ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 16 از 19

 اس عربی نے جواب دیا ..... غاضریہ۔

 سیدنا حسینؓ نے سوال کیا ..... اس کا دوسرا نام کیا ہے؟

 اس عربی نے کہا... شاطی فرات

 سیدنا حسینؓ نے پھر پوچھا .. کہ اس کا اور نام کیا ہے؟

اس عربی نے کہا .... نینوا

سیدنا حسینؓ نے پھر پوچھا ... کہ اور کیا نام ہے؟ اس نے کہا ... کربلا۔

 سیدنا حسینؓ نے فرمایا ہاں میں نے اپنے نانا سے سنا تھا وہ فرماتے تھے تمھاری آرامگاہ کر بلا ہے۔

اس کے بعد میں نے فلسفی کو کہا آقائی فلسفی ! یہ سیدنا حسینؓ جس کے بارے میں تو نے تقریر کے شروع میں کہا تھا کہ یہ اپنی ماں کے پیٹ میں سب چیزیں جان لیتے ہیں اور قرآن پڑھ لیتے ہیں جب وہ اس جگہ پہنچتے ہیں تو پہلے ان کا گھوڑا وہ جگہ پہچانتا ہے اس کے بعد سیدنا حسینؓ کو پتہ چلتا ہے اور وہ بھی ایک دیہاتی سے پوچھنے کے بعد فلسفی صاحب ! یہ کیسا سیدنا حسینؓ ہے کہ تم اس کے بارے میں یہ کہتے ہو کہ اس سے پہلے اس کا گھوڑا جان لیتا ہے کیا ائمہ کی محبت یہی ہے؟ کیا اسلام کے معارف یہی ہیں؟ آپ نے ان روایات میں غور و فکر کیوں نہیں کیا ؟

آیت اللہ برقعی کے زندگی کے تین مراحل

 علامہ برقعی کی زندگی کے تین مرحلے ہیں

 پہلا مرحلہ علامہ برقعی پیدائش سے لے کر 1949 م تک جو علامہ برقعی کی جوانی کا زمانہ ہے اس زمانہ میں علامہ برقعی متعصب شیعہ امامی تھے کیونکہ شیعہ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے اور شیعوں سے ہی تعلیم حاصل کی حتٰی کہ کئی شیعہ مجتہدین سے اجتہاد کی ڈگری حاصل کر لی اس زمانہ میں جو بھی شیعہ مذہب پر تنقید کرتا تو علامہ برقعی اس کا جواب دیتے اور شیعہ مذہب کا دفاع کرتے تھے چنانچہ احمد کسروی کی کئی تنقیدات کا جواب لکھا ہے۔

 دوسرا مرحلہ ....1949 ء سے 1953 ء تک علامہ برقعی نے اپنی زندگی کے ان ایام میں شیعہ مذہب کی رو سے عوام اور سیاسی لوگوں میں انحراف پایا جا رہا تھا اس کی اصلاح کا قدم اٹھایا ۔ اس وقت حالات یہ تھے کہ برطانیا اور امریکا کی کوشش یہ تھی کہ ایران میں اقتصادی نظام آجائے اور روس اپنی کوششوں میں لگا ہوا تھا ایران میں کئی سیاسی جماعتیں متحرک تھیں ۔ 1948 ء میں جب اسرائیل کی حکومت کا اعلان ہوا تو ایران کی شاہ حکومت نے اسرائیل کی حکومت کو تسلیم کرلیا برطانیا کو خوش کرنے کیلئے اور یہ بتانے کیلئے کہ ایران میں مذہبی حکومت نہیں ہے بلکہ روشن خیال حکومت ہے۔ اس وقت ایک قومی دنیاوی و سیاسی آدمی ڈاکٹر مصدق اور دینی اصلاحی آدمی آیت اللہ کاشانی انتخابات میں کھڑے ہوئے جو ایرانی قوم کے خیر خواہ کے طور پر سامنے آئے چنانچہ انہوں نے بڑی محنت سے سیاسی نوجوانوں کی جماعت بنائی۔ جس کی وجہ سے آیت اللہ کاشانی کو گرفتار کر کے جلا وطن کر دیا گیا جب ووٹ ہوئے تو آیت اللہ کاشانی کے ساتھیوں نے دن رات ایک کر کے محنت کی ووٹوں کے دنوں میں پوری پوری رات ووٹوں کے صندوقوں کے پاس جاگتے رہتے تاکہ دھاندلی نہ ہو جائے۔

