خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا - ردِ رافضیت…

خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 9

اگرچہ اس سفید انقلاب نے ایران کو مادی ترقی اور خوشحالی میں آگے بڑھایا لیکن ایرانی عوام عیش پرستی، فحاشی میں بری طرح پھنس کر قحبہ خانوں کے دلدادہ ہو چکے تھے۔۔۔اسلام سے بیزاری کھلے عام دیکھنے میں آنے لگی۔۔پورے ملک میں امریکی تسلط کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہونے لگیں ۔۔۔ملک کے اندر نصاب ہٹنا شروع ہوگیا۔۔اور لاقانونیت نے ڈیرے ڈال دیے۔۔ایران کی عوام حکومتی ظلم و جبر کی چکی میں بری طرح پسنے لگی۔۔ایسے وقت میں حکومت کے خلاف ذرا سی بات کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔۔۔یہی وہ وقت تھا جب شاہی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز عوام کے دل کی آواز بن گئی۔۔ ایران کا پورا مذہبی طبقہ شاہ کی ظالمانہ حکومت کا شدید مخالف تھا۔۔۔جو عالم حکومت پر تنقید کرتا اسے جیل میں ڈال دیا جاتا اور طرح طرح کے اذیتیں دے کر ہلاک کر دیا جاتا تھا۔۔۔ شاہ ایران نے حکومت کی مخالفت کے جرم میں بڑے بڑے دیگر علماء کی طرح رافضی پیشوا آیت اللہ خمینی کو بھی جلا وطن کر دیا۔۔شاہ کی حکومت کے خلاف منظم جدوجہد کے دوران وہ فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔۔۔انہوں نے فرانس، روس اور دیگر امریکہ مخالف حکومتوں کے تعاون سے شاہ کے خلاف تحریک کو کنٹرول کیا۔

تحریک کی کامیابی

میں اس وقت قم یونیورسٹی کا طالب علم تھا ۔اس تحریک میں ہماری یونیورسٹی کے طلباء نے بھرپور جدوجہد کی۔ یہ تحریک کا ایک طوفان تھا۔ جس نے چند ہی دنوں میں شاہ کا غرور ملیامیٹ کر کے رکھ دیا۔ ہر مذہب ،مسلک اور ہر طبقہ کے لوگ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ امریکہ کی پوری طاقت شاہ کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکی اور یہ تحریک کامیاب ہو گئی۔

 خمینی کی آمد

تحریک کی کامیابی کے بعد خمینی کی فرانس سے آمد کا اعلان ہوا تو پورے ایران میں جشن کا سماں تھا۔ ہر شخص خمینی کو اپنا رہبر اور اپنا نجات دہندہ سمجھ رہا تھا اہلِ سنت کی تمام آبادی حتٰی کہ تمام غیر مسلم بھی خمینی کو مسیحا کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔ یکم فروری 1979 ء کو خمینی ایران ایئرپورٹ پر اترا، تو لاکھوں لوگ اس کا دیدار کرنے کے لیے بے چین تھے۔ خمینی کے ساتھ عقیدت کا یہ عالم تھا کہ خمینی جس کار میں سوار ہوا اس کو ہماری یونیورسٹی کے طالب علموں کے ایک گروپ نے سروں پر اٹھا لیا۔ خمینی کی کار اٹھانے والوں میں خود میں بھی شامل تھا ۔ہم نے لمبے فاصلے تک کار کو سروں پر اٹھائے رکھا ۔شاہ کے خلاف تحریک کی کامیابی اور خمینی کی ایران آمد کے بعد اس تحریک کو انقلاب کا نام دے دیا گیا ،بعد میں سنیوں کو پیچھے کر کے یہ تحریک خالص رافضی انقلاب کے روپ میں ظاہر ہوگئی۔

 ایرانی انقلاب کے بعد اہلِ سنت کی حالت زار

ایران میں رافضی انقلاب کے بعد اہلِ سنت کی حالت زار سے متعلق سوال پر امیر رضا قمی نے فرمایا:

