خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا - ردِ رافضیت…

خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 6 از 9

سب سے پہلے میں نے علماء اہلِ سنت سے رابطہ قائم کیا لیکن یاد رہے کہ اس وقت میرے اور دیگر شیعہ کے نزدیک اہلِ سنت صرف اور صرف بریلوی طبقہ ہی کو تصور کرتے تھے۔ دیوبندیوں کو ہم وہابی کہتے تھے۔ چنانچہ میں نے علماء بریلوی کے ساتھ تحقیق کی خاطر رابطہ کیا مگر آگے سے بریلوی علماء کہہ دیتے"شاہ صاحبؒ ! آپ تو الحمدللہ اہلِ بیت عظام کو مانتے ہیں اور ہم بھی مانتے ہیں۔۔۔آپ بھی پنج تن پاک کو مانتے ہیں ہم بھی پنج تن پاک کو مانتے ہیں۔۔۔آپ بھی اہلِ بیت کو مشکل کشا ،حاجت روا مانتے ہیں۔ ہم بھی ان کو مشکل کشا، حاجت روا مانتے ہیں۔۔آپ بھی اہلِ بیت کو عالم الغیب مانتے ہیں .ہم بھی ان کو عالم الغیب مانتے ہیں۔۔آپ بھی اہلِ بیت کو نور مانتے ہیں. ہم بھی ان کو نور مانتے ہیں۔۔۔آپ بھی اہلِ بیت کو حاضر و ناظر مانتے ہیں .ہم بھی ان کو حاضر ناظر مانتے ہیں۔۔آپ بھی نعرہ حیدری لگاتے ہیں ہم بھی لگاتے ہیں۔۔آپ بھی یا علی مدد کہتے ہیں. ہم بھی کہتے ہیں۔۔آپ کے مذہب تشیع میں اور ہمارے مذہب میں کوئی خاص فرق نہیں، انیس،بیس کا فرق ہے. مگر شاہ جی ایک بات یاد رکھیں کہ دیوبندی وہابیوں سے بچ کر رہیں"

جب بھی بریلوی علماء سے اس طرح کی باتیں سنتا تھا. پریشانی کے سوا مجھے حاصل نہ ہوتا تھا. کیونکہ جس چیز کی مجھے تڑپ تھی وہ کچھ حاصل نہ ہوتی تھی،اس وقت مجھے سمجھ آیا کہ پیسہ بولتا ہے کیونکہ خمینی کی طرف سے بریلوی علماء کو تنخواہ تین، چار ہزار حسب مرتبہ ملتی تھی کہ" شیعہ سنی بھائی, بھائی تیسری قوم کہاں سے آئی" کا نعرہ لگائیں اور جو ان کے پاس تحقیق کے لیے آئے۔ ان کو یہی نام کہیں تم ٹھیک ہو, اس لیے میں کہتا ہوں" شیعہ ہے نمبر ون' یہ ہیں نمبر ٹو۔

كانه هو بعد میں ہدایت کا سبب اللہ تعالی نے بنا ہی دیا۔

 دیوبندی عالم سے رابطہ اور ان کی فیصلہ کن رہنمائی

ایک دیوبندی عالم مولانا محمود الحسنؒ سے ملاقات ہوئی اور متواتر دس ماہ بحث مباحثہ جاری رہا۔ مسئلہ امامت و خلافت، مسئلہ ولایت اور وصایت، مسئلہ متعہ، تقیہ، بداء اور دیگر مابہ الامتیاز مسائل جو مابین شیعہ و سنی واقع ہیں، تمام میں بحث و مباحثہ ہوا. مولانا محمود الحسنؒ جو اب فوت ہو چکے ہیں۔ اللہ ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے، انہوں نے ہر موضوع پر میری بہترین رہنمائی فرمائی، مجھے حق بات اس انداز میں سمجھائی اسلام کی حقیقی نورانیت میرے قلب و جگر میں اترتی چلی گئی اور بالآخر میں نے 1995ءمیں شیعیت سے تائب ہو کر حقیقی اسلام قبول کر لیا" اللہ تعالی مجھے استقامت نصیب فرمائے اٰمین"

   شیعہ کو پیغام

اس موقع پر میں پوری شیعہ قوم سے عرض کروں گا کہ وہ حب سیدنا علیؓ کہ خول سے نکل کر اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں

جب اسلام کا حقیقی پیغام آپ کے دل میں اترے گا۔ تو ہدایت کا نور آپ کے لیے سکون و اطمینان کا باعث بنے گا۔

