خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا - ردِ رافضیت…

خمینی نے مجھے خاص مشن کے لیے پاکستان بھیجا تھا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 8 از 9

۔۔۔مولانا اعظم طارق شہیدؒ کے ساتھ پہلی ملاقات بمقام دائرہ دین پناہ تحصیل کوٹ ادو میں 20 اگست 2000 ء قرار پائی تھی۔ ایک بڑی کانفرنس بنام عظمت قرآن کانفرنس جس میں ہم دونوں مدعو تھے۔ لیکن کچھ وجوہات کی وجہ سے وہ ملاقات بھی نہ ہو سکی،قابل ذکر بات یہ ہے کہ وارث الشہداء قاری عبدالبصیر برہانی بدخشانی کی قربانیاں کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ اس نے 1999ء میں ضلع صوابی بمقام جلبی شہدائے سپاہ صحابہؓ جذبہ جہاد کانفرنس 17 کو منعقد کروائی، اس کانفرنس میں بھی مجھے دعوت دی گئی تھی۔ جبکہ اس وقت علامہ حیدری مدظلہ اور اعظم طارق شہیدؒ دونوں جیل کی سلاخوں میں بند تھے۔ اس کانفرنس میں سپاہ صحابہؓ کے نمائندے بالخصوص خلیفہ عبدالقیوم مدظلہ سے لے کر مولانا مسعود الرحمن عثمانی تک تمام قائدین سپاہ صحابہؓ نے شرکت فرمائی تھی۔اس وقت قاری عبدالبصیر برھانی نے مجھے بھی سپاہ صحابہؓ میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ لیکن حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے میں نے معذرت کر لی بعد میں سپاہ صحابہؓ پر پابندی لگ گئی اور جب ملت اسلامیہ بن گئی ،تو قاری عبدالبصیر برہانی وفود کی شکل میں پانچ مرتبہ میرے گھر آئے ۔تو ملت اسلامیہ میں شامل ہونے کی حامی بھر لی ایک شرط کے ساتھ کہ مولانا اعظم طارق شہیدؒ کی ملاقات میرے ساتھ کروائیں چنانچہ قاری عبدالبصیر برہانی نے فوراً مولانا اعظم طارق شہیدؒ سے رابطہ کیا۔ مولانا اعظم طارق شہیدؒ نے قاری عبدالبصیر برہانی سے فرمایا کہ شاہ صاحبؒ اگر زحمت فرمائیں تو یکم اکتوبر 2003 قصہ خوانی بازار پشاور شہر میں "نفاذ شریعت" کانفرنس میں تشریف لائیں۔ تو قمی صاحب سے باضابطہ بات چیت ہو جائے گی۔ چنانچہ میں حاضر خدمت ہوا میں نے بھی نفاذ شریعت کانفرنس میں تقریر کی اور مولانا اعظم طارق شہیدؒ سے ملاقات ہوئی اور بڑے اخلاص سے فرمایا" شاہ جی! جس طرح شیعہ کے گھروندے آپ جانتے ہیں ہم اتنا نہیں جانتے۔ آپ اگے ہوں گے جس قسم کی خدمت ہم سے ہو سکی ہم کر گزریں گے۔ ملت اسلامیہ کے سپاہی اور جانباز آپ کے ساتھ ہوں گے میں نے پہلی مرتبہ پیکر اخلاص کی باتیں سنیں ۔ تو نہایت متاثر ہوا اور اسی دن سے میں نے عزم کیا کہ حضرت مولانا اعظم طارقؒ کی طرح میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جان نثار اور سپاہی بنوں گا۔ مگر تقدیر کا فیصلہ کہ مولانا اعظم طارقؒ 16 اکتوبر کو تحفظ ناموس صحابہؓ کی خاطر ہم سے جدا ہو گئے۔ 17 اکتوبر کو میں نے احتجاجی جلوس نکالا اور مجھے گرفتار کر لیا گیا ۔صوبہ سرحد بالخصوص پشاور شہر کی ملت اسلامیہ کے قائدین کی پرزور مذمت و مطالبے پر مجھے رہائی نصیب ہوئی۔ رہائی کے بعد میں سیدھا جھنگ تعزیت کے لیے چلا گیا۔ بعد میں ملت اسلامیہ کے ایم ٹی اے نڈر اور جرات مند سپاہی مولانا ابراہیم قاسمیؒ نے 18 اکتوبر کو احتجاجی جلسہ پشاور شہر میں کرایا اور اسی احتجاجی جلسہ میں باضابطہ طور پر میں نے اعلان شمولیت کیا۔

