ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 6 از 19

اسی طرح شیخ عبدالکریم الحائری ، آیت اللہ سید حجت کوه کمری سے بھی اجتہاد کی اجازات ملی تھیں جو وزارة الثقافۃ کے رجسٹروں میں محفوظ ہیں

۔ علامہ برقعی دوسرے علماء کی نظر میں

 آیت الله شریعتمداری

 میں زمانہ طالب علمی میں آیت اللہ شریعتمداری کا دوست تھا اور ہم قم میں اکٹھے تھے مجھے کبھی گمان نہیں ہوا کہ وہ بھی میری مخالفت کریں گے وہ میرے قریب ہی رہا کرتے تھے یہاں تک کہ میری کتاب درسی از ولایت“ شائع ہوئی تو انھوں نے اس بارے میں میری تائید کی بلکہ اس پر تقریظ بھی لکھ دی جس میں انھوں نے میری تعریف کی اور میرے اس اقدام پر مجھے سراہا میں نے اس کتاب میں جو کچھ ذکر کیا تھا ان کو مقبول اور شرعی امور قرار دیا لیکن ایک لمبی مدت کے بعد ڈھال کی پشت تبدیل ہوگئی اور اور وہ میرے مخالف ہو گئے حتی کہ میری کتاب کے متعلق ایک استفتاء میں صاف انکار کر دیا۔

آیت الله المحلاتی

 اسی طرح آیت اللہ الحاج الشيخ ذبیح الله المحلاتی نے میری کتاب درسی از ولایت کو عین حق قرار دیا چنانچہ اپنے ایک استفتاء میں لکھتے ہیں میں نے کتاب درسی از ولایت کا مطالعہ کیا ہے جو امام عادل حجتہ الاسلام السید البرقعی کی ہے اور میں اس کے عقیدے کے صحیح ہونے کا اقرار کرتا ہوں اور اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ وہ وہابیت کی طرف دعوت نہیں دے رہے اور جو کچھ ان کے بارے میں لوگ کہتے ہیں وہ بہتان بازی اور من گھڑت باتیں ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں ہے تم اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ علامہ برقعی کہتے ہیں کہ ہمارے لیے یہ کہنا صحیح نہیں کہ لا يضيع العالم الا اذا اهلكه على ولا تقوم الساعة الا اذا اقامها علی کہ عالم (جہاں) ضائع نہیں ہوگا مگر اس وقت جب اس کو سیدنا علی ہلاک کریں اور قیامت قائم نہیں ہوگی مگر اس وقت جب سیدنا علی اس کو قائم کریں گے میں بھی یہی کہتا ہوں کہ اس جیسے اشعار صحیح نہیں ہیں۔

 علامه مشکینی

اسی طرح الشیخ علی المشکینی النجفی نے بھی میری تائید کی چنانچہ وہ لکھتے ہیں میں نے کتاب درسی از ولایت کا مطالعہ کیا ہے اور میں نے اس کے اندر ایک گہرا علم اور اہم موضوعات کو پایا ہے جو عقل سلیم اور دین قویم کی منطق کے مطابق ہیں۔