  دیوبندی عالم مولانا محمود الحسنؒ کا تعارف

 مولانا محمود الحسنؒ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فارغ التحصیل تھے ۔اور الحمدللہ انہیں عربی، فارسی زبان پر خوب عبور حاصل تھا ۔مولانا عبدالعزیز زاہدانیؒ ایرانی جو دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل تھے ۔انہوں نے شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ اکوڑہ خٹک والوں کو خط لکھا ،کہ یہاں زاہدان شہر میں ایک باصلاحیت مدرس چاہیے، جو عربی، فارسی کو اچھی طرح سے جانتے ہوں۔ یہ ایران میں خمینی کی آمد سے پہلے کی بات ہے۔ شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ کے صوابدید پر مولانا محمود الحسنؒ کا انتخاب عمل میں آیا۔ انہوں نے زاہدان شہر میں پانچ سال تک پڑھایا۔ اس دوران مولانا محمود الحسن صاحبؒ شیعہ مذہب کی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہے اور مذہب شیعہ سے مکمل شناسائی حاصل کرلی۔ جب خمینی انقلاب آیا تو خمینی نے قانون نافذ کیا، کہ امامیہ مذہب جعفری کے برعکس جو یہاں ایران میں خارجی اساتذہ ہیں، وہ ایران سے فورا نکل جائیں۔ چنانچہ محترم اساتذی مولانا محمود الحسنؒ بھی خمینی قانون کی زد میں آگئے اور ایران کو خیر باد کہہ کر پاکستان آگئے ۔

  مصائب کا سامنا

 خلافت راشدہ :.... شیعہ مذہب چھوڑنے کے بعد آپ کو کن کن مشکلات اور مصائب سے گزرنا پڑا؟

 مولانا امیر رضا شاہ قمی ۔۔۔سب سے بڑی دکھ کی بات ہی یہ ہوتی ہے کہ انسان جب اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو وہ اپنے عزیز و اقارب سے مکمل علیحدگی اختیار کر لیتا ہے۔ آگے پیچھے تمام رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔اس سے بڑی اذیت کیا ہو سکتی ہے،میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ۔اپنے والدین بہن، بھائی اور دیگر رشتہ داروں سے تعلقات منقطع ہو گئے۔ اپنی جاگیر اپنی کوٹھی سے محروم ہونا پڑا تین دفعہ قاتلانہ حملے ہوئے لیکن اللہ تعالی نے تا حال مجھے حفظ و امان میں رکھا ہے۔

تنظیم اہلِ سنت کے ساتھ وابستگی

 خلافت راشدہ۔۔

شیعہ مذہب چھوڑنے کے بعد آپ نے کس پلیٹ فارم سے کام کا آغاز کیا؟

 مولانا سید امیر شاہ قمی۔۔۔پہلے پہل تو حالات اجازت نہیں دیتے تھے۔ کہ کسی پلیٹ فارم سے آغاز کیا جائے. قاتلانہ حملوں کے بارے میں جب اخبارات میں بیانات آگئے, تو اس وقت مولانا ضیاء القاسمیؒ مناظر اسلام مولانا یوسف رحمانیؒ اور دیگر علماء نے میرے ساتھ ملاقات کر کے یہ تاکید فرمائی کہ آپ ذرا خاموشی اور مصلحت پسندی سے کام لیں، انہوں نے میری بہت حوصلہ افزائی فرمائی علماء کرام کے حکم کے مطابق میں چار پانچ سال گوشہ تنہائی میں چلا گیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ خفیہ تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا

الحمدللہ میں اس وقت پاکستان میں مختلف مقامات پر دوسرے ساتھیوں سے مل کر مختلف شہروں اور گاؤں میں 350 کے قریب شیعہ کو مسلمان کر چکا ہوں۔ یہ (نوٹ یہ 2004 ء کی بات ہے. دسمبر2007 ء میں راقم نے فون پر پوچھا تو کہا کہ 1250 شیعوں نے مذہب اہلِ سنت قبول کر لیا ہے الحمدللہ اللهم زد فزد) بعد میں مولانا محمد عمر فاروق تونسوی مدظلہ جو علمائے مناظر اسلام عبدالستار تونسویؒ کے فرزند ارجمند ہیں وہ پشاور میں آتے رہتے تھے اور ہماری ملاقات ہوتی رہتی تھی

صفحہ 6 از 9