ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 18 از 19

علامہ برقعی ان آیات کے بعد سوال کرتے ہیں کہ کیا مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جن سے اللہ راضی اور خوش ہوگیا تھا اور ان سے ہمیشہ کی جنت اور عظیم کامیابی کا وعدہ کر لیا تھا انہوں نے سیدنا علیؓ کا حق غضب کر لیا تھا؟ کیا نعوذ باللہ اللہ تعالی کو علم نہیں تھا کہ یہ لوگ عنقریب ایسا کریں گے اس کے باوجود ان کو چھوڑیے رکھا انہوں نے مضبوط حکومتیں کی؟ جب وہ کفار و مرتدین تھے تو یہ آیات مہاجرین و انصار کی تعریف کرتی ہیں ان کا تعلق کن کے ساتھ ہے؟ کیا یہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کی اللہ تعالی نے تعریف کی ہے کیا یہ سارے کے سارے نبی کریمﷺ کے زمانے میں فوت ہو گئے تھے یا یہ لوگ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ سے ڈر گئے تھے؟

علامہ برقعی سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بتاؤ کہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کا لشکر ان مہاجرین و انصار کے علاوہ کیا تھا؟ کیا سیدنا ابوبکرؓ کی فوج میں یہی ایرانی صفاک تھے یا انہوں نے باہر سے کوئی فوج منگوائی تھی یا نعوذ باللہ مہاجرین اور انصار کو بھاری رشوتیں دے کر خرید لیا تھا ؟ یا سیدنا ابوبکرؓ کا مدینہ میں کوئی بڑا قبیلہ تھا؟ اس لیے یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالی مہاجرین اور انصار کی اس حد تک تعریف کرے اور ان سے جنت و مغفرتوں اور کامیابیوں کے وعدے کرے اور اللہ تعالی کو معلوم ہی نہ ہو کہ یہ لوگ بعد میں مرتد ہو جائیں گے اور سیدنا علیؒ کا حق چھین لیں گے (کسر الصنم صفحہ 216, 217)

علامہ برقعی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر موقع پر رسول اللہﷺ کے ساتھ رہے اور انہوں نے اپنا رشتہ دار وطن گھر بار چھوڑ کر نبی کریمﷺ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی۔۔۔۔

رسول اللہﷺ کے ساتھ اپنی جانوں اپنے مالوں سے جہاد کیا حتی کہ سخت گرمی میں بھی نکل کھڑے ہوئے جیسا کہ قرآن میں ہے۔۔۔۔۔۔،حج میں بھی آپ کے ساتھ سفر کیا۔۔۔۔۔۔،رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد دین کی نشر و اشاعت کے لیے لشکروں کی صورت میں دنیا میں پھیل گئے۔۔۔۔۔رسول اللہﷺ کے بعد سیدنا علیؓ خلفاء کے مشیر اور معاون رہے۔۔۔۔۔یہ سب تاریخی حقائق ہیں جن کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا ان تاریخی حقائق کے ہوتے ہوئے کیا ہم کہہ سکتے ہیں اس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نعوذ باللہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے (کسر الصنم صفحہ 221)

۔۔۔۔۔علامہ برقعی اور خرافات۔۔۔۔۔دین اسلام عقل و فطرت کے موافق ہے اور خرافات سے دور ہے شیعہ مذہب میں خرافات داخل کرنے والے وہ کذاب اور غالی راوی ہیں جن پر ائمہ اہلِ بیت نے لعنت کی ہے اور ان کو گمراہ اور کافر و فاسق قرار دیا ہے علامہ برقعی فرماتے ہیں دین اسلام میں خرافات نہیں ہیں لیکن شیعہ مذہب خرافات سے بھرا ہوا ہے اور یہ خرافات اسلام میں ائمہ اہلِ بیت کے نام سے داخل کی گئی ہیں ہم جانتے ہیں ان خرافات کو عقلمند اور علماء قبول نہیں کرتے بلکہ یہ ان کی نفرت کا سبب ہے اور یہ اکثر خرافات ان جھوٹے راویوں کی طرف سے آئی ہیں جنہوں نے ائمہ اہلِ بیت کے نام پر حدیثیں گھڑی ہیں اس لیے اسلام ان کو خرافات سے پاک کرنا ضروری ہے (کسر الصنم صفحہ 39)