   چنانچہ آیت اللہ کاشانی اور ڈاکٹر مصدق دونوں جیت گئے جس کی وجہ سے حکومت آیت اللہ کاشانی کو واپس بلوانے پر مجبور ہوگئی دو سال تین مہینہ طہران میں ڈاکٹر مصدق وزارت کے عہدے پر رہے وہ برطانیہ کے خلاف کئی فیصلے کیۓ جس کی وجہ سے شاہ محمد پہلوی نے ان کو پیغام بھیجا کہ وہ وزارت سے استعفاء دے دیں ڈاکٹر مصدق اور آیت اللہ کاشانی نے اس کو چھوڑ دیا اور شاہ کے خلاف انقلابی تحریک شروع کر دی لوگ بھی ان کے ساتھ ہو گئے شاہ روم کی طرف بھاگ گیا جس سے امریکہ کو خطرہ ہوا حکومت پر دینی لوگ آجائیں گے اس نے اس تحریک کو دبانے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کر دیے چنانچہ واپس آگیا اور ڈاکٹر مصدق کو گرفتار کر لیا گیا اس وقت شاہ نے کئی احکام نافذ کیے جس کا مقصد ان تحریکوں کو دبانا اور علماء کو محصور کر دینا تھا۔

علامہ برقعی کہتے ہیں اس وقت اکثر علماء سیاست سے دور تھے اس تحریک میں علامہ برقعی بھی پیش پیش تھے چنانچہ 1949 ء میں علامہ برقعی طہران آئے اور آیت اللہ کاشانی سے مل گئے اس وقت دوسرے علماء یا تو خاموش تھے یا دن بدن روٹیاں کھا رہے تھے اور شاہ کے ظلم کے موافق تھے علامہ برقعی نے لوگوں میں خوب محنت کی کہ وہ کاشانی اور ڈاکٹر مصدق اور خمینی کی اس جماعت و تحریک کا ساتھ دیں ان دنوں میں آیت اللہ کاشانی نے علامہ برقعی کو ایک خط لکھا جس میں وہ لکھتے ہیں"اے برقعی تو مسجد کو دوسرے مشائخ کی طرح تجارت کا اڈا نہ بنانا لوگوں کو بیدار کرو اس بات کی بالکل پرواہ نہ کرنا جو لوگوں میں مشہور ہے کہ شیخ صالح وہ ہے جو لوگوں کے معاملات سے کٹ کر بیٹھ جائے اور اس کو عوام کی پرواہ نہ ہو تم نے خوب محنت اور کوشش کرنی ہے کہ ڈاکٹر مصدق ووٹوں میں جیت جائے۔

 تیسرا مرحلہ ۔۔۔۔۔1953ء سے لیکر 1992ء تک اس مرحلے میں علامہ برقعی دینی خرافات اور بدعات و غلو کے خلاف کھڑے ہوگئے خالص مذہبی نقطہ نظر سے جس میں سیاست کا کوئی حصہ نہ تھا۔

اس دور میں علامہ برقعی نے وقت فارغ پاکر خوب تحقیق اور مطالعہ کیا جس کی وجہ سے وہ بہت سارے حقائق پر واقف ہوئے۔

اس مرحلے میں علامہ برقعی نے کوشش کی کہ لوگوں کی اصلاح تصنیف تالیف کے ذریعے کریں وہ فرماتے ہیں پھر میں نے لوگوں کی عقلوں اور ان کی نظریات کی اصلاح کے لیے کتابیں لکھنے کے لیے کھڑا ہو گیا ان کتابوں کی تالیف سے میرا مقصد یہ تھا کہ میں لوگوں کو کتاب اللہ اور عقائد اسلامیہ قرآنیہ کا تعارف کراؤں اور اپنی عوام کو بدعتیوں اور غالیوں و گمراہ لوگوں سے ہٹا کر سیدھے راستے پر لے آؤں جب علامہ برقعی کے سامنے شیعہ مذہب کو جو خلل اور نقصان لاحق ہوگیا تھا واضح ہوگیا تو وہ واضح طریقے سے لوگوں کو غور و فکر کرنے کی اور اپنی عقلوں کو استعمال کرنے کی اور غلط اعتقادات و خرافات کے چھوڑنے کی دعوت دینے لگے۔

صفحہ 16 از 19