 حجة الاسلام المرعشی

 سید حجة الاسلام وحید الدین مرعشی نجفی لکھتے ہیں ۔ سید علامہ برقعی دامت افاضاته العالیہ ایک عالم ، مجتہد عادل امامی المذہب ہیں اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ آدمی کی تصنیفات اور کتابیں اس کی عقل جانچنے کیلئے بہترین دلیل ہیں اور اس کے عقیدے کی وضاحت کیلئے بہترین آئینہ ہیں مؤلف محترم (علامہ برقعی) نے اپنی کتاب عقل و دین اور تراجم رجال جو ابھی چھپی ہے اور دوسری تصانیف میں سیدنا امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالبؓ اور دوسرے ائمہ دین کے مقام کے بارے میں انتہائی درجہ کے غلو کرنے کے متعلق کئی امور ذکر کئے ہیں۔ ان کی مفید کتاب درسی از ولایت ” کے بارے میں غافل، احکام میں جلد باز طعن و تشنیع کرنے والے افراد کے مجموعہ نے جو چیخ و پکار اور شور شرابا برپا کر رکھا ہے اس کی کوئی صیح بنیاد نہیں ہے یہ کتاب پڑھتے نہیں اور حکم لگانے میں جلد بازی کرتے ہیں اسی وجہ سے اپنا ایمان بھی ضائع کر دیتے ہیں یہ لوگ اپنی بے بنیاد طعن و تشنیع کے ساتھ اس عظیم آدمی پر ظلم کر رہے ہیں ان کے فیصلے کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ بڑے علماء کی طرف سے کوئی تائید ہے۔ ہلاکت ہے اس شخص کیلئے جو ائمہ ہدی کی اس پاک اولاد کو تکلیف دیتا ہے اور اس شخص کیلئے جو اس مجتہد عالم کو تکلیف دیتا ہے جس نے کئی عظیم مراجع سے اجتہاد کی سند و شہادت حاصل کی ہے ہلاکت ہے اس شخص کیلئے جو اس مجتہد ، فقیہ، عالم پر اس جیسے بہتان لگاتا ہے اور اس کو متہم کرتا ہے۔ خادم الشرع المبین سید وحید الدین مرعشی نجفی

 آیت الله الخولی

آیت اللہ خولی مجھے اچھی طرح جانتے ہیں اور مجھے بہت پسند کرتے تھے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں خرافات اور توہم پرستی میں غرق تھا اور میں شہر نجف میں محاضرات (دروس) دیا کرتا تھا تو وہ میرا بہت شکریہ ادا کیا کرتے تھے بہت زیادہ پسندیدگی کا اظہار کرتے تھے جب میں منبر سے اترتا تو وہ میری پیشانی پر بوسہ دیا کرتے تھے۔

 آیت اللہ شاہرودی

 اسی طرح سید شاہرودی بھی مجھے پسند کرنے والوں میں سے تھے اور ہمیشہ میرا شکریہ ادا کیا کرتے تھے ، میری تعریف کر کے مجھے برانگیختہ کرتے تھے جس دن گمراہی میں ڈالنے والے فلسفہ کے درس کی نجف شہر میں ابتداء ہوئی اور بعض طلبہ فلسفہ سیکھنے اور فلسفیوں کے افکار پڑھنے کی طرف جلدی سے جانے لگے تو نجف کے مراجع نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں ان طالبعلموں کو جو قرآن وسنت سے جاہل ہیں کچھ دروس دوں اور ان کے سامنے بیان کروں کہ فلسفیوں کے افکار دین کے متضاد ہیں سید آیت

اللہ شاہرودی نے اپنے گھر کا صحن پیش کیا تا کہ میں اپنا درس دوں اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں منبر پر چڑھ کر درس دے کر طالب علموں کے سامنے واضح کروں چنانچہ میں نے اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ان طلبہ کے سامنے دین کے حقائق بیان کیے انھوں نے میرے درس کو بہت پسند کیا اور وہ میرا ہمیشہ اکرام اور احترام کرتے رہے۔ لیکن اخیر وقت میں جب مجھے اللہ تعالی نے ہدایت دی اور مجھے توفیق دی کہ میں خرافت کے ختم کرنے اور بدعات و شرکیہ افعال کے پھینک دینے کی تبلیغ کرنے لگا تو یہ سارے جو میری پشت پناہی کیا کرتے تھے کھسک گئے اور مجھے اکیلا چھوڑ دیا وہ ایسے ہو گئے جیسے مجھے پہچانتے ہی نہیں بلکہ بعض نے تو میری مخالفت شروع کر دی۔

 آیة الله الخمینی

صفحہ 6 از 19