ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 15 از 19

 اہم ترین بات یہ ہے کہ شیعہ علماء امامت کے بارے بہت مشکلات سے دو چار ہیں کیونکہ قرآن کریم میں اس اصل دین کا کوئی واضح نشان نہیں ہے اس لیے جب ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس اصل دین کی تمھاری نظر میں بہت اہمیت ہے اور اس کے بغیر دین کامل ہی نہیں ہوتا دوسرے اصول دین کے برخلاف اس اصل دین کے بارے میں ہم آیات نہیں جانتے یا کم از کم کوئی ایک واضح آیت پیش کر دو جو روایات کی محتاج نہ ہو اور نہ وہ پیچ در پیچ علم کلام کی تفصیلات کی محتاج ہو جیسا کہ قرآن کریم توحید معاد نبوت اور آسمانی کتابوں اور فرشتوں پر ایمان لانے کو صراحتاً کھول کھول کر بیان کیا ہے اسی طرح پیغمبروں کے بعد معصومین کی امامت کو واضح بیان کیوں نہیں کیا؟ اس کے جواب میں بے چارے شیعہ علماء پریشان ہو جاتے ہیں۔ اس لیے جب اصول دین پر بات ہوتی ہے تو وہ قرآن کریم کو درمیان میں لاتے ہی نہیں اور ابتداء یہی بات کرتے ہیں ہمارے علماء نے تحقیق سے اور عقلی دلائل اور علمی براہین کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اصول دین پانچ ہیں، اس مشکل کو دور کرنے کیلئے اور لوگوں کو بتانے کیلئے کہ ان کے اصول دین کتنے ہیں میں نے ایک رسالہ بیس صفحات کا لکھا ہے جس کا نام رکھا ہے اصول دین از نظر قرآن“ جو میں نے محدود تعداد میں چھپوا کر اپنے دوستوں میں تقسیم کروایا ہے میں نے اس میں اصول دین جو تین ہیں توحید نبوت اور معادان کو قرآن کریم کی آیات کے ساتھ مدلل کر کے بیان کیا ہے۔

 آیت الله بروجردی

 مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں چند دیگر لوگوں کے ساتھ آیت اللہ بروجردی کی مجلس میں تھا انہوں نے مجھے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تمہیں مجھ پر کوئی اعتراضات ہیں میں نے کہا ہاں بالکل سینکڑوں اعتراضات ہیں آیت الله بروجردی نے تعجب کیا اور کہا کہ کچھ اعتراض ہمیں بھی بتاؤ میں نے کہا کہ ایک اعتراض یہ ہے کہ آپ نے اپنے رسالہ میں تصویر کو مکروہ لکھا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ آپ کے ایک علمی رسالہ کی بیک سیڈ پر آپ کی تصویر چھپی ہوئی ہے۔

 دوسرا اعتراض یہ ہے کہ آپ مساجد کی زیب وزینت کو ناجائز جانتے ہیں جیسا کہ آپ نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے حالانکہ آپ نے قم کی بڑی مسجد کی زیب وزینت پر لاکھوں روپے خرچ کر دیے ہیں لہٰذا الامحالہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیا مجتہد کا ظلم ہے جو اپنے فتوی پر خود ہی عمل نہیں کرتا۔ جب میں نے یہ بات کی تو ہاہو اور قیل و قال بحث مباحثہ شور شرابا شروع ہوگیا اور لوگوں نے میری بات کاٹ دی کہ یہ آپ کیا بات کر رہے ہیں؟ آیت الله بروجردی نے بھی انہیں خاموش نہ کرایا تو میں نے کہا کہ آقا ! آپ خود جو چاہیں کہیں اگر آپ مجھے دوست نہیں سمجھتے تو میں بھی کچھ نہیں کہتا۔

 آیت الله میلانی

 آیت اللہ سید ہادی میلانی ایک عالم تھے جنھوں نے نجف اشرف میں اپنی ساری عمر فلسفہ میں گزار دی جب وہ مشہد میں آئے تو ان کے پاس سوائے ایک پرانے جبہ کے کچھ نہ تھا مشہد میں جو ان کے پاس طالب علم رہتے تھے انہوں نے آیت اللہ میلانی کو کہا آپ مشہد میں رہیں ہم آپ کے واسطے تبلیغ کرتے ہیں چنانچہ آیت اللہ میلانی مشہد میں رہتے وہاں سے باہر نہ جاتے اور طالب علم چپہ چپہ قریہ قریہ بستی بستی جا جا کر وعظ و نصیحت کرتے اور لوگوں کو کہتے کہ یہ شیعہ عوام کیلئے مرجع تقلید ہیں اور لوگوں کو گروہ در گروه کر کے لاتے تا کہ یہ آیت اللہ ان کے مال کو حلال کر دے جب دس سال بعد ان کی وفات ہوئی تو یہی شیخ جن کے پاس سوائے پرانے جبہ کے کچھ نہ تھا جب فوت ہوئے تو انہوں نے اپنی اولاد کیلئے کروڑوں کا مال چھوڑا۔