چند ایک خرافات کی علامہ برقعی نے نشان دہی بھی کی ہے مثلا سیدنا علیؓ بسم اللہ کی باء نقطے سے نکلے ہیں ۔

امام کا کبھی جنبی نہیں ہوتا اور نہ اس کو جمائی آتی ہے اور وہ پیچھے سے ایسے دیکھتا ہے جیسے آگے سے دیکھتا ہے

نبی کریمﷺ نے ابو طالب کے پستانوں سے دودھ پیا تھا (الکافی جلد1 صفحہ 448)

انبیاءؑ کی بیٹیوں کو حیض نہیں آتا وغیرہ

اس قسم کی خرافات شیعہ لوگوں کی عقلوں پر جم چکی ہیں اور ان کے دلوں میں گھر کر چکی ہیں اس پر علامہ برقعی نے کئی واقعات لکھے ہیں کہ ہوتا کچھ ہے اور یہ اپنی ان خرافات اور غلط عقائد و نظریات اور کمزور اعتقادی اور غلو کی وجہ سے کیا سے کیا کچھ سمجھ لیتے ہیں

 علامہ برقعی یا امام صاحب الزمان

علامہ برقعی فرماتے ہیں کہ میری عمر تقریبا 35 سال تھی سردیوں کا موسم تھا میں نے شیراز کی طرف سفر کیا اور غروب آفتاب کے وقت ہم شیراز اور اصفہان کے درمیان ایک شہر "آبادہ" ہے وہاں پہنچے سخت سردی کی وجہ سے لوگ چائے پینے کے لیے ہوٹل چلے گئے میں نے نماز پڑھنے کے لیے مسجد کا پوچھا تو لوگوں نے میری رہنمائی کی چنانچہ میں مسجد گیا وہاں جا کر نماز پڑھی اس مسجد میں لوگوں کی کافی تعداد تھی وہ چائے پی چکے تھے اور خطیب کا انتظار کر رہے تھے خطیب ابھی نہیں پہنچا تھا چنانچہ میں نے موقع کو غنیمت جانا اور ممبر پر چڑھ کر کچھ اسلامی حقائق بیان کیے تو وہ میری کلام پر بہت خوش ہوئے چونکہ مجھے ڈر تھا گاڑی کہیں چل نہ پڑے اس لیے میں نے کلام کو مختصر کیا اور جب میں مسجد سے باہر نکل کر روڈ پر اپنی گاڑی کے قریب گیا تو سارے مسافر گاڑی میں موجود تھے اور میرا انتظار کر رہے تھے وہ کہنے لگے سید صاحب آپ نے کافی دیر کر دی بس جیسے ہی میں گاڑی پر سوار ہوا گاڑی چل پڑی۔

  اور مسجد میں یہ صورتحال تھی کہ لوگ چونکہ میرے اس بیان پر کافی خوش تھے اس لیے وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس خطیب کا اِکرام اور مہمان نوازی کرنا چاہیے تاکہ ان کے ارشادات سے مزید مستفید ہو سکیں چنانچہ وہ سڑک پر اور مسجد کے ارد گرد مجھے تلاش کرنے لگے جب میں ان کو نہ ملا تو ان میں سے بعض کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت یہ تو یقینا امام زمان تھے ہم ان سے جاہل رہے اور ان کی قدر نہ کر سکے وہ ہم سے چلے گئے کاش کہ ہم ان کو روک لیتے اور اس سے مدد اور برکت طلب کرتے چنانچہ وہ رونے لگ گئے اور ماتم شروع کر دیا سینہ اور رخساروں کو پیٹنے لگے اور آہستہ آہستہ یہ خبر شیراز بھی پہنچ گئی اور لوگ مجلسوں میں آپس میں باتیں کرنے لگے کہ امام زمان آبادہ شہر میں آئے تھے اور کچھ وعظ نصیحت کر کے چلے گئے لیکن میں خاموش رہا اور حق ظاہر کرنے پر جرات نہ کر سکا (کسر الصنم صفحہ 250 319 320)

   یہ اونٹنی شیعہ تھی

صفحہ 18 از 19