ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 3 از 19

 میں نے ان مشکل حالات میں قرآن اور فارسی کے اسباق مکمل ہی کیئے تھے کہ ایک مشہور عالم شیخ عبدالکریم الحائری الیزدی جو اراک شہر کے بڑے علماء میں سے تھے، ہمارے شہر قم والوں کے بلانے پر قم میں آئے ، انھوں نے علوم شرعیہ کیلئے ایک ادارہ قائم کیا، اس وقت میری عمر بارہ سال سے زیادہ نہیں تھی میں نے ارادہ کیا کہ میں بھی علوم شرعیہ کے اسباق میں شریک ہو جاؤں چنانچہ میں پرانی بازار میں موجود مدرسہ رضویہ میں گیا شاید کہ وہاں مجھے رہائش مل جائے اور میں مدرسہ میں داخلہ لے سکوں، مدرسہ کے نگران میری والدہ کے خالہ زاد سید محمد صحاف تھے لیکن انھوں نے مجھے چھوٹی عمر کی وجہ سے رہائش نہ دی ، البتہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو چند میٹر لمبا اور چوڑا تھا جس میں مدرسہ کا چوکیدار صفائی کے آلات جھاڑو وغیرہ رکھا کرتا تھا اس چوکیدار نے احسان کرتے ہوئے مجھے اجازت دے دی کہ میں رات یہاں گذار لیا کروں اس کا چونکہ دروازہ نہیں تھا تو اس چوکیدار نے مزید احسان کرتے ہوئے اس کمرہ پر ایک ٹوٹا ہوا دروازہ کھڑا کر دیا، چنانچہ میں اپنی والدہ کے گھر سے چٹائی کا ایک ٹکڑا اور بستر لایا اور پڑھائی شروع کر دی۔ میں رات دن اسی جگہ میں گزارتا تھا جو نہ مجھے سخت گرمی سے بچاتا تھا اور نہ ہی سخت سردی سے ، کیونکہ دروازہ ٹوٹا ہوا تھا اور جگہ جگہ اس میں سوراخ تھے۔ زندگی سے مقابلہ کرتے ہوئے اور حصول علم میں محنت کرتے ہوئے میں نے اس میں دو سال گزارے، میں کبھی کبھی بعض تاجروں یا بعض دکانوں پر کچھ کام کر لیتا تھا جس سے کچھ مال کما کر میں اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کر لیتا تھا میں نے ان دنوں میں نہ اپنے والد کی طرف سے کوئی تعاون حاصل کیا نہ رشتہ داروں کی طرف سے اور نہ شہر والوں کی طرف سے کہ جس سے مجھے اس علم کے راستہ پر جاری رہنے میں تقویت ملتی میں المغنی اور شرح جامی یعنی صرف و نحو کا سبق اسی طرح مکمل کیا۔ میں شیخ عبدالکریم حائری اور دوسرے علماء کے سامنے امتحان کیلئے پیش ہوا تو میں نے ممتاز نمبروں سے امتحان میں کامیابی حاصل کی جس کی وجہ سے انھوں نے میرے لیے ماہانہ پانچ ریال مقرر کیے لیکن یہ مقدار میرے پورے مہینہ کے مصارف کیلئے ناکافی تھی تو میں نے ایک آدمی کے واسطہ سے شیخ عبدالکریم حائری سے بات کروائی کہ میرا وظیفہ آٹھ ریال تک بڑھا دیں اگرچہ یہ مقدار بھی گزارے لائق تھی لیکن میں اس پر اکتفاء کر کے حصول علم کیلئے فارغ ہو سکتا تھا ،۔ میں نے اسی طرح تعلیم جاری رکھی یہاں تک کہ میں فراغت کے آخری درجہ تک پہنچ گیا اور فقہ اور اصول فقہ بھی پڑھ لیا تعلیم کے ساتھ ساتھ میں نئے آنے والے طالبعلموں کو بھی پڑھاتا تھا زندگی کا پہیہ اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ میں حوزہ علمیہ میں علوم شرعیہ کا مدرس بن گیا حالانکہ میں کتابوں کا مالک نہیں تھا میں طالبعلموں کو فقہ، اصول فقہ، صرف، نحو، منطق زبانی پڑھایا کرتا تھا۔ ( قم میں آپ کے مشہور اساتذہ میں سے چند یہ ہیں آیۃ اللہ شیخ عبدالکریم الحائری الیزدی ، آیت اللہ اعظمی حجت کوه کمری اور دونوں سے سند اجازت حاصل کی پھر طالب علموں کی عادت کی طرح اعلی تعلیم کیلئے نجف اشرف کی طرف سفر کیا اور وہاں کے بڑے بڑے علماء سے شاگردی حاصل کی خاص طور پر شیخ عبدالنبی نجفی عراقی ، آیت اللہ سید ابوالحسن اصفہانی ان دونوں سے اور ان کے علاوہ دوسرے متعدد مجتہدین سے اجتہاد کی اجازت حاصل کی مثلاً ابو القاسم کاشانی، آغا بزرگ طہرانی وغیرہ) طہران کے جنوب شاہپور روڈ میں مشہور مسجد وزیر دفتر میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دینے شروع کیے یہ مسجد ڈاکٹر محمد مصدق کے والدین اور خالہ نے بنوائی تھی اس مسجد کا انتظام پہلے محمد ولی میرزا کے پاس تھا اس نے آیت اللہ کاشانی سے کہا کہ اس مسجد کی امامت کیلئے کوئی عالم ہمیں دیدیں تو علامہ برقعی کہتے ہیں کہ آیت اللہ کاشانی مجھے اس مسجد میں اپنے ساتھ لے گیا اور مجھے امامت کرنے کا کہا اور بذات خود اس مسجد میں انھوں نے میری اقتدا میں نماز پڑھی اور مجھے اس کے بعد امام بنا دیا گیا۔ علامہ برقعی نے اس مسجد میں دروس دینا شروع کیے خالد بن محمود بدیوی لکھتے ہیں کہ ایک آدمی نے مجھ سے بیان کیا کہ انقلابی تحریک سے پہلے میں ان کی زیارت کرنے گیا اور ان کے ایک درس میں شریک ہوا اس درس تفسیر میں جو طالب علموں کی تعداد تھی وہ تقریبا دو سو تھی ۔ علامہ برقعی جب تیس سے چالیس سال کے درمیان میں تھے تو امامیہ اثنا عشریہ مذہب کے بنیادی عقائد سے آہستہ آہستہ دور ہونے لگے ان کے اس سفر ہدایت کی ابتداء کی ایک وجہ علامہ مصلح مصطفى الحسینی طباطبائی اور استاد قلمداران سے متاثر ہونا تھا یہ دونوں شیعہ مذہب کے مضبوط عالم تھے پھر انھوں نے شیعہ مذہب چھوڑ کر سنی مذہب اختیار کر لیا تھا ان کے حالات ان شاء اللہ اس کتاب کے دوسرے حصے میں آئیں گے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ایک کتاب درسی از ولایت لکھی ۔ اس کتاب میں نظریہ ولایت تکوینیہ کا مفصل اور مدلل رد ہے اس کتاب کے آنے کی دیر تھی شیعہ حلقوں میں کھل بلی مچ گئی کچھ موافق تھے اور کچھ مخالف تھے یہ مسئلہ معرکۃ الآراء بن گیا۔ اس کے جواب میں غالی شیعوں کی طرف سے کتابیں لکھی گئیں اور تقریریں کی گئیں خاص طور پر آیت اللہ میلانی نے ایک فتوی دیا کہ یہ کتاب ضلالت اور گمراہی ہے اس کا مصنف گمراہ ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا حتی کہ آیت الله کاظم شریعتمداری کی زیر نگرانی قم کے چند مشائخ کا اجلاس ہوا اور انھوں شاہ کی طرف چھ ہزار دستخط کرا کر بھیجے کہ یہ راہ راست سے منحرف ہو گیا ہے اور اور یہ اہلِ بیت کے مذہب کو گرانا چاہتا ہے تو انھیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا مگر ان پر جو تہمتیں لگیں تھیں ان کا ثبوت پیش نہ کر سکے تو ان کو چھوڑ دیا گیا چنانچہ وہ دوبارہ اپنی مسجد میں آگئے لیکن پھر بھی ان شیعہ علماء کی سازشوں سے نہ بچ سکے چنانچہ کچھ دنوں کے بعد انھوں نے علامہ برقعی کی مسجد پر حملہ کر دیا اوباش قسم کے نوجوانوں اور عوام کو بھڑکا کر ان کو مسجد سے نکال دیا گیا۔ علامہ برقعی نے مزید تحقیق شروع کر دی چنانچہ انھوں نے کئی علمی و تحقیقی و اصلاحی رسالے لکھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اثنا عشری مذہب کے بنیادی عقائد سے نکل گئے ہیں چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔ ان سالوں میں میں نے فارغ وقت پایا جس کی وجہ سے مطالعہ، بحث و تحقیق اور تصنیف و تالیف اور کتاب اللہ میں غور و فکر کرنے میں مجھے کافی مدد ملی چنانچہ میرے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا میں اور میرے مذہب کے تمام علماء خرافات میں غرق ہیں اور اللہ تعالی کی کتاب سے غافل ہیں اور شیعہ علماء کی آراء اور مسائل قرآن کے مخالف اور معارض ہیں۔ چنانچہ شیعہ مذہب کے جو بنیادی خاص اور اختلافی عقائد و نظریات ہیں ان کو چھوڑ دیا مثلاً سیدنا علیؓ اور دوسرے ائمہ کی امامت کے منصوص ہونے ، ان کے معصوم ہونے اور ان کی رجعت کا انکار کیا ، شیعہ کا جو بارھواں سیدنا مہدی منتظر غائب ہے اس کا انکار کیا ، متعہ کے حلال نہ ہونے کا قول اختیار کیا اسی طرح جن جن لوگوں نے ان کو خمس میں سے اگر کچھ دیا تھا تو اعلان کر کے ان کو بلایا اور ان کا دیا ہوا مال ان کو واپس کیا اور مال غنیمت کے علاوہ دوسرے اموال سے خمس لینے کی حرمت پر فتوی دیا جبکہ دوسرے تمام شیعہ مجہتدین خمس کا مال لیتے ہیں اور یہ ان میں مشہور اور رائج ہے۔ علامہ برقعی فرماتے ہیں کہ اکثر محدثین اور احادیث کے اکثر راوی غالی قسم کے تھے یا باطل عقیدہ رکھتے تھے یا مجہول ہیں لہٰذا ان کی طرف رجوع کرنا اور ان پر اعتماد کرنا ممکن نہیں ہے حالانکہ شیعہ مذہب کی بنیاد ہی انہی پر اعتماد کرنے پر ہے کیونکہ اگر ان پر شیعہ علاء اعتماد نہ کریں تو شیعہ مذہب ختم ہو جاتا ہے پھر شیعہ مذہب کی تمام بنیادی کتابیں چھوڑنی پڑیں گی نیز نہ وہ علماء اور مجتہدین تھے بلکہ وہ تو تاجر اور محنت مزدوری کرنے والے تھے قرآن نہیں سمجھتے تھے اس لیے ان کی نقل کردہ روایات کے مضامین کو پرکھے بغیر ان کی جو بعض توثیقیں منقول ہیں ہم ان پر اکتفاء کیسے کر سکتے ہیں حتی کہ شیخ صدوق المتوفی 381 ھ یہ علامہ برقعی کے نزدیک صرف چاولوں کا ایک تاجر تھا جو کچھ اس نے کسی سے سنایا کہیں پایا اس نے جمع کر کے رکھ دیا۔ علامہ برقعی کو اخیر زندگی میں سنہ 1987 م میں طہران کے شمالی جانب ایوین کی جیل کے اندر چھ ماہ قید رکھا گیا پھر قید سے آزادی ملی تو کچھ مدت بعد ان کو وسط ایران میں واقع شہریزد کی طرف جلا وطن کر دیا گیا پھر جب ان کی آزادی کا حکم ملا تو وہ واپس طہران آگئے اور طہران کی شمالی جانب شہر کن میں اپنے بیٹے کے گھر میں ٹھہر گئے اور وہیں ان کی 1922 م میں وفات ہوئی اور امام زاده شعیب کی قبر کے پاس ان کو دفنا دیا گیا۔

صفحہ 3 از 19