خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا - ردِ رافضیت…

خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 1 از 9

خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا

 سرگزشت۔۔۔ حضرت مولانا سید امیر رضا شاہ قمی

سید امیر رضا شاہ رافضی مذہب کے عالم تھے جنہوں نے پانچ سال تک ابتدائی تعلیم جامعۃ المنتظر لاہور سے حاصل کی ۔پھر اعلی تعلیم کے لیے قم یونیورسٹی ایران میں داخل ہوئے۔ وہاں 12 سال بعد رافضی مذہب کی سب سے بڑی ڈگری حاصل کر کے مجتہد بن گئے چند سال قم یونیورسٹی ایران میں بطور استاد خدمات سر انجام دی ایران کے رافضی انقلاب کے بعد خاص مقصد کے لیے انہیں پاکستان بھیجا گیا۔پاکستان میں انہوں نے رافضی رہنما علامہ عارف الحسینی کے ساتھ مل کر اتحاد بین المسلمین کے نام سے رافضی انقلاب کا راستہ ہموار کرنے کے مشن پر کام کیا۔ عارف الحسینی کے قتل کی ایف آئی آر میں بطور گواہ ان کا نام درج ہے۔ ہدایت کی روشنی پانے کے بعد انہوں نے اپنے انٹرویو میں بہت سے راز افشا کیے،ایران کی رافضی حکومت کے خفیہ عزائم سے پردہ اٹھایا۔ اور آیت اللہ خمینی کا اصل روز ظاہر کر دیا۔اور ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی حقائق بیان کیے اور دل ہلا دینے والی داستان صفحہ قرطاس پر رقم کر کے مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے مشن کی سچائیاں روز روشن کی طرح عیاں کر دی ہیں۔

 آئیے ۔۔۔ ذرا ان کی زبانی اس روداد کی تفصیل سنیے۔۔

 اپنا تعارف۔۔ اپنی زبانی

میرا تعلق رافضی مذہب کے پیروکار انتہائی مالدار خاندان سے ہے جو کہ جامعہ عارف الحسینی مدینہ کالونی پشاور کے پہلو میں آباد ہے۔ میرے والد محترم سید نور احمد شاہ مالدار تجارت پیشہ آدمی تھے۔ میری پیدائش 1954 ء کو پشاور میں ہوئی، پرائمری تک تعلیم رسالدار پرائمری سکول امام بارگاہ سے حاصل کی۔ اس دور کے بہت بڑے رافضی ذاکر و عالم سید نجم الحسن کراروی (جو کتاب"چودہ ستارے" اور" بہتر تارے" کے مؤلف ہیں) کے ساتھ والد صاحب کی خاصی عقیدت تھی والد صاحب نے اس دور میں امام بارگاہ کی تعمیر کے لیے پانچ لاکھ روپے کی خطیر رقم بطور چندہ ان کو عنایت کی تو علامہ کراروی نے میرے والد صاحب سے کہا کہ آپ اس بچے کو رافضی مذہب کی تعلیم دلائیں۔ تو میرے والد صاحب مجھے رافضی عالم بنانے پر تیار ہو گئے.

 جامعۃ المنتظر لاہور میں داخلہ

علامہ نجم الحسن کراروی نے 1967 ء میں( جس وقت میری عمر 13 سال تھی) مجھے جامعہ المنتظر لاہور میں داخل کرا دیا ۔لاہور سے میں نے پانچ سال تک ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ میری ذہانت اور تعلیم میں دلچسپی دیکھتے ہوئے اساتذہ نے میرے والد محترم کو مجھے اعلی تعلیم کے لیے قم یونیورسٹی ایران بھیجنے کا مشورہ دیا۔

 ایران کے اندر قم یونیورسٹی میں داخلہ

1972 میں(جب میری عمر 18 سال تھی) مجھے اعلی تعلیم کے لیے قم یونیورسٹی ایران میں داخل کرا دیا گیا۔

