Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات

  علی محمد الصلابی

جب طاعون کی وبا پھیل گئی اور کو اس کی خبر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ پہنچی تو آپؓ نے ابوعبیدہؓ کے نام ایک خط تحریر کیا، مقصد یہ تھا کہ ان کو وہاں سے نکال لیں، خط کا مضمون یہ تھا:

’’ سلام علیک، اما بعد: مجھے تم سے ایک اہم ضرورت آ پڑی ہے جس میں براہِ راست میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا جب تم اس خط کو پڑھو تو اس سے پہلے کہ خط اپنے ہاتھ میں رکھو میری طرف روانہ ہو جاؤ۔‘‘ 

حضرت ابو عبیدہؓ نے خط کے مضمون سے اندازہ کر لیا کہ مجھ پر شفقت و مہربانی کے پیش نظر امیر المؤمنین کا مقصد مجھے اس وبا سے بچانا ہے۔ چنانچہ آپؓ نے کہا کہ ’’اللہ تعالیٰ امیر المؤمنین کی مغفرت فرمائے!‘‘ اور پھر خط کا جواب یوں تحریر کیا:

’’اے امیر المؤمنین! آپؓ کو مجھ سے جو ضرورت ہے میں نے اسے بخوبی سمجھ لیا، میں مسلمانوں کے فوجی لشکر میں ہوں، ان کو چھوڑ کر جانے کو میری طبیعت تیار نہیں، میں ان کی جدائی کا ارادہ نہیں رکھتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اور ان کے بارے میں اپنا حکم و فیصلہ نافذ کر دے۔ لہٰذا اے امیر المؤمنین مجھے اپنے عزم و ارادے سے آزاد کر دیجیے اور مجھے اپنی فوج میں چھوڑ دیجیے۔‘‘

جب حضرت عمرؓ نے یہ جواب نامہ پڑھا تو رونے لگے۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین کیا حضرت ابو عبیدہؓ کی وفات ہو گئی؟ آپؓ نے فرمایا: گویا یہی سمجھو۔ راوی کابیان ہے کہ پھر آپؓ نے ابو عبیدہ کے نام خط لکھا:

’’سلام علیک، اما بعد: تم نے لوگوں کو پست اور گہری زمین میں اتارا ہے، انہیں لے کر بلند اور ستھری زمین میں جاؤ۔‘‘ 

چنانچہ جب امیر المؤمنین کا یہ خط حضرت ابو عبیدہؓ کو ملا تو آپؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو بلایا اور کہا: اے ابو موسیٰؓ میرے پاس امیر المؤمنین کا خط آیا ہے، تم اسے دیکھ رہے ہو، لہٰذا جاؤ، اور لوگوں کے لیے بہترین رہائش گاہ تلاش کرو اور پھر ان کو لے کر میں تمہارے پاس آتا ہوں۔ ابو موسیٰؓ اپنے گھر واپس گئے وہاں دیکھا کہ ان کی بیوی بھی طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو چکی ہیں، یہ دیکھ کر ابو موسیٰؓ رضی اللہ عنہ ابوعبیدہؓ کے پاس گئے اور انہیں صورتِ حال سے آگاہ کیا، پھر حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنا گھوڑا تیار کرنے کا حکم دیا اور جونہی اپنا پیر گھوڑے کے پالان پر رکھا طاعون نے ان کو آ دبوچا، پھر آپؓ کہنے لگے: اللہ کی قسم میں بھی اس میں مبتلا ہو گیا ہوں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 35)

عروہ سے روایت ہے کہ طاعون عمواس کی تکلیف سے حضرت ابو عبیدہؓ اور ان کے گھرانے کے لوگ محفوظ تھے، لیکن ابوعبیدہ نے کہا: اے اللہ! آل ابوعبیدہؓ میں تیرا حق ہے، پھر ان کو ایک پھنسی نکلی، آپؓ اس کو دیکھنے لگے، لوگوں نے کہا: یہ تو بہت معمولی چیز ہے۔ آپؓ نے کہا: نہیں، میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس پھنسی نماز خم میں ضرور برکت دے گا۔ 

(تاریخ الذہبی: صفحہ 174)

طاعون کی بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے آپؓ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور یہ خطبہ دیا: اے لوگو! یہ بیماری تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے رحمت ہے، اور تمہارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت ہے، اور تم سے پہلے نیکوکاروں کی موت کا سبب ہے، ابوعبیدہ اللہ سے سوال کرتا ہے کہ اپنی طرف سے وہ اس کا طاعون حصہ اسے بھی دے دے۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 36)

چنانچہ جب آپؓ طاعون میں مبتلا ہو گئے تو مسلمانوں کو بلوایا، وہ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا: میں تم کو ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں، اگر تم اسے مان گئے تو جب تک زندہ رہو گے اور مرنے کے بعد بھی بخیر وعافیت رہو گے، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، روزے رکھو، صدقہ و خیرات کرو، حج و عمرہ کرو، آپس میں محبت اور صلہ رحمی کو رواج دو، اپنے حکمرانوں سے سچ بات کہو، ان کو دھوکہ نہ دو، یاد رہے! دنیا تمہیں غافل نہ بنا دے، کیونکہ ایک شخص اگرچہ ہزاروں سال کی عمر سے نواز دیا جائے تاہم اسے اسی چوکھٹ یعنی موت سے گزرنا ہے جس سے اس وقت میں گزر رہا ہوں، اور تم دیکھ رہے ہو اللہ نے تمام انسانوں پر موت لکھ دی ہے، سب یقیناً مرنے والے ہیں، ان میں سب سے ہوشیار وہ ہے جو اپنے رب کا سب سے زیادہ مطیع، اور آخرت کے لیے سب سے زیادہ توشہ تیار کرنے والا ہے۔ پھر آپؓ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے کہا: اے معاذ! لوگوں کو نماز پڑھاؤ، آپؓ نے سب کو نماز پڑھائی، اور پھر ابو عبیدہ رحمہ اللہ و مغفرتہ ورضوانہ کی وفات ہو گئی۔ 

