اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو…

اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو پالیا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 5

جہاں تک میری والدہ کا تعلق ہے وہ دینی محافل میں شرکت کی عادی تھیں اور اس کا بڑا اہتمام کرتی تھیں وہ ان مجالس میں اجر وثواب کی نیت سے شرکت کرتی تھیں ان کا واحد نقطہ نظریہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے امام سیدنا حسینؓ کی خوشنودی حاصل کر کے اپنے اعتقاد کی خدمت کر رہی ہیں یہاں تک کہ آپ کو مرض تک کی پرواہ نہیں ہوتی تھی۔ امراض واستقام بھی ان مجالس میں شرکت سے نہیں روک سکتے تھے آپ کا پکا عقیدہ تھا کہ مجالس عزا میں شرکت نہ کرنا معصیت اور گناہ ہے اور اس میں شرکت کرنا بیماریوں کیلئے باعث شفاء ہے اس کی وجہ سے مصائب و آلام دور ہوتے ہیں اور غم واندوہ ختم ہو جاتے ہیں۔ میرے نانا مرحوم کا اپنی زندگی میں ڈھول تاشے بنانے کا پیشہ تھا وہ ڈھولوں کی مرمت کیا کرتے تھے جو ڈھول جلوس سیدنا حسینؓ میں خراب ہو جایا کرتے تھے وہ ان کی اصلاح و مرمت کیا کرتے تھے اور جو ڈھول رمضان کے آخری عشرے کی راتوں میں استعمال ہوتے تھے آپ کے ہاں ان کی مرمت کی جاتی جس میں بڑھ چڑھ کر ہمارے نانا حصہ لیا کرتے تھے چونکہ میں مذکورہ معاشرے کا پروردہ تھا لہذا مجھے بچپن ہی سے بحرین میں عباس کے نام سے موسوم ماتم میں حاضری محبوب تھی میں اپنی صغر سنی سے ہی تمام مجالس ماتم میں شریک ہونے میں آگے آگے رہا کرتا تھا تا کہ مجھے اپنے ہاتھوں سے اٹھانے کیلئے وہ عَلم مل جائے جو سیدنا حسینؓ کے نام سے جھانکی کی شکل میں نکالا جاتا ہے۔ جب میں تھوڑا اور بڑا ہوا تو ان ماتمی جلوسوں میں شرکت شروع کر دی جن میں اثنائے ماتم پیٹھ پر لوہے کی زنجیریں چلائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے بدن خون آلود ہو جایا کرتے ہیں اسکول میں میں اور میرے ساتھیوں کو دینی پروگراموں میں شرکت کا شوق بڑا تھا کوئی شیعی پروگرام یا مجلس ایسی نہ ہوتی جس میں ہم بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لیتے گویا پروگرام تعلیمی مشاغل سے آزادی کا بہانہ تھے ہمیں اس دن آزاد رہنے کا موقع مل جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ مجالس اور محافل والے دن اسکول میں بکثرت غیر حاضری ہوا کرتی تھی اور ایک معقول عذر ہمارے ہاتھ آجاتا تھا اس دن ہماری غیر حاضری پر حوصلہ شکنی کی بجائے دلجوئی کی جاتی تھی اور ہم حوصلہ افزائی کے مستحق قرار دیے جاتے تھے اور بڑے افسوس کے ساتھ ہمیں اس حقیقت کا انکشاف کرنا پڑ رہا ہے کہ ہم میں سے اکثر نوجوان اس لیے مجالس عزا و ماتم کا شدت کے ساتھ انتظار کیا کرتے تھے کہ ان جیسی مجلسوں اور محفلوں میں لڑکیوں سے چھیڑ خانی کا خوب موقع مل جاتا تھا اور محفلوں میں مردوزن کے اختلاط کا راستہ ہموار ہو جایا کرتا تھا ...

 لاحول ولا قوة الا باللہ

   عقیل عقلمند نکلا

جہاں تک میرے خاندان کا تعلق ہے تو ان کو نذر و نیاز پر بڑا بھروسہ تھا وہ نذر و نیاز زیادہ کیا کرتے تھے میری سگی پھوپھی کو ہمیشہ بچہ گرنے کی شکایت رہا کرتی تھی یا تو بچہ ولادت سے قبل ہی ساقط ہو جایا کرتا تھا یا ولادت کے فوراً بعد فوت ہو جاتا تھا کئی مرتبہ ان کو یہ عارضہ لاحق ہوا حتیٰ کہ ان کے یہاں لوگوں اور ہمارے اہل و عیال کو یقین ہو گیا کہ اب ان کی اولاد بچنا مشکل ہے چنانچہ ان پر اولاد کی طرف سے مایوسی چھا گئی اور ان لوگوں نے سیدنا علیؓ کی نذر مانی کہ اگر ان کے ہاں ہر طرح کے عیوب سے منزہ اولاد پیدا ہوئی اور ان کو زندگی بھی ملی تو وہ اپنے مولود کو ہر سال عاشورا کی صبح ماتمی جلوس میں لے جا کر شامل کریں گے اور اس کو کفن پوش کر کے اس میں شریک کیا جائے گا اور چھری کا ماتم کرنے والوں کا خون اس کے کفن پر گرایا جائے گا۔ چنانچہ جب میری پھوپھی کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ان کے والد نے اس کا نام عقیل رکھا اور ان کے گھر والوں نے بیٹے کے بارے میں جو نذر مانی تھی وہ اس کو چند سال اسی انداز میں پورا کرتے رہے مگر ابھی اس نذر کو مناتے ہوئے چند ہی سال کا عرصہ گذرا تھا کہ اللہ تعالی نے عقیل کی بصیرت کو کھول دیا اور اس کے دماغ نے یہ بات محسوس کی کہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کے علاوہ کسی اور کی نذر نہیں مانی جانی چاہیئے اور سیدنا علیؓ جن کی نذرمانی جارہی ہے وہ انسان ہی تھے اور کسی انسان کی ذات سے عبادت کو منسوب نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس کی بارگاہ میں دعا کی جاسکتی ہے اور نہ اس سے استغاثہ کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کی نذر مانی جا سکتی ہے لہذا عقیل نے سب سے پہلے عقلمندی کا کام یہ کیا کہ اپنی والدہ کو اس نذر کی حرمت کے بارے میں قائل کیا بالآخر یہ رسم انھوں نے چھوڑ دی۔

 مزار پر بلڈوزر چلا دیا گیا

صفحہ 2 از 5