ایران کے حالات

اس وقت ایران میں رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت تھی ۔شاہ ایران کے دور میں مذہبی رہنماؤں کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں تھی۔۔۔ظلم و جبر کا دور دورہ تھا آزادی اظہار کا تصور بھی گناہ تھا۔۔ایران کی عوام شاہی غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔۔۔جو عالم شاہ کے ظلم کی نشاندہی کرتا، اس کو جیل میں ڈال دیا جاتا۔۔حکومت کی مخالفت کی بنا پر درجنوں علماء کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔۔۔حوزہ علمیہ ایران کے استاد آیت اللہ خمینی بھی کئی دوسرے رافضی عالموں کی طرح بادشاہ کی حکومت کی مخالفت کی پاداش میں فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ شاہ کے خلاف تحریک کے آغاز میں کوئی مذہبی عنصر شامل نہ تھا۔بلکہ یہ تحریک خالص شاہ کے ظلم و جبر کے خلاف شروع ہوئی جس میں رافضی، سنی، عیسائی ،یہودی، ہندو، بدھ مت ،سمیت تمام مذاہب کے پیروکار شامل تھے۔آہستہ آہستہ اس تحریک کا رخ"لا رافضیہ و لاسنیہ، اسلامیہ اسلامیہ"جیسے خوش نما نعرا کی طرف موڑ دیا گیا ۔اسلامی انقلاب برپا کرنے کے نام پر لوگ اپنی جان، مال، اولاد، تک قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے خلاف انقلابی تحریک کے پس منظر میں یہ بات کہنا چاہوں گا، کہ دوسری جنگ عظیم 1945 ء سے 1975 ء تک شہنشاہیت کے عروج کا دور تھا۔ اس دور میں جو اصلاحات ہوئی انہیں سفید انقلاب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے درج ذیل 18 اصول وقت کے ساتھ ساتھ مرتب ہوتے گئے۔ یہی انقلابی اصول شاہ کے گلے میں پھندہ بن گئے۔

سفید انقلاب کے اٹھارہ أصول

 1 زمین اس کی جو کاشت کرتا ہے۔

 2 جنگلوں اور چراگاہوں کو قومی ملکیت میں لینا.

 3 سرکاری کارخانوں کو فرضی ناموں سے شاہی خاندان کے افراد کی تحویل میں دینا.

 4 خواتین کے لیے انتخابات میں رائے دہی کا اعلان۔

 5 تعلیم بالغاں کے نام پر فحاشی کا فروغ۔

 6 دیہات میں نرسوں کے ساتھ مردوں کی مخلوط تعیناتی۔

 7 تعمیر و ترقی کے نام پر شاہ کے اقرباء پروری۔

 8 دیہات میں پنچائیتی نظام کے ذریعے حکومتی جاسوسی۔

 9 پانی کے بہم رسانی کے نام پر لوگوں کو بے گھر کرنا۔

 10 تعمیر و ترقی کے نام پر امریکی مداخلت قائم کرنا۔

 11 اصلاحی تعلیمی نظام کے نام پر غیر مسلم افکار کو فروغ دینا۔

 12 ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بہتات۔

 13 مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے نام پر غیر اسلامی سرگرمیوں کی ترویج۔

 14 امریکی ذہنی غلامی کے لیے آٹھ سال کے بچوں کے لیے انگریزی کی لازمی اور مفت تعلیم۔

 15 امریکی این جی اوزکی طرف سے ضرورت مند ماؤں اور نومولود بچوں کے لیے مفت خوراک کا نظام۔

 16 سوشل سکیورٹی کے نام پر تمام ایرانیوں پر حکومتی کنٹرول۔

 17 زمین، مکان کے لیے قرضوں کے نام پر سودی نظام کی ترویج۔

 18 رشوت ،بدعنوانی اور بے ایمانی کے نام پر امریکی افسران کو بھاری معاوضے کے ساتھ حکومتی شعبوں پر مسلط کرنا۔

 شاہ کے خلاف تحریک

صفحہ 1 از 9