خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا - ردِ رافضیت…

خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 5 از 9

لا اكراه في الدين الایہ: دین اسلام میں کوئی جبر اور زبردستی نہیں ہے ۔شیعہ مذہب کی اس وقت 72 تفسیریں ہیں۔ جو عربی اور فارسی پر مشتمل ہیں۔ یہ سب کی سب میرے پاس موجود ہیں۔ یہ تمام تفسیریں مجھے ایران سے مفت ملی ہیں ۔مذکورہ 72 تفسیروں کی روشنی میں مختصراً آپ پرواضح کرنا چاہتا ہوں کہ کائنات کے تمام شیعوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ سیدنا علیؓ مشکل کشا اور حاجت روا ہے، اولاد دینے والا ہے، رزق دینے والا ہے، تنگی و فراخی ،نفع و نقصان کا مالک سیدنا علیؓ ہیں۔ جتنے امور اس دنیا میں پیش آنے والے ہیں، ان تمام امور کو حل کرنے والا سیدنا علیؓ ہے۔ گو شیعہ تعلیمات میں مذکورہ بالا عقیدہ رکھنا ہر شیعہ پر واجب اور فرض عین ہے اس کے ساتھ یہ بات بھی ان کے بنیادی عقائد میں شامل ہے، کہ سیدنا علیؓ کے پاس امور حل کرنے کی چابی موجود ہے۔ دوسرے لفظوں میں اللہ تعالی کے جو اوصاف تھے وہ تمام سیدنا علیؓ کو سپرد کر دیے گئے اور سیدنا علیؓ کو دنیا کا خالق، مالک بنا دیا گیا۔ باقی رہ گئی آخرت کی بات کہ آخرت جو ہمیشہ رہنے والی جگہ ہے۔ اس آخرت کے مقام کا اختیار کس کو سونپا گیا؟ یعنی دنیا کا حاجت روا مشکل کشا تو سیدنا علیؓ ہے اور آخرت کا حاجت روا مشکل کشا کون ہے؟ یہاں پر شیعہ لوگ شش و پنج میں مبتلا تھے بعد میں اس چش و پنج سے نکلنے کا ایک راستہ ڈھونڈ لیا۔ پھر اس کو خود ساختہ روایات کی فیکٹری میں ڈال کر ایک سانچہ تیار کر لیا کہ جناب رسولﷺ نے سیدنا علیؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ یا علي انت قسيم النار والجنه

 ترجمہ

اے سیدنا علیؓ جنت اور دوزخ کا تو مالک اور تقسیم کرنے والا ہے۔ " مذکورہ خود ساختہ حدیث کا مطلب واضح ہے کہ سیدنا علیؓ دنیا کے بھی مالک ہیں اور آخرت کے بھی موجودہ شیعہ کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی اس دنیا میں نظر نہیں آسکتا اور نہ ہی آخرت میں نظر آئے گا۔ اگر آخرت میں نظر آئے گا تو سیدنا علیؓ کی شکل میں نظر آئے گا یعنی خود خدا علیؓ ہوگا۔ (نعوذ بالله من هذه العقيدة السيئة) اگر اللہ کے رسولﷺ نے سیدنا علیؓ کو جنت اور دوزخ کا اختیار دے دیا تو خود اللہ اور رسولﷺ کہاں گئے؟سوچنے کی بات یہ ہے کہ شیعوں نے اللہ اور رسولﷺ کو پس پردہ کر کے کہاں پہنچا دیا ہے ۔اور سیدنا علیؓ کو آگے کر کے کہاں پہنچانا چاہتے ہیں۔ دنیائے شیعیت کا آج بھی یہی عقیدہ ہے کہ علیؓ، علیؓ کرو دنیا اور آخرت میں بیڑہ پار ہو جائے گا اس کے ساتھ شیعوں کا ایک یہ بھی عقیدہ ہے کہ قرآن کریم سیدنا علیؓ پر نازل ہونا تھا ۔لیکن جبرائیلؑ نے غلطی سے اس کے بھائی حضرت محمدﷺ پر نازل کر دیا۔ چلو یہ دونوں تو ان کی آپس کی بات تھی ۔نبوت و رسالت میں دونوں شریک تھے۔ لیکن سیدنا علیؓ تو دنیا آخرت میں مشکل کشاء اور حاجت روا ہے شیعہ مذہب چھوڑنے سے پہلے سیدنا علیؓ کے بارے میں میرا بھی یہی عقیدہ تھا۔ لیکن اب اس عقیدے کے بارے میں سوچتا ہوں تو بہت حیران ہوتا ہوں کہ ان لوگوں کی عقل کہاں گئی۔