(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 306)

اس کے بعد حضرت معاذ بن جبلؓ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور کہا: ’’اے لوگو! اللہ سے توبہ کرو اور سچے دل سے توبہ کرو، کیونکہ بندہ اگر اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو تو اللہ پر اس کا حق ہوتا ہے کہ وہ اس کے گناہوں کو بخش دے، اور جس آدمی پر قرض ہو وہ اسے ادا کر دے، کیونکہ انسان اپنے قرض کے بدلے رہن پر ہوتا ہے۔ تم میں سے جس نے کسی مسلمان سے لڑائی کی حالت میں صبح کی اسے چاہیے کہ اس سے جا کر ملے، اور صلح کر لے، اور اس سے مصافحہ کر لے، کیونکہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔ اے مسلمانو! تمہیں ایک عظیم شخصیت کی موت کا صدمہ پہنچا ہے، اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے نرم طبیعت والا، نیک و صاف دل، کینہ و برائی سے دور، عوام کے لیے خیر خواہ اور شفقت و مہربانی والا، ان سے بڑھ کر کوئی اور ہو، پس تم ان کے لیے رحمت الہٰی کی دعا کرو، پھر ان پر نماز جنازہ کے لیے جمع ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ ان کے تمام گناہوں سے درگزر فرمائے۔ اللہ کی قسم اِن جیسا تم پر کوئی حاکم نہ آئے گا۔‘‘ یہ سن کر لوگ اکٹھے ہوئے اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یہاں تک کہ جب آپ کے جسد خاکی کو قبر کے پاس لایا گیا تو آپؓ کی قبر میں معاذ، عمرو بن عاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہم داخل ہوئے، پھر جب لوگوں نے آپؓ کی قبر پر مٹی ڈالنا شروع کی تو حضرت معاذؓ نے فرمایا:

’’اے ابوعبیدہ! تجھ پر اللہ کی رحمت برسے۔ اللہ کی قسم میں ابوعبیدہ کے بارے میں جتنا جانتا ہوں اتنی تعریف ضرور بالضرور کروں گا۔ یقیناً جھوٹی تعریف نہ کروں گا، مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کا غصہ مجھے نہ گھیر لے۔ اے ابوعبیدہ! میرے علم کے مطابق تو ان پارسا لوگوں میں سے تھا جو اللہ کو بکثرت یاد کرتے ہیں، اور تیری ذات ان لوگوں میں سے تھی جو روئے زمین پر عاجزی و تواضع سے چلتے ہیں، اور جب جاہل و ناعاقبت اندیش لوگ انہیں مخاطب کرتے ہیں تو ان سے درگزر کرتے ہیں۔ اور تو ان لوگوں میں سے تھا، جو اپنے رب کے لیے سجدہ و قیام کی حالت میں رات گزارتے ہیں، تو ان عادل لوگوں میں سے تھا کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو اسراف نہیں کرتے، اور نہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں، بلکہ درمیانی راستہ اپناتے ہیں۔ اللہ کی قسم! تم میرے علم کی حد تک عاجزی کرنے والوں، تواضع پسندوں اور یتیموں و مسکینوں پر رحم کرنے والوں میں سے تھے اور ان میں سے تھے جو سنگ دل و متکبر سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘ 

(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 307 )

حضرت ابو عبیدہؓ کے فوت ہونے پر حضرت معاذؓ سے بڑھ کر کوئی غمگین اور پریشان نہ تھا۔ 

(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 307)

حضرت معاذؓ نے سیدنا عمرؓ کے پاس حضرت ابو عبیدہؓ کی وفات کی خبر دیتے ہوئے یہ خط لکھا:

’’اما بعد! میں اس شخص کے سلسلہ میں اللہ سے ثواب کی امید رکھوں جو اللہ کا امین تھا اور اس کی نگاہ میں اللہ کی بڑی عظمت تھی، اے امیر المؤمنین! وہ ہمیں اور آپ کو بھی نہایت عزیز تھا، میری مراد حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ ہے اللہ تعالیٰ ان کے تمام گناہوں کو بخش دے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے پاس نیکوکاروں میں سے ہیں، ان کے حق میں بھلائی کے لیے اللہ پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ میں نے یہ خط آپ کے پاس تحریر کیا ہے درآنحالیکہ موت اور طاعون کی وباء نے پڑاؤ ڈال دیا ہے، کسی کی موت اس کی ذات سے خطا نہیں کر سکی، جو اب تک زندہ ہے وہ بھی عنقریب وفات پانے والا ہے۔ اللہ نے اس کے لیے اپنے پاس جو کچھ باقی رکھا ہے وہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اس نے ہمیں زندہ رکھا یا فوت کر دیا تو بھی اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں اور عوام و خواص کی طرف سے آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ آپ اس کی رحمت، مغفرت، رضامندی اور جنت سے نوازے جائیں۔ والسلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘ 

(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 309)

جب یہ خط سیدنا عمرؓ کے پاس پہنچا تو آپؓ اس کو پڑھ کر رونے لگے اور بہت زیادہ روئے، اور ساتھیوں کو ابوعبیدہؓ کی وفات کی خبر سنائی۔ 

(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 310) 

خبر سن کر سب لوگ رونے لگے اور سب کے سب قضاء و قدر سے راضی رہتے ہوئے بہت ہی رنجیدہ و غمگین ہوئے۔