 شیعہ مذہب یہودیت کے مترادف ہے

 خلافت راشدہ

۔۔آپ نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ شیعہ مذہب میں گزارا تو آپ نے شیعہ مذہب کو کیسا پایا؟

 سید امیر رضا شاہ کاظمی۔۔گندے اور برے اعمال جو شیعہ مذہب میں انجام دیے جاتے ہیں۔ وہ کسی اور مذہب میں نہیں، شیعہ مذہب دوسرے لفظوں میں یہودیت کے مترادف ہے۔ دنیا میں اگر شیعیت بڑھتی ہے تو اس کا واحد راستہ متعہ کا عمل ہے۔ کیونکہ زنا تو حرام ہے لیکن شیعہ مذہب میں متعہ کی صورت میں زنا کرنا حلال جائز اور باعث ثواب ہے۔

 قرآن مجید کے بارے میں شیعی نظریات

 خلافت راشدہ

۔۔قران مجید کے بارے میں شیعہ کے اصل نظریات کیا ہیں؟

 سید امیر رضا شاہ کاظمی۔قرآن مجید کو شیعہ مذہب میں کوئی مقام حاصل نہیں بلکہ شیعہ مذہب قرآن کریم سے انکاری ہے ان کی دو ہزار روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مذکورہ قرآن مجید جو مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ ہے یا ان کے گھروں اور مسجدوں میں موجود ہے ۔شیعہ کے نزدیک اصلی اور حقیقی نہیں بلکہ اصل قرآن مجید ان کا بارہواں امام، سیدنا مہدی غار میں اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ ان کا قرآن تو سیدنا مہدی لے گیا ہے۔ اور وہ دشمنی ہم سے کر رہے ہیں عجیب بات ہے کہ شیعہ لوگوں کو ہدایت کی ضرورت نہیں تھی شیعہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیتیں جہاں کہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح اور منقبت ایمان اور دخول جنت کے بارے میں آتی ہیں۔ یہ تحریف ہوئی ہے یہ سنیوں نے اپنی طرف سے قرآن کریم میں داخل کی ہیں۔

ختم نبوت کے بارے میں عقیدہ

 خلافت راشدہ۔آنحضرتﷺ کی ختم نبوت کے بارے میں شیعہ مذہب کیا کہتا ہے؟

 سید امیر رضا شاہ کاظمی۔شیعہ مذہب میں مسئلہ امامت ایسا مسئلہ ہے۔ جو ختم نبوت سے انکار پر مبنی ہے۔ اگر شیعہ لوگ نبی کریمﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتے تو امامت کا مسئلہ کھڑا نہ کرتے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کی اپنی احادیث ہیں الامامه افضل من النبوۃ كہ امامت نبوت سے افضل ہوتی ہے۔ شیعہ مذہب میں نبوت کو خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔

   بارہ اماموں کا مقام

 خلافت راشدہ۔

 شیعہ مذہب میں بارہ اماموں کا مقام کیا؟

 سید امیر رضا شاہ کاظمی ۔مفترض الطاعتہ یعنی بارہ اماموں کی اطاعت فرض ہے وہ نبیوں کی طرح معصوم ہوتے ہیں۔ بلکہ تمام انبیاء کرام سے افضل دنیا اور آخرت میں مشکل کشا ،حاجت روا ،بیڑا پار کرنے والے، عالم الغیب ہیں۔

 صحابہ کرامؓ و خلفائے راشدینؓ کے بارے میں شیعی نظریات

 خلافت راشدہ۔

 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خصوصا خلفائے راشدینؓ کے بارے میں شیعہ نظریہ کی وضاحت فرمائیں؟

 سید امیر رضا شاہ کاظمی

صفحہ 8 از 9