Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حجاز و شام کی سرحد سرغ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واپس لوٹنا

  علی محمد الصلابی

17ھ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دوبارہ شام جانے کا ارادہ کیا، چنانچہ آپؓ مہاجرین و انصار کو اپنے ساتھ لے کر شام کی طرف روانہ ہوئے، جب حجاز و شام کی سرحد پر مقام ’’سرغ‘‘ پہنچے تو فوج کے کمانڈروں نے آپؓ سے ملاقات کی اور بتایا کہ سرزمین شام میں بیماری پھیلی ہوئی ہے، اس وقت ’’طاعون‘‘ نے ملک شام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، آپؓ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا اور پھر واپس لوٹنے کا فیصلہ کر لیا، اس وقت آپؓ اور دیگر بعض صحابہؓ میں کیا گفتگو ہوئی اس کو میں ’’شورائیت‘‘ کے باب میں تفصیل سے ذکر کر چکا ہوں۔ 

(الخلفاء الراشدون: النجار: صفحہ 222، 223) 

حضرت عمرؓ کے واپس لوٹ جانے کے بعد طوفانی شکل میں طاعون کی بیماری پھیلی جسے طاعون عمواس کا نام دیا جاتا ہے، اس کا زیادہ اثر شام میں تھا۔ اس میں بہت سارے اللہ کے محبوب بندے وفات پا گئے۔ جیسے کہ ابو عبیدہ بن جراحؓ جو وہاں کے امیر تھے، معاذ بن جبل، یزید بن ابی سفیان اور حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم آخر الذکر کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ آپؓ معرکہ یرموک میں شہید ہوئے، نیز سہیل بن عمرو اور عتبہ بن سہیل رضی اللہ عنہما اور دیگر مشاہیر جاں بحق ہوئے اور جب عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ وہاں کے امیر بنائے گئے تب یہ وباء وہاں سے ختم ہوئی، چنانچہ زمام امارت ہاتھ میں لینے کے بعد آپؓ نے خطبہ دیا اور کہا: اے لوگو! یہ بیماری جب واقع ہوتی ہے تو آگ کی طرح بھڑک اٹھتی ہے، اس سے بھاگ کر پہاڑوں میں پناہ لو، چنانچہ آپؓ خود وہاں سے نکل گئے اور لوگ بھی آپؓ کے ساتھ نکلے، پھر مختلف مقامات پر منتشر ہو گئے یہاں تک کہ اللہ نے ان سے اس مصیبت کو دور کر دیا۔ حضرت عمرو بن عاصؓ کے اس عمل و تدبیر کی خبر عمرؓ کو بھی پہنچی لیکن آپؓ نے اسے ناپسند نہیں کیا۔ 

(الخلفاء الراشدون: النجار: صفحہ 225، تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 36)