ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت…

ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 8 از 19

 تو اچھی طرح جان لے کہ میں جوانی میں شیعہ امامیہ میں سے تھا اور اپنے آباء کا مقلد تھا باوجود اس کے کہ میں طالب علم اور علوم دینیہ کے حصول میں مگن تھا میری یہی حالت رہی حتی کہ میں نے ان کے علماء اور مراجع کی تصدیق سے مجتہد کا درجہ حاصل کر لیا میں متعصب قسم کا شیعہ تھا اور اس مذہب کا مبلغ اور داعی شمار ہوتا تھا ہم اور ہمارے جیسے دوسرے مجتہدین شیعہ مذہب کی خرافات کو صحیح ثابت کرنے کیلئے کمزور توجیہات کا سہارا لیتے تھے جن پر ہم خود بھی مطمئن نہیں ہوتے تھے ہم ان کو رائج کرنے کی کوشش میں لگے رہتے اور بعید تاویلیں کرتے تھے میں نے اپنے سابقہ مذہب کے مطابق بہت ساری تصانیف کی ہیں ہم یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے مذہب کے علماء ہادی اور مہدی ہیں یہاں تک کہ جب میری عمر چالیس سال کو پہنچی تو میں نے کتاب اللہ کی آیات میں تدبر اور غور و فکر شروع کر دیا تو اللہ تعالی نے اپنی آیات کی برکت سے مجھے ہدایت دی اللہ تعالی اپنی کتاب کے ساتھ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے میں نے دیکھا کہ میرے مذہب کے بہت سے مسائل قرآنی آیات کے موافق نہیں ہیں بلکہ میرے مذہب کی اکثر روایات آیات قرآن کے خلاف ہیں جیسا کہ کلینی کی کتاب ”کافی“ کی روایات اور علامہ مجلسی کی بحار الانوار" کی روایات ہیں اسی لیے میں نے اصول کافی فروع کافی کے رد میں کسر الصنم “ کتاب لکھی اور اس کی روایات کو قرآن اور عقل کے خلاف ثابت کیا میں نے قرآن کی آیات کے ترجمہ اور اس کے نکات اور حقائق کھولنے پر (احکام القرآن اور تابشی از قرآن) لکھی جس کی وجہ سے شیعہ مذہب کے متعصب علماء میرے دشمن بن گئے اور مجھے ان کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے سے روک دیا اور اپنی مسجد میں مجھے جماعت کرانے سے بھی روک دیا جب اللہ تعالی نے مجھے بیدار کر کے سیدھے راستہ پر گامزن کیا تو انہوں نے مجھ پر تہمتیں لگانی شروع کر دیں اور دشمنی اور مخالفت کے تیر چلانے شروع کر دیے حتی کہ کئی مرتبہ مجھے قتل کرنے کی کوشش بھی کی۔ جب میری عمر اسی (80) سال ہوئی تو شیعہ مذہب کے علماء اور ایرانی شیعی حکومت کے افسران نے میرے خون کو رائیگان قرار دے دیا۔ اور میرے اپنے وطن میں صرف اسلام کا نام باقی رہ گیا انہوں نے مجھے قتل کرنے کیلئے کئی حکومت کے لوگ بھیجے وہ میرے گھر میں داخل ہوئے میری اجازت کے بغیر دروازے کھول دیے میں عشاء کی نماز کی دوسری رکعت میں مشغول تھا انہوں نے مجھے گولی ماری میں بے ہوش ہو کر گر پڑا میرے چہرے سے خون کے فوارے بہہ پڑے اور مجھے بالکل ہوش نہ رہا باوجود اس کے کہ میں بڑھاپے کو پہنچ چکا تھا ایسی حالت میں انھوں نے مجھے ظلم کا نشانہ بنایا لیکن اللہ تعالی نے میری حفاظت فرمائی اور میں زندہ رہا... الحمد لله رب العالمین