ایک تفسیر نے کایا پلٹ دی

بات دور نکل گئی میں دراصل شیعہ مذہب چھوڑنے کی کہانی بیان کر رہا تھا ،کہ میں جامعہ عارف الحسینی پشاور میں بیٹھا ہوا تھا ۔شیعہ مذہب کی محبوب ترین تفسیر "المیزان فی تفسیر القران" مفسر رئیس المجتہدین محمد حسین طباطبائی کا مطالعہ کر رہا تھا, جہاں کہیں قرآن کریم میں "علیا کبیرا یا وھو العلی العظیم"کا ذکر آیا. وہاں شیعہ مفسرین اس سے سیدنا علیؓ مراد لیتے ہیں, لیکن پہلی ایک واحد تفسیر محمد حسین طباطبائی نے کی ہے, جس نے کھل کر دوسری اکہتر تفسیروں کی مخالفت کی ہے وہ لکھتا ہے: وھو العلی العظیم لا علی کما یقولون اویکتبون :کہ اس سے سیدنا علیؓ ہرگز ,ہرگز مراد نہیں ہے. جس طرح ہمارے ذاکرین اور حجت الاسلام و مجتہدین اس جملہ سے سیدنا علیؓ مراد لیتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں بلکہ اس سے مراد اللہ تعالی ہی ہیں۔ جونہی میری نظر اس جملہ پر پڑی میری قلبی کیفیت بڑی غضبناک صورت میں ظاہر ہو گئی۔ اس وقت میرے دل نے چاہا کہ اس تفسیر کو کسی کھڈ میں پھینک دوں، کیونکہ یہ بات سراسر میرے اور ملت شیعہ کے عقیدے کے خلاف تھی۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد میرے دل کی کیفیت پلٹ آئی۔ اور اس بات پر آمادہ ہو گئی کہ شاید یہ بات تقیہ کرتے ہوئے لکھ دی گئی ہو ۔اب میں نے سوچا کہ اس کا معنی تو یہی بنتا ہے، مگر سیاق و سباق تمام اگلی پچھلی عبارتوں کو ملا کر ممکن ہے اس کا مفہوم ،مفہوم مخالف بنتا ہو۔ پھر میں نے نئے سرے سے شوق و ذوق کے ساتھ مذکورہ جملوں پر نظر دوڑائی چند بار مطالعہ کرنے سے اس نتیجے پر پہنچا کہ معنی اور مفہوم میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بلکہ معنی اور مفہوم دونوں یکساں ہیں۔ کہ "وھوالعلی العظیم" سے مراد اللہ ہی ہے۔ سیدنا علیؓ ہرگز مراد نہیں ہے. پھر آگے وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں"اے شیعو! اگر تمہارا دعوی یہی ہے کہ قیامت کے روز سیدنا علیؓ مشکل کشا اور حاجت روا ہے اور جنت اور دوزخ تقسیم کرنے والا ہے۔ تو پھر اس آیت کریمہ کا کیا بنے گا. جو کہ اللہ تعالی قیامت کے روز فرمائے گا "لمن الملك اليوم؟" آج کے دن حاجت روا ،مشکل کشا کون ہے؟ اس روز تمہارے بنائے ہوئے خود ساختہ مشکل کشا ،حاجت روا خاموش ہوں گے بولنے کی طاقت کسی کے پاس نہ ہوگی بلکہ سب کو سانپ سونگھ گیا ہوگا اور جواب یہی ہوگا لله الواحد القهار آج کا مشکل کشا، حاجت روا صرف اور صرف اکیلا اللہ قہار ہی ہوگا ۔

محمد طباطبائی یہ تمام باتیں لکھنے کے بعد وسیلہ کے بارے میں جا کر پھنس گیا کہ سیدنا علیؓ کو پکارنا مدد خدا ہے۔ جب مذکورہ جملہ میں نے چند بار پڑھ لیا تو میرے دل کی دنیا بدل چکی تھی ،کیونکہ پہلے والے عقیدے میں شک آگیا تھا۔ اور جس عقیدے میں شک آجائے وہ عقیدہ، عقیدہ ہی نہیں رہتا، اپنے سابقہ عقیدہ میں شک آجانے کے بعد حق حاصل کرنے کے لیے میں نے تحقیق شروع کی۔

بریلوی علماء سے رابطہ اور ان کا مایوس کن جواب

صفحہ 5 از 9