حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات
علی محمد الصلابیحضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد چند دنوں تک حضرت معاذ رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے، ادھر طاعون کی وبا سخت ہو گئی اور لوگوں کی کثرت سے موت ہونے لگی، آپؓ بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! طاعون کی یہ بیماری تمہارے رب کی طرف سے رحمت، اور تمہارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی قبولیت اور تم سے پہلے صالحین کی موت کا سبب ہے اور معاذ اللہ سے سوال کرتا ہے کہ آلِ معاذ کے لیے اس بیماری سے ان کا حصہ عطا کر دے، چنانچہ آپؓ کے صاحبزادے عبدالرحمٰن بن معاذ طاعون کا شکار ہو گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 36)
جب آپؓ نے اپنے صاحبزادے کو دیکھا تو کہا
اَلۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ ۞
ترجمہ:’’حق وہی ہے جو تیرا رب کہے، تو ہرگز ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔‘‘
اور کہا اے میرے بیٹے:
سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ ۞(سورۃ الصافات: آیت 102)
ترجمہ: ’’اگر اللہ نے چاہا تو تم مجھے صبر کرنے والوں میں سے پاؤ گے۔‘‘
پھر تھوڑی ہی دیر بعد آپؓ کے صاحبزادے وفات پا گئے اور حضرت معاذؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو دفن کیا جب آپ گھر واپس لوٹے تو آپ کو بھی طاعون نے آگھیرا اور پھر رفتہ رفتہ تکلیف بڑھتی گئی، لوگ باری باری آپؓ سے ملنے آنے لگے۔ جب وہ آپؓ کے پاس آتے تو آپؓ ان کی طرف متوجہ ہوتے اور ان سے کہتے: ’’عمل کرو، تم مہلت زندگی اور باقی ماندہ عمر کو کار آمد بناؤ، اس سے پہلے کہ تمہیں عمل کرنے کے لیے تمنا کرنی پڑے اور تم اس کے لیے مہلت نہ پاؤ۔ موت آنے سے پہلے جو کچھ تمہیں میسر آئے اللہ کے راستے میں خرچ کرو، اور اسی حسن عمل کو اپنے بعد والوں کے لیے میراث چھوڑو، اور جان لو کہ تمہارا مال صرف وہی ہے جو تم نے کھا پی لیا اور پہن لیا اور خرچ کر لیا اور گزر گئے۔ اس کے علاوہ جو کچھ بچے گا وہ تو تمہارے ورثاء کا ہے۔ جب آپ کی تکلیف میں شدت آ گئی تو آپؓ کہنے لگے: ’’اے اللہ میری جان جلدی سے نکال لے۔
(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 308)
میں یقین رکھتا ہوں کہ تجھ سے میری محبت کا تجھے بخوبی علم ہے۔
(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 308)
جب موت آ پہنچی تو آپ نے کہا: موت کو مبارکباد ہو، ایسے زیارت کرنے والے کو خوش آمدید ہے جو میرے فاقہ کی حالت میں یہاں آیا، جو اس سے شرمائے گا وہ کامیاب نہ ہو گا۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں دنیا میں نہریں جاری کرنے اور درخت لگانے کے لیے زندہ رہنا پسند نہیں کرتا تھا بلکہ اس لیے زندگی کی بقا چاہتا تھا تاکہ طویل رات میں عبادت کی مشقتیں برداشت کرنے، دن کی لمبی گھڑیاں اطاعت و عبادت میں گزارنے، سخت گرمی کے موسم میں عبادت کے ذریعہ سے گرمی کی حدت کو کم کرنے اور ذکر کے حلقوں میں شریک ہو کر علماء کے گروہ میں شرکت کرنے کا خود کو پابند رکھوں۔‘‘
(حلیۃ الأولیاء: جلد 1 صفحہ 288، 244 )
جس وقت آپ کی وفات ہوئی اس وقت آپ کی عمر اڑتیس 38 برس تھی۔
(حلیۃ الأولیاء: جلد 288، 244)
