حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

’’اے ابوعبیدہ! تجھ پر اللہ کی رحمت برسے۔ اللہ کی قسم میں ابوعبیدہ کے بارے میں جتنا جانتا ہوں اتنی تعریف ضرور بالضرور کروں گا۔ یقیناً جھوٹی تعریف نہ کروں گا، مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کا غصہ مجھے نہ گھیر لے۔ اے ابوعبیدہ! میرے علم کے مطابق تو ان پارسا لوگوں میں سے تھا جو اللہ کو بکثرت یاد کرتے ہیں، اور تیری ذات ان لوگوں میں سے تھی جو روئے زمین پر عاجزی و تواضع سے چلتے ہیں، اور جب جاہل و ناعاقبت اندیش لوگ انہیں مخاطب کرتے ہیں تو ان سے درگزر کرتے ہیں۔ اور تو ان لوگوں میں سے تھا، جو اپنے رب کے لیے سجدہ و قیام کی حالت میں رات گزارتے ہیں، تو ان عادل لوگوں میں سے تھا کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو اسراف نہیں کرتے، اور نہ کنجوسی سے کام لیتے ہیں، بلکہ درمیانی راستہ اپناتے ہیں۔ اللہ کی قسم! تم میرے علم کی حد تک عاجزی کرنے والوں، تواضع پسندوں اور یتیموں و مسکینوں پر رحم کرنے والوں میں سے تھے اور ان میں سے تھے جو سنگ دل و متکبر سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘ 

(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 307 )

حضرت ابو عبیدہؓ کے فوت ہونے پر حضرت معاذؓ سے بڑھ کر کوئی غمگین اور پریشان نہ تھا۔ 

(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 307)

حضرت معاذؓ نے سیدنا عمرؓ کے پاس حضرت ابو عبیدہؓ کی وفات کی خبر دیتے ہوئے یہ خط لکھا:

’’اما بعد! میں اس شخص کے سلسلہ میں اللہ سے ثواب کی امید رکھوں جو اللہ کا امین تھا اور اس کی نگاہ میں اللہ کی بڑی عظمت تھی، اے امیر المؤمنین! وہ ہمیں اور آپ کو بھی نہایت عزیز تھا، میری مراد حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ ہے اللہ تعالیٰ ان کے تمام گناہوں کو بخش دے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے پاس نیکوکاروں میں سے ہیں، ان کے حق میں بھلائی کے لیے اللہ پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ میں نے یہ خط آپ کے پاس تحریر کیا ہے درآنحالیکہ موت اور طاعون کی وباء نے پڑاؤ ڈال دیا ہے، کسی کی موت اس کی ذات سے خطا نہیں کر سکی، جو اب تک زندہ ہے وہ بھی عنقریب وفات پانے والا ہے۔ اللہ نے اس کے لیے اپنے پاس جو کچھ باقی رکھا ہے وہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اس نے ہمیں زندہ رکھا یا فوت کر دیا تو بھی اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں اور عوام و خواص کی طرف سے آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ آپ اس کی رحمت، مغفرت، رضامندی اور جنت سے نوازے جائیں۔ والسلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘ 

(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 309)

جب یہ خط سیدنا عمرؓ کے پاس پہنچا تو آپؓ اس کو پڑھ کر رونے لگے اور بہت زیادہ روئے، اور ساتھیوں کو ابوعبیدہؓ کی وفات کی خبر سنائی۔ 

(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 310) 

خبر سن کر سب لوگ رونے لگے اور سب کے سب قضاء و قدر سے راضی رہتے ہوئے بہت ہی رنجیدہ و غمگین ہوئے۔


صفحہ 2 از 2