اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو…

اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو پالیا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 1 از 5

اہلِ بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو پالیا

داستان هدایت ..... ابوخلیفه القضیبی البحرینی

دراصل مذہب شیعی میں جن چیزوں سے مجھے دلی کوفت ہوتی تھی وہ تین چیزیں تھیں۔

(1)۔۔۔۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو گالی گلوچ کرنا اور تبرے بازی کرنا۔

 (2)۔۔۔۔ متعہ جیسے قبیح فعل کے جائز ہونے کا عقیدہ رکھنا۔

(3) غیر اللہ سے دعائیں کرنا اور مردہ مخلوق سے حاجت روائی کی امید رکھنا ۔

 یہی وہ تین چیزیں تھیں جنھوں نے در حقیقت میری زندگی کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لہذا میں نے اس باطل عقیدہ کو چھوڑ کر عقیدہ اہلِ السنت والجماعت کو اپنا لیا ہے۔ ابوخلیفہ القضیبی نے اپنی سرگذشت پر ایک کتاب لکھی ربحت الصحابه ولم اخسر آل البیت

 میں نے اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو پالیا ہم اس کتاب سے چند مختصر سی باتیں قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں

الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه ملا السماوات والأرض وملا ماشاء ربنا من شيء بعد وصلوات الله وسلامه على صفوة خلقه وخاتم رسله محمد وعلى آله واصحابه ومن تبعهم باحسان الى يوم الدين اما بعد

یہ کتاب چند اوراق کا مجموعہ ہے جو درحقیقت میری زندگی کی کہانی ہے اس میں میری زندگی کے گذشتہ لمحات کی داستان رقم ہے گویا میری حیات گم گشتہ کے یہ چند اوراق پارینہ ہیں جس کو میں نے افکار و خیالات کے ضمن میں لکھا تھا میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ حق و باطل کے درمیان رسہ کشی تھی جو موروثی اور حقیقی کشمکش تھی جو انسانی زندگی میں بڑی آزمائش کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صرف میرا ہی تجربہ نہیں بلکہ بہت سے ان لوگوں کا تجربہ بھی ہے جو عجیب و غریب عقائد کے معاشرے میں پیدا ہوئے اور اپنے سماج کیلئے انھوں نے قربانیاں بھی پیش کیں اور اس کے دفاع میں جان توڑ کوششیں بھی کیں لیکن جب حقائق ان کے سامنے اجاگر ہوئے تو انھیں پتہ چلا کہ حق اس کے خلاف ہے اور وہ جس اعتقاد سے وابستہ ہیں وہ بالکل غلط ہے اور انھیں بخوبی علم ہوگیا کہ خاندان اور سماج کے رسوم و رواج کے نام پر باطل رسومات کا رواج اختیار کرنا گویا بہترین چیز کے بدلے کم تر چیز طلب کرنے کے مترادف ہے حالانکہ جو اللہ تعالی کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی چیز ہے

 وما عند الله خير وابقى

   ابوخلیفہ القضیبی 26 / 3/ 2005ء

  کچھ یادیں کچھ باتیں

میری پرورش اور پرداخت ایک ایسے مذہبی شیعی گھرانے میں ہوئی جس نے مذہب کی خدمت کو اپنا شیوا بنایا ہوا تھا اور جو علمی و فکری ہر دو میدان میں شیعہ مذہب کی خدمت انجام دے کر قرب الہی کا خواہاں تھا، صغر سنی ہی میں میرے والد محترم کا سایہ اٹھ گیا چنانچہ میری اور میری بہنوں کی کفالت میرے ماموں نے اپنے ذمہ لےلی تھی میرے ماموں مذہبی طور پر صاحب جبہ و دستار تھے انھوں نے بحرین میں شیعوں کے ایک مذہبی ادارہ ” جد حفص “ میں تعلیم حاصل کی بعد میں ایران کے مشہور شہر قم میں اعلی تعلیم کی تکمیل کی تھی۔ ماموں ہماری دیکھ بھال میں بڑے چاق و چوبند رہا کرتے تھے ان کی ایک خواہش تھی کہ کہیں ہم بری سوسائٹی میں پڑ کر بے راہ روی کا شکار نہ ہو جائیں اور اس راہ پر نہ چل پڑیں جو ہماری خاندانی نیک نامی پر دھبہ ہو۔ ہمارے دین و اخلاق کو غارت کر ڈالے اور ہمارے رب کریم کی ناراضگی کا سبب بن جائے جس کی وجہ سے آپ بڑی سختی سے ہم لوگوں پر نگاہیں رکھتے تھے، ہمارے ماموں کی ہم لوگوں کے بارے میں سختی کا یہ عالم تھا کہ جب ان کو پتہ چلا کہ میں موسیقی کالج میں داخلہ لینا چاہتا ہوں اور میری خواہش بھی تھی کہ میں موسیقی ماسٹر بنوں گا تو اس موقع پر میرے ماموں نے اس کا سختی سے نوٹس لیا انھوں نے شدت کے ساتھ منع کیا اور اس بات کو ذہن سے کھرچ کر نکال دینے کیلئے بھرپور کوشش کی اور کہنے لگے کہ بچپن میں ہمارا کوئی ایسا سرپرست نہ تھا جو ہماری راہنمائی کرتا اور برے کاموں سے ہمیں روکتا یہی وجہ ہے کہ ہم نے بڑی تنگ دستی اور زبوں حالی کی زندگی گزاری ہے لہذا میرے بچو برا نہ مانو اور میری نصیحت قبول کرو میں کہہ سکتا ہوں کہ موسیقی کے جنون کو ذہن سے نکالنے میں میرے ماموں کا سب سے بڑا ہاتھ ہے اگر ان کی عنایت و شفقت نہ ہوتی تو خدا جانے میں کس حال میں ہوتا اس کے علاوہ اور بھی دوسرے اسباب ہیں جو میرے اس جنون کی راہ میں رکاوٹ بن گئے اور میں اس شیطانی دام میں پھنسے سے محفوظ رہا۔

ماتم میں حاضری محبوب تھی

صفحہ 1 از 5