 کتاب الغدیر کے بارے میں علامہ برقعی کا تبصرہ

 جب میں جیل میں تھا تو علامہ عبدالحسین امینی تبریزی کی کتاب الغدیر پر دوسری مرتبہ مطالعہ کیا اس کے بارے میں جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ امینی نے اپنی کتاب میں حدیث غدیر پر چند سندوں کے اضافہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا میں کہتا ہوں کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور وہ حق پر ہیں۔

اس کتاب کی کوشش ہے کہ بعض جاہلوں پر حقیقت کو مشتبہ کر کے ان کو دھوکا دیدے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ طالب علموں اور محققین کے نزدیک اس کتاب کا کوئی وزن اور کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ بعض اہل فن اور متعصب قسم کے لوگ اپنی خواہشات پر سوار ہو گئے اور اس کتاب کی تعریف کر دی تاکہ لوگوں کو اس بارے میں دھوکہ دیں اور لوگوں کی عقلوں پر ہنسا کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے استاذ سید ابوالحسن اصفہانی حق پر تھے جب انھوں نے عشر زکاۃ کے مال سے اس کتاب کو چھاپنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ شاید کہ امام راضی نہ ہو کہ اس کے مال سے ایک شعروں کی کتاب کو چھاپا جائے۔ اس کتاب میں اکثر حصہ میں ایسی کتابوں سے روایت اور دلائل لیے گئے ہیں جو غیر معتبر ہیں اور جن کا اہل علم اور محققین کے نزدیک کوئی وزن اور قدر و قیمت نہیں ہے علماء نے اس کتاب کی اکثر روایات کو رد کر دیا ہے اور بیان کر دیا ہے کہ اس کی اکثر روایتیں صحیح نہیں ہیں لیکن مؤلف اگلے ایڈیشنوں میں اس کے ثابت کرنے پر ہی لگا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شیعہ سنی اختلافات پر لکھنے والے شیعہ علماء نے کافی عرصہ پہلے یقین کر لیا تھا کہ وہ حدیث غدیر کی جو صحیح احادیث ہیں ان سے اپنے عقائد اور افکار ثابت نہیں کر سکتے ۔ اسی لیے انھوں نے اس کتاب کے مداحین کی لگام کو چھوڑ دیا کہ وہ اس کتاب کی تعریف میں مبالغہ کر لیں چونکہ انہی لوگوں کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہے اس لیے وہ کسی حال میں بھی اجازت نہیں دیتے کہ اس موضوع پر جو قیمتی اور علمی کتابیں لکھی گئی ہیں ان کو کوئی آنکھ دیکھ سکے جیسے

(1) کتاب طریق اتحاد یا نصوص امامت جس میں علمی اور معتبر بحث کی گئی ہے

(2) الباقیات الصالحات علماء ہند میں سے مولانا عبد الشکور لکھنوی صاحب نے اردو زبان کی کتاب ” آیاتِ بینات“ کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے ، اور آیاتِ بینات ہندوستانی شیعہ کے ایک بڑے عالم نواب محسن الملک سید محمد مہدی علی کی لکھی ہوئی ہے نواب محسن الملک نے بدعات و خرافات کو چھوڑ کر قرآن وسنت کو اپنایا اور چار جلدوں میں یہ کتاب لکھی جس سے ان کا مقصد اپنی قوم کو حق کی اتباع کی دعوت دینا ہے (ان کے حالات ہم نے اسی کتاب میں درج کر دیے ہیں مؤلف )

(3) تحفہ اثنا عشریہ یہ کتاب امام محدث شاہ عبد العزیز دہلوی بن شاہ ولی الله احمد الدہلوی کی ہے

(4) رسالہ راز دلبراں عبد الرحمن سربازی کا ہے اس کے اندر انہوں نے اصول دین اور راہ حق میں جو بنیادی شبہات ہیں ان کا رد کیا ہے

صفحہ 8 از 19