ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 7 از 19

جب شاہ کی حکومت ختم ہوئی اور آیت اللہ خمینی نے حکومت کی باگ وڈور سنبھالی تو میں نے ارادہ کیا کہ میں آیت اللہ خمینی سے ملاقات کروں تقریبا تیس سال سے ہماری دوستی رہی تھی ہم ایک ہی مدرسہ میں پڑھاتے رہے ہیں وہ مجھے اچھی طرح جانتے تھے اور میری تعریف کیا کرتے تھے حتی کہ ایران واپس آنے سے پہلے اور اس شہر میں علماء کے جدید حالات پر مطلع ہونے سے پہلے اپنے ایک خطاب میں میری تعریف کی جو انھوں نے اپنے بڑے بیٹے آیت اللہ سید مصطفی خمینی کی وفات پر دیا تھا اگرچہ انہوں نے میرا نام ذکر نہیں کیا تھا لیکن میری طرف اشارہ کیا تھا چنانچہ اس نے کہا: علماء اپنے معاملہ میں غفلت میں پڑچکے ہیں ان کی عقلیں جامد ہو چکی ہیں کوئی شک نہیں کہ کوئی خفیہ ہاتھ ہیں جو ان کو غفلت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں یہ خفیہ ہاتھ کچھ کام کرتے ہیں پھر ان کے پیچھے سے شور شرابا برپا کر دیتے ہیں اور یہ واعظ اور علماء خطباء انھی واقعات کی طرف سمٹ جاتے ہیں اور اپنے آپ کو انھی میں ضائع کر دیتے ہیں وہ زید کو کافر کہتے ہیں اور عمرو کو مرتد کہتے ہیں اور اس کا نام وہابی رکھ دیتے ہیں حالانکہ وہ ایسا نہیں یہ لوگ ایک ایسے عالم کو وہابی کہتے ہیں جس نے اپنی عمر کے چالیس سال دعوت اور فقہ میں گزار دیے ہیں اور وہ اپنے تمام معاصرین سے زیادہ فقیہ اور فقہ و دین کو زیادہ جاننے والا ہے، یہ ان علماء کی بہت بڑی غلطی ہے تم لوگوں کو اپنے آپ سے دور نہ کرو اور صفوں میں افتراق پیدا نہ کرو تم ایسی باتیں نہ کرو کہ یہ وہابی ہے، وہ ملحد ہے، وہ ایسے ہے اگر تم نے ایسا شروع کر دیا تو تمہارے لیے کیا بچے گا۔