 آقائی فلسفی

علامہ برقعی لکھتے ہیں

 ایک مرتبہ میں روڈ پر گاڑی کی انتظار میں کھڑا تھا اچانک ایک گاڑی میرے سامنے آکر رکی اور میرے نام سے آواز دی آقائی برقعی ! تشریف لائیں ۔ جب میں نے دیکھا تو وہ مشہور واعظ و وذاکر آقائی فلسفی تھے میں سوار ہوگیا سلام اور حال احوال پوچھنے کے بعد

 اس نے کہا .....آقائی برقعی آپ کہاں رہتے ہو؟ کیا کرتے ہو؟ تمھاری کوئی خبر ہی نہیں سنی؟

میں نے کہا.....اپنے عقائد کی وجہ سے میں تقریبا خانہ نشین ہوگیا ہوں اگر تم جان لیتے کہ میرے عقائد کیا ہیں تو تم مجھے سوار نہ کرتے۔

اس نے کہا ..... آپ کیا کہتے ہو؟

 میں نے ..... کہا میں کہتا ہوں مجلس پڑھنا حرام ہے۔ مجلس پڑھنے کی مدد کرنا حرام ہے مجلس کیلئے مال خرچ کرنا حرام ہے۔

 اس نے کہا ..... وہ کیوں؟

 میں نے کہا .....جو ذاکر مجلسیں پڑھتے ہیں اور مجلس کے اندر جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں وہ اکثر قرآن کے مخالف ہوتی ہیں اور وہ حقیقت میں پیغمبروں اور ائمہ اہلِ بیت کے دشمن ہیں۔

آقائی فلسفی نے کہا ..... کیا منبر پر تقریر کرنا بھی حرام ہے؟۔

میں نے کہا ..... ہاں جی حرام ہے۔

 اس نے کہا .... کیوں؟

 میں نے اس کو سمجھانے کیلئے کہا ..... آقائے فلسفی آپ کو یاد ہے کہ دس محرم کو آپ نے بازار میں منبر پر بیٹھ کر تقریر کی تھی ؟

 اس نے کہا ..... جی ہاں ۔

 میں نے کہا ... میں بھی اس روز بازار سے واپس لوٹ رہا تھا جب تمھاری آواز میں نے سنی تو میں رک گیا تاکہ آپ کی بات سن سکوں میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے امام اپنی ماں کے پیٹ میں ہی سب کچھ جان لیتے ہیں۔

 اس نے کہا ... بالکل یہ بات ہماری کتابوں میں مذکور ہے۔

 میں نے کہا ..... کہ یہ اولا ..... تو قرآن کے خلاف ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں والله اخرجكم من بطون امهاتكم لا تعلمون شيئا اللہ تعالی نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور ثانیا ..... تم نے اسی تقریر کے آخر میں کہا تھا کہ جب سیدنا حسینؓ کوفہ کی طرف آئے تو گرمی کی شدت ان کے سامنے آگئی اور کوفہ کی طرف جانے سے مانع بن گئی سیدنا حسینؓ نے بالآخر دوسرا راستہ اختیار کیا یہاں تک کہ سیدنا حسینؓ ایک ایسی جگہ جا پہنچے جہاں جا کر سیدنا حسینؓ کا گھوڑا رک گیا اور قدم نہیں اٹھاتا تھا سیدنا حسینؓ نے خوب کوشش کی اس کو ایڑی مارتے ، باگیں کھینچتے لکڑی مارتے اور ششکارتے لیکن گھوڑے نے حرکت نہ کی سیدنا حسینؓ حیران ہو گئے کہ گھوڑے کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ حرکت ہی نہیں کرتا وہاں ایک عربی آدمی نظر سے گذرا آپ نے اس کو آواز دے کر بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس زمین کا نام کیا ہے؟

صفحہ 15 از 19