آپؓ کے بعد حضرت عمرو بن عاصؓ آپ کے جانشین ہوئے، انہوں نے حضرت معاذؓ کی نماز جنازہ پڑھائی، آپؓ کی قبر میں داخل ہوئے اور آپ کو لحد میں رکھا، آپ کے ساتھ دوسرے مسلمان بھی قبر میں داخل ہوئے، اور جب عمرو بن عاصؓ قبر سے باہر آئے تو کہا: اے معاذ! اللہ تم پر رحم فرمائے، ہمارے علم کے مطابق تم مسلمانوں کے خیر خواہ اور ان کے چنیدہ لوگوں میں سے تھے، تم جاہلوں کو ادب سکھانے والے، فاجروں پر سخت اور مومنوں کے لیے رحم دل تھے۔
(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 309 )
ابو عبیدہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کی وفات کے بعد اسلامی لشکر کی قیادت حضرت عمرو بن عاصؓ کے ذمہ آ گئی، آپؓ نے اس موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! طاعون کی یہ بیماری جب واقع ہوتی ہے تو آگ کی طرح بھڑک اٹھتی ہے، لہٰذا تم یہاں سے نکل کر پہاڑوں میں پناہ لے لو، پھر آپؓ خود وہاں سے نکل گئے اور دوسرے لوگ بھی آپؓ کے ساتھ نکلے اور پھر مختلف مقامات پر منتشر ہو گئے اور اللہ نے ان سے اس مصیبت کو دور کر دیا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 95)
حضرت عمرو بن عاصؓ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ خط لکھا:
’’ سلام علیک، بے شک میں آپؓ کے بارے میں اس اللہ جل شانہ کا شکر گزار ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ اما بعد! معلوم ہو کہ حضرت معاذ بن جبل رحمہ اللہ وفات پا چکے ہیں اور مسلمانوں میں موت تیزی سے پھیل چکی ہے، لوگوں نے صحرا کی طرف بھاگ نکلنے کی مجھ سے اجازت مانگی، حالانکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مقیم کی اقامت اسے اس کی موت کے قریب نہیں کرتی، اور نہ بھاگنے والے کا بھاگنا اسے اس کی موت سے دور کرتا ہے، اور نہ اس سے اس کی قسمت کو روکا جاسکتا ہے۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘
(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 490)
چنانچہ حضرت عمرو بن عاصؓ کا خط امیر المؤمنین کو موصول ہوا جس میں معاذؓ کی وفات کی خبر تھی اور حضرت معاذؓ کی وفات ابو عبیدہؓ کی وفات کے بعد ہوئی۔ حضرت معاذؓ کی وفات کی خبر سے سیدنا عمرؓ بہت ہی بے تاب و پریشان ہوئے ، آپؓ اور دیگر مسلمان رونے لگے، اور اس حادثہ پر بہت غمگین ہوئے، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ معاذ پر رحم فرمائے، اس نے معاذ کو وفات دے کر اس امت سے بہت زیادہ علم اٹھا لیا۔ بسا اوقات ان کے مشورے بہتر ہوتے تھے اور ہم نے اسے قبول کیا، اور دیکھا کہ ہمیں اس کا بہت فائدہ ہوا ان کے علم نے بہت نفع دیا، اور خیر کی طرف ہماری رہنمائی کی، اللہ تعالیٰ اسے نیکوکاروں کا بدلہ عطا کرے۔
(الاکتفاء: جلد 3 صفحہ 310)
شہرت یافتہ مسلم قائدین میں تیسرے فرد جو طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوئے اور بنو سفیان کے سب سے افضل فرد مانے جاتے تھے اور جنہیں یزید الخیر کہا جاتا تھا وہ یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما ہیں۔ نیز طاعون عمواس میں عظیم مسلم جرنیلوں میں جنہیں طاعون کے ذریعہ سے شہادت ملی ان میں حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کا نام آتا ہے۔
(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 171، 172، تاریخ الذہبی: صفحہ 181)