اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو…

اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو پالیا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 4 از 5

میرا حال یہ تھا کہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے بغض رکھتا تھا ان کے بارے میں میرا یہ خیال تھا کہ انھوں نے اہل بیت پر ظلم کیا ہے لیکن اس کے باوجود میں نے کبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو گالی دینے اور ان پر لعن و ملامت کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس خیال نے مجھے اس عمل بد پر اکسایا تھا اس وقت میرے نزدیک اس مسئلہ کی حیثیت محض اخلاقی تھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بارے میں اس وقت میری رائے کیا تھی ؟دراصل میں سمجھتا تھا کہ کوئی دین یا مذہب اپنے پیروکاروں کو اس طرح کا رویہ اختیار کرنے کی ترغیب نہیں دے سکتا میں نے کبھی بھی ایسا نہیں سنا کہ کوئی مذہب اپنے پیروکاروں کو مردہ لوگوں کو گالی دینے کی ترغیب دے اور ان پر لعن طعن کو باعث لذت کام سمجھے یہاں تک کہ قضائے حاجت کے دوران وقت گزارنے کا اس کو ذریعہ قرار دے العیاذ بااللہ شیعوں کے عالم محمد التوسیر کانی اپنی کتاب لالٓی الاخبار کے صفحہ نمبر 92 پر رقم طراز ہیں تم کو اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہیئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر لعن و ملامت اور گالی و گفتار کیلئے سب سے بہتر وقت اور موزوں مقام قضائے حاجت کا وقت اور مقام ہے چنانچہ استنجاء اور قتضائے حاجت کے وقت ہر مرتبہ خوب ٹھنڈے دماغ کے ساتھ یہ کلمات ورد زبان رکھا کرو ( نعوذ باللہ ) اللهم العن عمرؓ ثم ابابكرؓ وعمرؓ ثم عثمانؓ ثم معاويةؓ و عمرؓ ...... اللهم العن عائشةؓ وحفصةؓ وهنداؓ ام الحكمؓ والعن من رضى بافعالهم الى يوم القيامة

اے اللہ عمرؓ وابوبکرؓ اس کے بعد عثمانؓ اور پھر امیر معاویہؓ و عمرؓ پر لعنت فرما اے اللہ ! عائشہؓ حفصہؓ ہندہؓ ام حکمؓ پر اور جو ان کے کارناموں سے رضا مندی کا اظہار کرے ان پر قیامت تک لعنت نازل فرما۔

نعوذ باللہ چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے علاوہ باقی تمام صحابہؓ مرتد ہو گئے تھے

میں انگشت بدنداں تھا اور جس وقت مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ ہمارے مذہب شیعی میں جو من گھڑت روایات ہیں اور جو قصے کہانیاں ہیں یہ اسی کی کرشمہ سازیاں ہیں جس نے ہمیں بلاوجہ برانگیختہ کرنے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اور جو ان سے ہمدردی اور تعلق رکھے ان کو گالی دینے اور لعن طعن پر ابھارنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان روایات میں سب سے پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی تکفیر اور ارتداد کی تہمت لگا کر مذہب شیعی کے مشن کی ابتداء کی جاتی ہے اس کے بعد مذکورہ روایات کے روبرو اصحاب رسولﷺ پر لعن طعن کرنے کا مرحلہ آتا ہے آخر میں ان سے براءت کا اظہار کیا جاتا ہے یہ تمام کی تمام چیزیں قدیم اور جدید کتابوں میں ترتیب کے ساتھ لکھی ہوئی ہیں اور تمام شیعہ حضرات اس کو چاہتے ہیں ان میں سے ایک روایت یہ ہے جس کو رجال الکشی نے نقل کیا ہے حنان بن سدیر اپنے والد سدیر سے رویات کرتے ہیں کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا نبی کریم کی وفات کے بعد تین اشخاص کے علاوہ سارے کے سارے لوگ مرتد ہو گئے تھے میں نے کہا کہ وہ تین اشخاص کون ہیں؟ انھوں نے جواب دیا سیدنا مقداد بن الاسودؓ،سیدنا ابوذر غفاریؓ ، سیدناسلمان فارسیؓ بعد ازاں چند اور لوگوں کے ایمان کے بارے میں انکشاف ہو سکا اور فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی بیعت پر لوگوں کی نگاہیں جمی ہوئی تھیں ان لوگوں نے سیدناابوبکر صدیقؓ کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا اور بہ دل نخواستہ اور امیر المؤمنینؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے بیعت کی۔

( الکافی جلد 8 صحفہ 245 کتاب الدرجات صحفہ 613 ) بعض روایات میں ہے ان تین صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ساتھ چار صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین اور بھی آکرمل گئے تھے تاکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے زمانہ میں شیعوں کے اعتقاد کے مطابق مؤمنین کی تعداد سات تک ہو سکے لیکن سات کے عدد سے زیادہ اس وقت مؤمنین کے تعداد نہیں تھی مراد یہ کہ سات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ہی ایمان کے دائرے میں محفوظ رہ سکے تھے اور باقی نعوذ باللہ مرتد ہو گئے تھے

(سبحانك هذا بهتان عظيم)

اس بارے میں شیعوں کی جو روایات شاہد عدل ہیں ان میں سے سیدنا حارث بن مغیرہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے عبد الملک بن اعین کو ابو عبد اللہ سے سوال کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہﷺ ہی اسلام کی وفات کے بعد لوگ ہلاکت و بر بادی کا شکار ہو گئے تو ابو عبد اللہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم ایسا ہی ہے اے ابن اعین تمام کے تمام لوگ ہلاکت و بربادی کی وادی میں پڑے تھے ابن اعین کہتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد اب مشرق و مغرب میں کون صحیح ایمان پر ثابت قدم بچا تھا ؟ تو راوی کا کہنا ہے ابو عبد اللہ نے جواب دیا کہ گمراہی و بے راہ روی کے دہانے کھل گئے تھے خدا کی قسم ! تین افراد کے علاوہ تمام کے تمام ہلاک ہو گئے تھے۔

اللہ تعالی مہاجرین وانصار سے راضی ہو گئے

اس پر میں نے شیعی مذہب سے رجوع کا ارادہ کیا اور تفسیر کے مطالعہ کی غرض سے میں نے اللہ کا یہ قول نہایت تدبر و تفکر سے پڑھا۔

والسابقون الاولون من المهاجرين والانصار والذين اتبعوهم باحسان رضی الله عنهم ورضوا عنه واعد لهم جنت تجرى تحتها الانهار خالدين فيها ابدا ذلك الفوز العظيم

 (التوبة 110)

صفحہ 4 از 5