارک و تعالی سے ظلم کی نفی کرتی ہیں ان کو اپنے اصل دین عدل کے بارے میں بطور دلیل کے پیش کریں تو لامحالہ ان پر اعتراض ہوگا کہ قرآن کریم میں کتنی آیات ہیں جو اللہ تبارک و تعالی سے جہالت ، غفلت اور کمزوری وغیرہ کی نفی کرتی ہیں تو پھر ان آیات کی وجہ سے علم احاطہ اور قدرت کو اصول دین میں شامل کیوں نہیں کرتے؟ تو وہ لاچار ہو کر کہتے ہیں کہ چونکہ عدل کے معنی میں ہماری اشاعرہ کے ساتھ موافقت نہیں ہے ان سے امتیاز کی خاطر ہم نے عدل کو اصول دین میں داخل کیا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ عدل کے بارے مناظرے شروع ہو گئے بہر حال واضح ہو گیا کہ مسلمانوں میں جو علم کلام کے لحاظ سے اختلاف پیدا ہوا اس سے پہلے صدر اسلام صحابہ واہلِ بیت کے زمانہ کے ساتھ اس اصول عدل کا کوئی تعلق نہیں ہے حالانکہ اصول دین وہی ہوتے ہیں جو صدر اسلام سے لے کر اب تک برابر چلے آ رہے ہوں اور خود شارع نے ان کو بیان کیا ہو نہ یہ کہ پہلے زمانہ میں اصول دین اور ہوں اور بعد والے زمانہ میں اور ہو جائیں نیز بہت ساری آیات ہیں جو آسمانی کتابوں اور فرشتوں پر ایمان لانے کو لازم کرتی ہیں حالانکہ یہ ان شیعوں کے اصول دین میں نہیں ہیں۔

صفحہ 14 از 19