اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو…

اہل بیت کو چھوڑے بغیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو پالیا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 5 از 5

اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہو گیا اور وہ سب اس سے راضی ہو گئے اور اللہ نے ان کیلئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی مہاجرین اور انصار میں ںسے سابقین اولین سے راضی ہو گیا ہے سیدنا ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ علیؓ طلحہؓ، زبیرؓ، سعد بن ابی وقاصؓ ، عبد اللہ بن مسعودؓ ، سعد بن معاذؓ رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے حق میں یہ بالکل صریح ہے۔حالانکہ شیعہ ان کو ہدف مطاعن بناتے ہیں۔چنانچہ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ کیا ایسا ممکن ہے اور کیا یہ بات قرین قیاس ہے اور کیا کوئی عقل مند یہ باور کر سکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے سیدنا علیؓ پر ظلم روا ر کھتے ہوئے غاصبانہ طور پر ان سے زبردستی خلافت چھین لی ہو حالانکہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ہیں جن کے بارے میں قرآن کہہ رہا ہے کہ وہ ان سے راضی ہو گیا اور ان کیلئے جنت نعیم بطور مہمانی تیار ہے اگر نعوذ باللہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے سیدنا علیؓ پر ظلم کرنا ہوتا یا ان سے زبر دستی خلافت غصب کرنی ہوتی تو اللہ تعالی ان سے رضا مندی کا کیوں اعلان کرتا؟ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ وعثمانؓ وہ حضرات ہیں کہ نبی کریمﷺ دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئے ہیں کہ وہ ان سے راضی تھے اور ان کی مدح و ثنا میں آیات قرآنیہ کا نزول ہوا ہے پھر کیسے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہی لوگ جن کی مدح سرائی قرآن نے کی ہے رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد کفر کی گندگی میں جاگریں حتی کہ شیعہ نے ان پر بہتان باندھا ہے کہ انھوں نے قرآن کریم میں تحریف کی ہے اور معاملات دین کو تبدیل کر ڈالا ہے احکامِ شرعیہ میں ترمیم کی ہے۔

      شیعہ سے سوال

اس اقدام کی وجہ سے شیعوں نے اپنے آپ کو مجرمین کے کٹہرے میں لے جا کر کھڑا کر لیا ہے ہمارا شیعہ حضرات سے سوال ہے کہ کیا اللہ تعالی کے علم میں یہ بات تھی کہ اس کے رسولﷺ کی موت کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین مرتد ہو جائیں گے یا نہیں ؟ اگر جواب ہاں میں ہے اور یقینا ہاں میں ہو گا تو ہم کہیں گے کہ یہی اعتقاد تمام مسلمانوں کا ہے کہ اللہ تعالی کا علم ماضی حال مستقبل پر محیط ہے اس صورت میں ان آیات کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے گی جن میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی تعریف کی ہے کیونکہ شیعوں کے نزدیک رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سارے کے سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین یا تو منافق ہو گئے ہیں یا مرتد ہو گئے ہیں؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اپنے رسول کی مدح و ثنا کر کے اور اصحاب رسولﷺ سے رضا مندی کا اظہار کر کے (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ) اپنے رسولﷺ کو دھوکہ دینا چاہتا ہے اور کیا ان اصحابِ ثلاثہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کی رسول اللہﷺ سے رشتہ داری محض تماشہ تھی اور رسول اللہﷺ کا ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر اعتماد محض دکھلاوا تھا کہ آپﷺ کی وفات کے بعد یہ لوگ مرتد ہو گئے (سبحانک ہذا بہتان عظیم ) اس قسم کی بیہودہ سوچ دین کے ساتھ مذاق ہے اللہ تعالی کے بارے میں ہر گز زیب نہیں دیتی بلکہ یہ سوچ صریح اور کھلا کفر ہے۔فرض کریں اگر حقیقت یہی ہے جو شیعوں کا عقیدہ ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان کی حقیقی صفات کا قرآن کریم میں تذکرہ کر کے اپنے نبیﷺ کو اس بارے میں آگاہ کیوں نہ کیا ؟ رسول اللہﷺ کی موت کے بعد عنقریب وہ اپنی دینی حالت سے منہ موڑ کر ارتداد کی راہ اختیار کر لیں گے اس چیز سے اللہ تعالی نے اپنے نبی کو زندگی ہی میں آگاہ کیوں نہیں کیا ہم کہتے ہیں کہ یہ بالکل دروغ گوئی اور اتہام بازی ہے یہ حضرات اپنے اس موقف کی وجہ سے ملت اسلامیہ کا جنازہ نکالنے پر تلے ہوئے ہیں اور دین و مذہب کے نام پر اسلام کا قلع وقمع کر دینا چاہتے ہیں۔


صفحہ 5 از 5