ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 17 از 19

ابو الفضل علامہ برقعی نے اپنی اس دعوت کی ابتداء مسجد وزیر دفتر سے شروع کی علامہ برقعی اس مسجد میں درس دیا کرتے تھے اور آپ کے درس میں شریک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 200 ہوا کرتی تھی علامہ برقعی تصنیف و تالیف اور درس قرآن کے علاوہ دوسرے شہروں میں جا کر بھی اسلامی حقائق کی تبلیغ اور ان کی نشر و اشاعت کرتے تھے۔جب شاہ ایران کے خلاف تحریک چلی تو علامہ برقعی کے تحریک چلانے والوں کے ساتھ اگرچہ بہت سے مسائل میں اختلاف تھا اور ان کی عمر 70 سال کے قریب تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے شاہ کی حکومت ختم کرنے کے لیے اس انقلابی تحریک کا ساتھ دیا جب انہوں نے اسلامی تحریک میں کئی خلاف شرع باتیں دیکھیں تو انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا مقصد اسلامی احکام بتانا تھا اس امید پر لکھی کہ شاید جب خمینی حکومت حاصل کر لیں گے تو ان شرعی احکام کو نافذ کر دیں گے۔

جب ان کی اصلاحی کوششیں تیز ہوئیں تو شیعہ علماء کی طرف سے ان پر فتوے لگنا شروع ہوگئے بعض نے ان کو منحرف اور گمراہ کہا اور بعض نے ان کو کافر تک کہہ دیا علامہ برقعی کو کئی مرتبہ قتل کی دھمکی دی گئی اور ان کی کتابوں کے چھاپنے پر پابندی لگا دی گئی علامہ برقعی کو کئی مرتبہ جیل بھیجا گیا آخری عمر میں ایوین کی جیل میں ایک سال کے لیے قید رکھا گیا پھر رہا کر کے آپ کو یزد شہر کی طرف جلا وطن کر دیا گیا اور پانچ دن بعد دوبارہ جیل بھیج دیا گیا بلا آخر جیل میں ہی آپ کی 1992ء کو وفات ہوئی۔

  علامہ برقعی کی آراء

۔۔۔۔۔علامہ برقعی اور علم غیب۔۔۔۔۔شیعہ کہتے ہیں کہ ائمہ اہل بیت کو ما کان و ما یکون کا علم کامل اور علم محیط اور علم غیب حاصل ہے اس کے بارے میں علامہ برقعی فرماتے ہیں ما کان اور مایکون کا علم کامل اور علم محیط اللہ تعالی کا خاصہ ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں وان اللہ بکل شیء علیم اور اللہ تعالی علم غیب کے ساتھ منفرد ہیں چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے عالم الغیب والشھادۃ الکبیر المتعال دوسری جگہ فرمایا قل لا یعلم من فی السموات و الارض الغیب الا اللہ وما یشعرون ایان یبعثون چونکہ شیعہ کتابوں میں بہت سی روایات ہیں جن میں صراحت ہے کہ ائمہ اہلِ بیت عالم الغیب تھے چنانچہ وہ روایات ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔

   جو احادیث قرآن کریم کے متعارض اور خلاف ہے ان کو ایک اسلامی کتاب میں کیسے روایت کر دیا گیا؟کیا ان احادیث کے راوی اتنے جاہل تھے یا ان کا مقصد کوئی اور تھا (کسر الصنم صفحہ 109)

۔۔۔۔۔علامہ برقعی اور امور تکوینیہ میں تصرف ۔۔۔۔۔شیعہ کہتے ہیں کہ ائمہ اہلِ بیت کو امور تکوینیہ میں تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہے علامہ برقعی نے کتاب درسی از ولایت لکھی جس میں ثابت کیا امور تکوینیہ میں تصرف کرنا اللہ تعالی کا خاصہ ہے اس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور جن روایات میں ہے کہ ائمہ اہلِ بیت بھی امور تکوینیہ میں تصرف کرتے ہیں یہ من گھڑت ہیں اٸمہ اہل بیت کا یہ مذہب نہیں ہو سکتا۔

۔۔۔۔۔علامہ برقعی اور امام کا منصوص ہونا ۔۔۔۔۔۔ شیعہ کا عقیدہ ہے کہ امام منصوص من اللہ ہوتا ہے اور امامت نص سے ثابت ہوتی ہے اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ امامت اور قیادت عقلا اور اہل حل و عقد کے انتخاب سے ہوتی ہے (کسر الصنم صفحہ 234)

 یعنی امام کے لیے نص کا ہونا ضروری نہیں بلکہ شوری جس کا انتخاب کرلے وہی امام اور قائد ہے شروع زمانے میں ایسے ہی طریقہ تھا لیکن دو تین صدیوں بعد جب ائمہ اہلِ بیت کے نام پر روایات گھڑی گئیں تو اس وقت ایسی روایات بھی گھڑی گئیں کہ امام کے لیے نص کا ہونا ضروری ہے(کسر الصنم 346)

۔۔۔۔۔علامہ برقعی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔۔۔۔شیعہ کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بلکہ تین چار کے سوا سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نعوذ باللہ مرتد ہو گئے تھے اور رسول اللہﷺ کی زندگی میں منافق تھے اس کے بارے میں علامہ برقعی فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں بہت سی آیات ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف پر دلالت کرتی ہیں ان کے بعد شیعہ امامیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں جو طعن و تشنیع کرتے ہیں ان کا قبول کرنا ممکن نہیں ہے مثلاً اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔

 والسبقون الاولون من المہاجرین و الانصار والذین اتبعوھم باحسان رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ واعدلھم جنت تجری تحتھا الانھار خٰلدین فیھا ابدا ذلک الفوز العظیم (التوبہ100)

 الذین آمنوا وھاجروا و جاھدوا فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم اعظم درجۃ عند اللہ واولئک ھم الفائزون (التوبۃ200)

 والذین آمنوا و ھاجروا و جاھدوا فی سبیل اللہ والذین آووا ونصروا اولئک ھم المؤمنون حقا لھم مغفرۃ ورزق کریم (انفال 74)

 لقد تاب الله علی النبی والمہاجرین والانصار الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منھم ثم تاب علیھم انه به‍م رؤف رحيم (التوبه 117)

 لقد رضي الله عن المؤمنين اذ يبايعونك تحت الشجرة فعلم ما فى قلوبهم فانزل السكينة عليه‍م واثابه‍م فتحا قريبا (الفتح 18)

 محمد الرسول الله والذين معه أشداء علي الكفار رحماء بينهم تراه‍م ركعا سجدا يبتغون فضلا من الله ورضوانا سيماه‍م فى وجوه‍ه‍م من اثر السجود ذلك مثلهم فى التورة و مثلهم فى الانجيل كزرع اخرج شطاہ فازرہ فاستغلظ فاستوی علی سوقه یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار وعد الله الذین آمنوا و عملوا الصالحات منھم مغفرۃ واجرا عظیما (الفتح 29)

صفحہ 17 از 19