ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 19

میرا شجرہ نسب جیسا کہ کتابوں میں ہے اور میں نے اپنی کتاب تراجم الرجال میں لکھا ہے وہ یہ ہے ابوالفضل بن حسن بن احمد بن رضی الدین بن میر یحیی بن میران بن میران الاول ابن امیر صفی الدین بن میر ابو القاسم بن میر یحیی بن میر السيد محسن الرضوی الرئيس بمشهد الرضا من اعلام زمانہ بن رضی الدین بن فخر الدین علی بن رضی الدین حسین بادشاہ بن ابی القاسم علی بن ابی علی محمد بن احمد بن محمد الاعرج ابن احمد بن موسی المبرقع ابن الامام محمد الجواد رضی اللہ عن آبائی وعنی و غفر لهم ولی ۔ میرے والد سید حسن نے دنیا کی زیب وزینت اور ساز و سامان کو چھوڑ کر فقیرانہ زندگی گزاری ہے اور وہ انتہائی زاہد تھے، وہ عمر بھر کام کر کے اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے رہے زندگی کے آخر تک وہ کام کرتے رہے اور اپنی حلال کمائی کو ہی خوراک بنائے رکھا حالانکہ وہ بڑھاپے میں بیمار اور کمزور ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود انھوں نے محنت و مشقت کو نہیں چھوڑا حتی کہ وہ سخت سردیوں میں بھی کام کرتے تھے اس کے ساتھ ساتھ وہ بڑے سعادت مند، عبادت گزار انسان تھے انھوں نے تہجد کو کبھی نہیں چھوڑا ، انھوں نے زندگی شرافت و سخاوت اور تواضع کے ساتھ گزاری ہے میرے دادا جان سید احمد مجتہد تھے اور صاف گو اور کھرے انسان تھے ، منافقت اور ریاء کاری کو تو جانتے ہی نہیں تھے، وہ میرزا شیرازی کے قابل اور معتمد ترین شاگرد تھے جب انھوں نے درجہ اجتہاد حاصل کر لیا تو سامراء کو چھوڑ کر قم تشریف لائے اور دینی امور میں لوگوں کیلئے وہ ایک مرجع بن گئے ، عوام کے مال کو انھوں نے کبھی لالچ کی نگاہ سے نہیں دیکھا زاہدانہ شان کے مالک تھے ان کے گھر کی حالت ایسے تھے جیسے سیدنا سلمان فارسیؓ کے گھر کی حالت تھے اور ان کی زندگی زہد میں سیدنا ابوذرؓ کی زندگی کے مشابہ تھی میں نے ان کی تفصیلی حالات ” تراجم الرجال میں ذکر کر دیے ہیں۔

ابتدائی تعلیم

 میرے والد میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ میری تعلیم کا خرچہ ایک لمبے عرصہ تک برداشت کر سکیں البتہ میری والدہ ہماری تعلیم کی بڑی خواہش مند تھی ، وہ اسی کی خاطر دن، رات کو جاگا کرتی تھی اور اسی کوشش میں لگی رہتی تھی کہ ہمارے استاذ کیلئے وہ ایک ریال کا انتظام کر سکے تا کہ میری تعلیم کا سلسلہ جاری رہ سکے، میں نے اس طرح ابتدائی تعلیم کا مرحلہ طے کیا ہے۔ میری والدہ جس کا نام سکینہ سلطان تھا وہ ایک عبادت گذار ، زہد وقناعت کرنے والی خاتون تھی ، وہ شیخ غلام رضا القی جو ریاض الحسینی کے مصنف ہیں کی بیٹی تھی اور شیخ غلام حسین واعظ جو فائدۃ الممات“ کے مصنف ہیں اور الحاج شیخ علی محرر کی بہن تھی۔ وہ ایک دانا اور عقلمند عورت تھی اس نے اپنی اولاد کو جہالت، ہلاکت اور قحط سے بچانے کی خوب کوشش کی ، پہلی عالمی جنگ میں جب روسی فوج ایران میں داخل ہوئی تو اس وقت میری عمر پانچ سال سے زیادہ نہیں تھی اس وقت جو میرے استاذ تھے انھوں نے کلاس میں میری طرف کبھی توجہ اور خاص اہتمام نہیں کیا لیکن جب وہ دوسرے طلبہ کی طرف توجہ اور خاص خیال کرتے تھے تو میں بھی ان کے ساتھ ساتھ لگا رہتا تھا اور جب طالب علم سبق کا تکرار کرتے تھے تو میں غور سے سنتا تھا اس طرح میں نے ابتدائی لکھنا پڑھنا سیکھا، اس وقت تمام طلبہ کی بڑی کلاسیں نہیں ہوتی تھیں بلکہ استاذ ایک ایک کر کے طالب علموں کو پڑھاتا تھا چونکہ میرے پاس استاذوں کو وظیفہ دینے کیلئے کوئی انتظام نہیں تھا اس لیے میرا کوئی خاص استاذ نہیں تھا حتی کہ کتابوں، کاغذوں اور کاپیوں کے خریدنے کی بھی میرے پاس طاقت نہیں تھی اور میں باقی بچوں کے سبق میں جاتا تھا اور دکانوں والے جو استعمال شدہ کاغذ پھینک دیتے تھے، میں ان کو استعمال کرتا تھا اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت مزین کلاسیں اور خاص چیزوں وردی وغیرہ کے ساتھ مزین تعلیم نہیں ہوتی تھی کہ جو صرف مالدار بچوں پر بند ہو جائے اور تنگ دست و غریب لوگ حاصل ہی نہ کر سکیں جیسا کہ آج کل شروع ہو چکی ہے، آج کل تو طالب علم کو کلاس میں اس وقت تک بیٹھنے کی اجازت ہی نہیں ملتی جب تک کہ اس کے پاس کتابوں، کاپیوں قلموں اور بستے کی گٹھری نہ ہو میں نہیں جانتا کہ جیسے میں نے زندگی گزاری ہے اسی طرح کی زندگی والا طالب علم آج ان چیزوں کو کیسے حاصل کرتا ہوگا کیونکہ میں تو پورا پورا سال ایک قلم اور ایک کاپی کے خریدنے پر بھی قادر نہیں ہوتا تھا۔

 علوم شرعیہ کی تعلیم

صفحہ 2 از 19