ایران میں رافضی انقلاب سے بیشتر طہران میں اہلِ سنت کی ایک مسجد ہوا کرتی تھی۔ جسے شاہی مسجد کہا جاتا تھا۔اس مسجد میں دیگر مسلم ممالک کے سفراء نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔ اس مسجد کا پیش امام ایک مصری عالم تھا ۔جس کا نام مجھے یاد نہیں آرہا ۔وہ امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دیا کرتا تھا۔خمینی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلا حکم یہ جاری کیا کہ یہ مسجد چونکہ اہلِ بیت کے ساتھ بغض رکھنے والوں کی ہے۔ اس لیے یہ مسجد فوری طور پر مسمار کر دی جائے۔ اس حکم کے بعد صرف ایک رات میں ہی یہ مسجد ملیامیٹ کر دی گئی۔ ملک بھر کے تمام سنی علماء کو پابند کر دیا گیا کہ جلسے اور جلوس تمہارے لیے ممنوع قرار دے دیے گئے ہیں۔خطبات جمعہ کے لیے لاؤڈ سپیکر پر پابندی لگا دی گئی۔ جبکہ رافضیوں کے امام باڑے اس پابندی سے مستثنٰی رہے۔ جب سنیوں کی طرف سے اس پابندی کی وجہ دریافت کی گئی تو انہیں بتایا گیا کہ ایران میں چونکہ رافضیوں کی کثرت ہے۔ اس وجہ سے سنیوں کے خطبات لاؤڈ سپیکر پر دینے سے رافضیوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ اس لیے تمہیں لاؤڈ سپیکر پر تقریر کی اجازت نہیں ہے۔

 حکومتی عہدوں سے محرومی

ایران کی فوج میں تمام سنی افسران کو گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں اذیتیں دے دے کر قتل کر دیا گیا۔بیورو کریسی کہ بڑے بڑے سنی افسران کو خمینی کے حکم نامہ کے تحت بغیر کسی عدالت میں پیش کیے قتل کر دیا گیا۔ ایران کے آئین میں واضح طور پر یہ شق داخل کی گئی ،کہ کوئی سنی شخص کسی اعلیٰ حکومتی عہدے، حتٰی کہ کسی تھانے کا ایس ایچ او تک بننے کا اہل نہیں ہوگا۔ ایران کے آئین میں اپنی مرضی سے رد و بدل کر کے اہلِ سنت کی تمام آبادی کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔

 درس قرآن پر پابندی

رافضی انقلاب سے پہلے شاہ ایران نے 30 فیصد اہلِ سنت کو مکمل حقوق دیے ہوئے تھے۔ زاہدان شہر کے مولانا عبدالعزیز جو دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے ۔ریڈیو اسٹیشن زاہدان سے فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں درس قرآن دیتے تھے۔ اردو پروگرام شام چھ بجے پاکستان میں بھی سنا جاتا تھا ۔رافضی انقلاب کے بعد خمینی نے یہ پروگرام بند کرادیا۔

 متعہ کا رواج

شاہ نے رافضیوں کا لذت بخش متعہ قانونی طور پر بند کیا ہوا تھا ۔شاہ ایران رافضی علماء اور عوام کو کہتا تھا کہ میں نے تمہارے لیے"گمرک"(چکلے) بنا دیے ہیں۔ رقم دے کر اپنی خواہشات پوری کریں۔ لیکن اسلام کے نام پر متعہ (زنا) نہ کریں. حکومت کو پتہ چلتا کہ کسی رافضی عالم نے متعہ کیا ہے۔ تو اسے تین سال کے لیے جیل میں بند کر دیا جاتا تھا۔ شاہ کے جانے کے بعد خمینی نےگمرکوں کو بند کروا کر متعہ گھر عام کر دیا۔

 امیر رضا کی خمینی سے ملاقات

آیت اللہ خمینی سے ملاقات کے سوال پر امیر رضا قمی نے فرمایا: اس وقت میرے لیے خمینی کا درجہ ایک نائب امام کا تھا۔ اس لیے خمینی کے ساتھ انتہائی درجے کی عقیدت کی وجہ سے ملاقات کا شرف ہمارے لیے کائنات کی سب سے بڑی نعمت تھی۔ میں نے ایران میں اپنے قیام کے دوران خمینی سے 35 بار ملاقات کی ان ملاقاتوں میں بعض خارجی امور سے متعلق مشاورت کی ملاقاتیں تھیں

خمینی کے عزائم

صفحہ 2 از 9