خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا - ردِ رافضیت…

خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 3 از 9

انقلاب کی کامیابی کے بعد خمینی کے عزائم کے متعلق سوال کے جواب میں امیر رضا قمی نے فرمایا: خمینی نے ایران کے اندر مکمل طور پر حکومتی گرفت کے بعد پوری دنیا میں رافضی انقلاب برآمد کرنے کے لیے بھرپور مہم شروع کر دی. اس مقصد کے لیے پہلے مرحلے میں پوری دنیا کے تمام ممالک خصوصا مسلمان ملکوں میں موجودہ رافضی آبادی کو متحرک کرنے کا پروگرام بنایا گیا. دوسرے مرحلے کا آغاز رافضی آبادی کی بیداری کے بعد ہونا تھا۔جس کے تحت رافضی آبادی کو مکمل طور پر مسلح کر کے مسلمان ملکوں کی حکومتوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا تھا۔

 تکمیل عزائم کی کوششیں

پہلے مرحلے کے آغاز کے طور پر دیگر ملکوں کی طرح پاکستان اور ہندوستان سے رافضی علماء کو بھی ایران بلایا اور انہیں پاکستان میں رافضی انقلاب برپا کرنے کا مشن سونپا گیا۔

1979 ء میں ایران کے رافضی انقلاب سے پہلے پاکستان میں رافضیوں کے پاس کوئی سیاسی قیادت یاجماعت موجود نہ تھی اور نہ ہی کسی رافضی نے کبھی پاکستان میں رافضی انقلاب کے بارے میں سوچا تھا۔خمینی کی دعوت پر پاکستان کے رافضی علماء کا وفد ایران پہنچا ،وہاں تین دن تک اجلاس ہوتا رہا۔ اس وقت میں بھی اس اجلاس میں شریک رہا۔ اجلاس کے آخری دن خمینی نے خود پاکستان کے لیے مفتی جعفر حسین کو قائد ملت جعفریہ پاکستان نامزد کیا

اور انھیں کروڑوں روپے کے فنڈز کے ساتھ پاکستان میں رافضی انقلاب کا راستہ ہموار کرنے کا مشن دے کر روانہ کیا ۔پاکستان پہنچنے کے بعد مفتی جعفر حسین نے غریب عوام دینی جماعتوں اور رافضی علماء کو لاکھوں روپے تقسیم کر کے متحرک کر دیا۔ ایران کی حکومت کی طرف سے تمام رقم صرف رافضیوں کے لیے ہی مخصوص نہ تھی ۔بلکہ بریلوی، دیوبندی اور اہلِ حدیث علماء کے لیے بھی خصوصی فنڈ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔خاص طور پر جماعت اسلامی کے لیے ایک خطیررقم مخصوص کی گئی تھی۔ اس وقت میری موجودگی میں اس رقم میں سےنصف رقم کےخرد برد کےانکشافات بھی ہوئے تھے۔لیکن اسے حکومت کی طرف سے نظر انداز کر دیا گیا۔پاکستان میں مفتی جعفر حسین نے تمام رافضیوں کو اکٹھا کر کے جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں اسلام آباد کا گھیراؤ کر لیا اور اپنے مطالبات ڈنڈے کے زور پر منظور کروائے۔ایرانی حکومت نے سفارت خانوں کے ذریعے رافضیوں کو مسلح کرنے کے لیے اسلحہ اور کمانڈوز روانہ کیے پاکستان میں رافضی انقلاب برپا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔

 سپاہ صحابہؓ کا سد راہ بننا

مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کی جدوجہد کے سوال پر امیر رضا قمی نے فرمایا۔: 1985ء میں مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ نے ایرانی عزائم کو بھانپ کر سپاہ صحابہؓ کے نام سے جماعت قائم کی۔ تو اس جماعت کی باز گشت ایرانی حکومت کے اعلیٰ حلقوں میں سنی گئی، شروع شروع میں مولانا حق نواز جھنگویؒ کی آواز کو زیادہ اہمیت نہ دی گئی۔ لیکن جب سپاہ صحابہؓ کافی پھیلنے لگی تو ایران کے مذہبی حلقوں میں زبردست تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ کیونکہ مولانا حق نواز جھنگویؒ کی جدوجہد سے ایران کی سنی عوام میں بھی واضح طور پر بیداری محسوس کی جانے لگی تھی۔

سید امیر رضا قمیؒ کی پاکستان آمد

قائد ملت جعفریہ مفتی جعفر حسین کی وفات کے بعد مولانا عارف حسین الحسینی آف پارا چنار کو تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا قائد مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اپنی نامزدگی کے بعد پشاور شہر میں اپنی جماعت کا بہت بڑا سیکرٹریٹ قائم کیا ۔جس میں عارف حسینی کے نام سے ایک بہت بڑے مدرسے کا پروگرام بھی شامل تھا۔عارف حسینی چونکہ پارا چنار کا رہنے والا تھا۔ اسے پشتو زبان سے زیادہ واقفیت نہ تھی۔ انہوں نے ملت جعفریہ کا پیغام عام پٹھانوں کے پاس پہنچانے کے لیے کسی پشتون عالم کی ضرورت محسوس کی۔ اس مقصد کے لیے اس نے علامہ خمینی کو ایک خط لکھا کہ ہمارے پاس پشتو جانے والا عالم بھیجا جائے۔

میں اس وقت قم یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا تھا ۔عارف حسینی کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے میرا نام تجویز کیا گیا۔ فوری طور پر مجھے تین دن کی خاص تربیت دے کر پشاور کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ میری خاص تربیت میں یہ بات سب سے اہم تھی کہ میں پٹھان قوم کے اندر رافضی انقلاب کی راہ ہموار کرنے کی جدوجہد کروں اور پٹھان قوم کے بچے چونکہ ابتداء سے ہی اسلحہ وغیرہ سے آشنا ہوتے ہیں۔ اس لیے خاص کر پٹھان نوجوانوں کو مسلح جدوجہد میں شامل کرنے کے لیے مجھے خاص حکم دیا تھا۔اس وقت 1984 ء میں مجھے پندرہ ہزار روپے ایرانی حکومت اور دس ہزار روپے عارف حسینی کی طرف سے بطور تنخواہ دینے کا حکم ہوا۔ میرے مشن میں پٹھان قوم کے دیہاتوں خاص طور پر قریہ قریہ جا کر ایرانی انقلاب کے فوائد بیان کرنا اور خمینی کو عالم اسلام کا سب سے بڑا رہبر اور نجات دہندہ ثابت کرنا شامل تھا۔

 اتحاد بین المسلمین قائم کرنے کا مشورہ

پشتون علاقے کے دیہاتوں کا دورہ کرنے کے بعد میں نے عارف حسینی کو مشورہ دیا، کہ آپ ہر جگہ اہلِ بیت کی بات کرتے ہیں۔پاکستان میں چونکہ سنی اکثریت ہے پاکستان کے لوگ اہلِ بیت کے نام پر زیادہ متحرک نہیں ہو رہے۔ جب ہم خمینی کے ہمراہ اہلِ بیت کا ذکر کرتے ہیں۔ تو لوگ ہمیں رافضی جان کر ہماری بات توجہ سے نہیں سن رہے، میں نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں کو کوئی ایسا نعرہ دیا جائے جس کی طرف عام لوگوں کی بھی توجہ ہو جائے

صفحہ 3 از 9