خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا - ردِ رافضیت…

خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 4 از 9

انہوں نے مجھ سے پوچھا تو پھر کیا نعرہ ہونا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ فقہ جعفریہ کی بات کریں گے تو لوگ توجہ نہیں دیں گے۔ اگر آپ ایرانی انقلاب پاکستان میں برپا کرنا چاہتے ہیں۔ تو پھر فقہ جعفریہ کا نام استعمال نہ کریں ۔بلکہ ایسا نام ہو جو سب کے لیے یکساں ہو ۔تو ہم نے غور و غوض کے بعد اتحاد بین المسلمین کے نام سے تنظیم قائم کی۔ میں نے کہا آپ تقیہ کر کے جس کی وجہ سے آپ کو بے شمار ثواب بھی حاصل ہوگا۔ اس تنظیم کے زیر اہتمام قرآن و سنت کے عنوان سے پورے ملک میں کانفرنس کا اہتمام کریں۔ اس سے سنی عوام بھی آپ کی بات غور سے سنے گی۔ میری اس تجویز کو بہت پسند کیا گیا اور اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے، پورے ملک کے اندر قرآن و سنت کے نام سے کانفرنس کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔ جن میں ایرانی انقلاب اور خمینی کو عالم اسلام کے سب سے بڑے راہبر کے طور پر پیش کرنا تھا۔ جس کے تحت بڑی بڑی قرآن و سنت کانفرنسیں لاہور، کراچی، بھکر، ڈیرہ اسماعیل خان، ملتان، کوئٹہ ،اور پشاور، میں منعقد ہوئیں ۔

کانفرنسوں کے فوائد

ان کانفرنسوں کے نتائج پر غور کرنے کے لیے ہمارا اجلاس ہوا ۔تو اس اجلاس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ان کانفرنسوں کے بے شمار فوائد سامنے آگئے ہیں۔ اس سے جہاں سنی آبادی بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے وہاں پر ملت جعفریہ کو پوری طرح منظم کرنے میں بہت زیادہ مدد ملی ہے۔ ان کانفرنسوں کا سب سے زیادہ اور فوری فائدہ (کالعدم) سپاہ صحابہؓ کی یلغار کے آگے بند باندھنے میں بڑی مدد ملی۔ ان کانفرنسوں کی کامیابی کے بعد پاکستان کی بیوروکریسی اور فوج کے بڑے بڑے رافضی افسران نے علامہ عارف حسینی کو نہ صرف مبارکبادیں دیں۔ بلکہ حیران کن مثبت نتائج سے بھی آگاہ کیا۔

 جماعت اسلامی کی حمایت

ان کانفرنسوں کے بعد روپے، پیسے کے لالچ میں بہت سی سنی تنظیمیں اور سنی علماء حتٰی کہ جماعت اسلامی کی پوری قیادت خمینی انقلاب اور امام خمینی کی زبردست حامی بن کر میدان میں آ گئی ۔اور جماعت اسلامی خمینی انقلاب کو پاکستان کے اندر درآمد کرنے کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہو گئی۔ پاکستان کی غیر رافضی جماعتوں اور غیر رافضی مکاتب فکر کے علماء سے رابطہ کے لیے مجھے ذمہ داری سونپی گئی۔ اس سلسلے میں،میں نے ایک وفد کی صورت میں جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما سید اسعد گیلانی سے منصورہ میں ملاقات کی اور علامہ عارف حسینی کا پیغام پہنچایا. پہلی فرصت کے اندر میں سید اسعد گیلانی کو ایک اعلیٰ قیادتی وفد کے ساتھ اپنے خرچے پر ایران لے گیا۔ وہاں آیت اللہ خمینی کے علاوہ دیگر اعلیٰ انقلابی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔سید اسعد گیلانی کو ایرانی انقلاب اور عالم اسلام کے سب سے بڑے رہبر خمینی کے موضوع پر کتاب لکھنے کا کہا گیا ۔تو سید اسعد گیلانی نے پہلے مرحلے میں آیت اللہ خمینی کی کتاب (ولایت فقیہ) کا اردو ترجمہ کر کے جماعت اسلامی کی طرف سے شائع کرنے کی حامی بھر لی۔ اس مقصد کے لیے سید اسعد گیلانی کو ابتدائی کام شروع کرنے کے لیے میری موجودگی میں علامہ عارف الحسینی کے ذریعے 10 لاکھ روپے ادا کیے گئے ۔ اس وقت جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے مودودی کی کتاب (خلافت و ملوکیت) کا فارسی ترجمہ کر کے ایرانی حکومت کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں شائع کر کے مفت تقسیم کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا آپ کے قائد خمینی ہمارے قائد ہمارے قائد مودودی آپ کے قائد ہیں.

 سیدنا علیؓ دنیا و آخرت کے مالک ہیں

خلافت راشدہ: اتنی آسائشوں دولت شہرت کے باوجود کس چیز نے آپ کو شیعہ مذہب چھوڑنے پر مجبور کیا؟

 سید امیر رضا شاہ قمی مدظلہ:..........

ظاہر بات ہے کہ دنیا شیعیت میں آنکھ کھولی انہی میں پیدا ہوا دولت عزت شہرت ہر چیز میسر تھی اور شیعہ مذہب کی تعلیم و تہذیب سے آراستہ ہو کر اپنا آبائی مذہب جسم و جان سے زیادہ عزیز اور گراں قدر تھا۔ اپنے مذہب اور مسلک کو تبدیل کرنا اور کرانا کسی مجبوری کے تحت نہیں ہوا کرتا۔ البتہ شیعہ مذہب مجبوری کی بنا پر اپنایا نہیں، بلکہ چند ماہ یا سال اور کچھ دنوں کے لیے تقیہ اختیار کر کے چھوڑا جا سکتا ہے۔ کیونکہ شیعوں کے نزدیک اس میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں ،بلکہ ان کے مذہب میں باعث ثواب اور قرب الہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ تبدیل مذہب یا دوسرے لفظوں میں ہدایت سے ہمکنار ہونا، قرآن و سنت کی روشنی میں یہ طاقت صرف اللہ تعالی ہی کو حاصل ہے۔ حصول ہدایت کا اختیار کسی نبی الانبیاء اور اولیاء اللہ کو بھی حاصل نہیں اور نہ ہی یہ کسبی چیز ہے جو انسان محنت و مشقت سے کام لے کر حاصل کرنے کی کوشش و کاوش کرے۔ البتہ قرآن و سنت کی پاکیزہ تعلیمات میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آیات الہی، رجوح الی اللہ، میلان قلبی، کا داعیہ انسان کو ضرور چاہیے ،اللہ رب العزت کا یہ عام قانون ہے کہ وہ اپنی ہدایت کا راستہ کسی انسان پر ٹھونستے نہیں ہیں نہ ہی وہ زبردستی اور جبری عمل سے کام لیتے ہیں اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے انلزمكموها وانتم لها كارهون الايه ،

ترجمہ: کیا ہم تم پر کوئی لازم کرنے والے ہیں جس کو تم ناپسند کرتےہو۔

دوسری آیت میں ارشاد گرامی ہے

صفحہ 4 از 9