آیة الله خمینی کو پیغام

 میں نے آیت اللہ خمینی کو ایک خط لکھا جو میری بیٹی لے کر اس کے پاس گئی جب اس نے میرا نام سنا تو میری بیٹی کا استقبال کیا اور اس کا خوب احترام کیا اور اس سے خط لے لیا پھر میری بیٹی خمینی کے گھر چلی گئی خمینی کی بیوی نے اسے کہا ہم سید خمینی صاحب سے آپ کے والد صاحب کے خط کا جواب لے کر آپ کے پاس طہران پہنچا دیں گے جب چند دنوں بعد خمینی کی بیوی طہران آئی تو میری بیٹی نے جواب کا مطالبہ کیا تو اس کے پاس لکھا ہوا کوئی جوابی خط نہیں تھا لیکن وہ کہنے لگی سید خمینی نے تمھارے والد صاحب کے خط کے جواب میں کہا کہ سید برقعی مجتہد اور صاحب رائے ہیں مگر لوگ ان سے اچھا معاملہ نہیں کرتے۔ آیت الله طالقانی جب وہ بغاوت کی ابتداء میں جیل سے نکلے تھے تو میں نے ان سے ملاقات کی تھی جب میں ان سے گفتگو کر رہا تھا تو اسی اثناء میں انھوں نے اپنا منہ میرے کان کے قریب کیا اور آہستہ سے کہا جو کچھ آپ کہہ رہے ہو وہ سب کچھ حق ہے لیکن ابھی ان حقائق کو ظاہر کرنا مصلحت کے خلاف ہے۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ اگلے جہاں اللہ تعالی ان سے پوچھیں گے کہ مصلحت کب اجازت دے گی جب تم حق بات کہو گے۔ المهندس بازر جان جن دنوں میں زیر علاج تھا تو میری عیادت کرنے کیلئے میرے گھر پر المهندس مہدی بازرجان ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف لائے جن میں ڈاکٹر صدر اور مهندس توسلی شامل تھے، انھوں نے میری صحت کے متعلق پوچھا میں نے انہیں ان زخموں کی طرف اشارہ کیا جو میرے چہرے پر تھے میں نے انہیں کہا یہ اندھی تقلید کے نتائج ہیں یہ سب کچھ میرے ساتھ ایک مقلد آدمی نے کیا ہے جو اپنے آیت اللہ کے احکام کی بغیر سوچے سمجھے اور بغیر ان سے احکام کی دلیل طلب کیے اطاعت کرتا ہے میں تم سے امید کرتا ہوں کہ تم اور تمہارے ساتھی دیندار لوگوں کی اندھی تقلید سے دور ہو جاؤ اور اپنی عقلوں کی لگام ان کے ہاتھوں میں نہ دو۔ آیت اللہ فیض اس بغاوت کے زمانہ میں مصلحت پسند خفیہ ہاتھ علماء کی صفوں میں کھیل رہے تھے اور جہاں ان کی مصلحتیں ہوتیں وہیں ان کو ہانک کر لے جاتے ایک مرتبہ میں آیت اللہ فیض کے گھر ان سے تعزیت کرنے گیا وہ بھی قم شہر کے تھے اور میرے رشتہ داروں میں سے تھے اور اپنے آپ کو مرجع شمار کرتے تھے اس دن انہوں نے تعزیت ، دعاء اور رونے دھونے کی مجلس قائم کی تھی لیکن میں اس وقت چونک اٹھا جب وہ میرے سامنے آئے اور مجھ سے اچھے سلوک سے پیش نہ آئے حالانکہ وہ میرا ہمیشہ احترام کیا کرتے تھے ایسا لگتا تھا جیسے وہ مجھ سے ناراض ہیں اور ان کے دل میں میری مخالفت ہے تو میں نے ان سے ان کے غصے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ مجھے توقع نہیں تھی کہ آپ جیسی شخصیت بھی ایسا کام کرے گی؟ میں نے کہا: میں سمجھا نہیں آپ کس چیز کے متعلق بات کر رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ اس خط کے متعلق جو آپ نے مجھے لکھا تھا اور اس میں مجھے دھمکی دی تھی کہ اگر میں نے آیت الله بروجردی کو مرجعیت کی تربیت نہ دی تو آپ مجھے قم کے اندر بھری مجلس میں رسوا کریں گے ۔ میں نے ان سے کہا اللہ کی قسم میں نے ایسا نہیں کیا اور نہ مجھے اس قسم کی بات کے متعلق خبر ہے اگر آپ احسان کریں اور وہ خط مجھے دکھا دیں کہ اس پر میرا نام اور میرے دستخط ہیں یا نہیں؟ اور میں آپ کے سامنے قسم اٹھاتا ہوں کہ میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا کوئی شک نہیں کہ کچھ لوگوں نے میرا جھوٹا نام گھڑ کر لکھ دیا ہو اور اس کے پیچھے ان کے خطرناک ارادے ہوں۔ جب میں اس کے پاس سے باہر آیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہاں کوئی خفیہ ہاتھ ہیں جو کسی ایسے آدمی کو لوگوں کیلئے مرجع بنانا چاہتے ہیں جو ان کی مصلحتوں پر پورا اترے اور یہ صرف خط کا قصہ اور ہم دو آدمیوں میں ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ کوئی لمبی پلاننگ ہے اس وقت میں نے اچھی طرح یقین کر لیا کہ مرجعیت ایک کھیل بن چکی ہے لوگ اپنی مصلحتوں کی خاطر اس کی قیمت بڑھا دیتے ہیں اور میرے تصورات سچ ثابت ہوئے اور ان خفیہ ہاتھوں نے آیت الله بروجردی کو مرجع تقلید بنا دیا اور اس کے پیچھے فائدہ اٹھانے کی اور مذموم مقاصد حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی۔

علامہ برقعی کی نور ہدایت کی طرف آمد اور آزمائشات

صفحہ 7 از 19