اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو…

اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو پالیا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 3 از 5

میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ایک یاد گار قصہ پیش آچکا ہے جس کی حیثیت کسی لطیفہ سے کم نہیں یہ داستان بھی عقیل بھائی جیسی ہی ہے قصہ یہ ہے کہ بچپن میں میری گردن کا آپریشن ہوا تھا مگر زخم مندمل ہونے کی بجائے پک گیا جس کی وجہ سے دوبارہ آپریشن کرنا پڑا میری والدہ کا کہنا ہے کہ آپریشن کی وجہ سے میری صحت بہت خراب ہوگئی تھی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔ میری والدہ کو فکر دامن گیر ہوئی چنانچہ کسی شیعہ ملانے میری والدہ کو نصیحت کی کہ تم ” منامہ" کے علاقہ میں واقع مزارات میں سے کسی ایک مزار پر جاؤ اور خصوصی طور پر علی کی دہائی لگا کر نذر مانو کہ وہ مرض سے مجھے نجات دلادیں اور میں تندرست ہو جاؤں اور آپ کا عقیدہ بھی ہونا چاہیئے کہ یہ اولیاء نفع رسانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ غیر ارادی حالات کی بناء پر دن گزرتے گئے مگر میری والدہ اس مدت مدیدہ میں اس نذر کو عملی جامہ پہنا نہ سکیں یہاں تک کہ میں بڑا ہو گیا ۔ چنانچہ محض اللہ کی ہدایت اور توفیق کی وجہ سے جب میں عقیدہ اہلِ السنت والجماعت کے دائرے میں داخل ہو گیا تو میرے گھر والوں نے چاہا کہ مجھے یہ بات باور کرائیں کہ میرے اہلِ السنت والجماعت کا مذہب قبول کرنے میں اہلِ بیت کے حق میں ظلم اور بے ادبی کا ارتکاب پنہاں ہے انھوں نے میری والدہ کی مانی ہوئی نذر کا بھی تذکرہ کیا اور بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بات کہی کہ اگر آلِ بیت کی نظر عنایت اور ان کا کرم خاص شامل حال نہ ہوتا تو تم کبھی شفایاب نہ ہوتے بلکہ تمھارا نام و نشان اور وجود تک نہ ہوتا یہ تو انھی کی دین ہے کہ تم صحت وعافیت سے بہرہ ور ہو کر زندہ ہو گئے ساتھ ہی انھوں نے نذر پر مجھے ڈرایا دھمکایا اور مجھے ترغیب دینا شروع کر دی کہ میں ان کے ساتھ نذر ادا کرنے کی غرض سے مزار پر حاضری دوں تا کہ میں کسی اندوہناک واقعہ سے دوچار نہ ہوں۔انھوں نے وقفے وقفے سے اپنے ساتھ مزار پر حاضری کیلئے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی اور سنی مذہب سے مرتد ہو کر شیعی مذہب قبول کرنے کی تگ ودو کی لیکن ان کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں اور وہ کسی صورت میں اپنی اس سازش میں کامیاب نہ ہو سکے تاہم اس جدو جہد نے میرے اندر ایمان کی جڑیں مضبوط کر کےاس کو بال و پر عطا کر دیے۔مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس مزار میں دفن صاحب قبر سے استفادہ اور اس نذر ونیاز کرتے ہوئے ابھی چند ہی سال کا وقفہ ہوا تھا کہ یہ حقیقت سامنے آگئی کہ اس کے بارے میں جو باتیں پھیلائی گئی تھیں ان کی حیثیت اوہام و خرافات سے زیادہ کچھ بھی نہیں حقیقت واضح ہو جانے کے بعد مزار پر بلڈوزر چلا دیا گیا پوری زمین کو ہموار کر کے استعمال کے قابل بنا دیا گیا ۔ محض اللہ تعالی کا فضل و کرم اور اس کا لطف و احسان ہے۔

 شیعیت سے نفرت کا سبب

سب سے پہلے میں اس بات کی وضاحت کردوں کہ مجھے یہ خیال نہیں کہ میں اخلاق کی بلندی ، عادات کی اس پاکیزگی اور روح کی اس بالیدگی میں پہنچ گیا ہوں جس پر انسان کو پہنچنا چاہئے لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ انسان خواہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنے دین و مذہب پر قائم ہو، تاہم ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے جس سے تجاوز کرنے والا ، فطرت سلیمہ اور اخلاق کریمہ کی ساری حدود تجاوز کر کے انسانیت کا خون کر ڈالتا ہے جس کو کوئی بھی معاف نہیں کر سکتا۔ سب سے پہلے میرے درمیان اور اس مذہب کے درمیان جس پر میں گامزن تھا جو ٹکراؤ ہوا وہ مذہب شیعہ کا اخلاقی پہلو تھا دراصل اس مذہب کا اخلاقی پہلو بڑا گھناؤنا اور اتنا گھٹیا ہے کہ عقل انسانی جس کے بارے میں تصور نہیں کر سکتی۔ ابتداء میں میں خود کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتا تھا کہ شیعوں کی غیر اخلاقی حرکات دراصل یہ ان کے ذاتی افعال ہیں اور جن چیزوں کا گاہے بگاہے میں ملاحظہ کرتا رہتا تھا اس کا مذہب سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے حتی کہ وہ دن آگیا جب اللہ تعالی نے میری بصیرت کو کھول دیا اور میں حقیقت سے آشنا ہو گیا۔ دراصل مذہب شیعی میں جن چیزوں سے مجھے دلی کوفت ہوتی ہے وہ تین چیزیں ہیں۔

(1) صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو گالی گلوچ کرنا اور تبرے بازی کرنا۔

(2) متعہ جیسے قبیح فعل کے جائز ہونے کا عقیدہ رکھنا۔

(3) غیر اللہ سے دعائیں کرنا اور مخلوق سے حاجت روائی کی امید رکھنا۔

یہی وہ تین چیزیں ہیں جنھوں نے در حقیقت میری زندگی کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے میں نے اس باطل عقیدہ کو چھوڑ کر عقیدہ اہلِ السنت والجماعت کو اپنایا ہے دراصل یہی وہ عقیدہ ہے جس کی عداوت و دشمنی میں میری زندگی کے سنہری ایام گذرے تھے اور زمانہ جاہلیت میں جس کی طرف بغض کی نظر سے دیکھا کرتا تھا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو گالی دینا اور ان پر تبرا بازی کرنا

صفحہ 3 از 5