Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شام روانگی اور وہاں کے معاملات کو منظم کرنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شام میں طاعون کی وجہ سے اپنے عظیم جرنیلوں اور شیر دل مسلم سپہ سالاروں کی وفات سے بہت پریشان ہوئے اور آپؓ کو بہت غم لاحق ہوا، آپؓ کے پاس بعد میں وہاں کے افسران و ذمہ داران کے کئی خطوط آئے، وہ سب شہدائے طاعون عمواس کی متروکہ میراث اور چند نئے معاملات سے متعلق آپؓ سے پوچھ رہے تھے آپؓ نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور نئے پیش آمدہ مسائل پر ان سے مشورہ لیا، اور پھر آپؓ نے عزم کر لیا کہ مسلمانوں کے شہروں میں خود جا کر ان کے حالات معلوم کریں گے تاکہ ان کے معاملات کو منظم کر سکیں۔ چنانچہ مجلس شوریٰ میں لوگوں سے رائے اور مشورہ کرنے کے بعد آپؓ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کام کی انجام دہی سب سے پہلے شام سے شروع کریں، اور تقدیم کی وجہ جواز بتاتے ہوئے آپؓ نے فرمایا کہ شام والوں کی میراث ضائع ہو گئی، لہٰذا میں شام سے اپنا دورہ شروع کروں گا، ان میں میراث تقسیم کروں گا اور ان کی خاطر جو کرنا چاہتا ہوں کروں گا پھر وہاں سے لوٹوں گا، ہر ہر شہر میں جاؤں گا اور ان کے سامنے اپنی بات رکھوں گا۔ چنانچہ آپؓ مدینہ سے روانہ ہوئے اور مدینہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا۔

(الفاروق عمر بن الخطاب: محمد رضا: صفحہ 230)

 جب آپؓ شام پہنچے تو عطیات کو تقسیم کیا، موسم سرما اور گرما کی جنگی مہموں کے لیے فوجی دستوں کو متعین کیا، شام کی سرحدوں کو بند کر دیا، افسران کو ذمہ داریاں سونپیں، عبداللہ بن قیسؓ کو ہر ضلع کے ساحلی علاقوں کا افسر مقرر کیا، اور حضرت معاویہؓ کو دمشق کا گورنر بنایا، فوج، جرنیلوں اور عوام الناس کے معاملات کو منظم کیا، فوت شدہ افراد کی میراث کو ورثاء میں تقسیم کیا،

(الخلفاء الراشدون: النجار: صفحہ 325 الفاروق: محمد رشید: صفحہ 230)

اور جب نماز کا وقت ہو گیا تو لوگوں نے آپؓ سے مطالبہ کیا کہ بلال کو اذان دینے کا حکم فرمائیں، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر جس نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں حضرت بلالؓ کی اذان سنی تھی سب رونے لگے یہاں تک کہ آنسوؤں سے ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں، سیدنا عمرؓ ان میں سب سے زیادہ رونے والے تھے اور جس نے حضرت بلالؓ کی اذان نہیں سنی وہ سب رونے والوں کو دیکھ کر اور نبیﷺ کو یاد کر کے رونے لگے۔ 

(خلاصۃ تاریخ ابن کثیر والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 236)

مدینہ واپس لوٹنے سے پہلے آپؓ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: سنو، میں تم پر ذمہ دار بنایا گیا ہوں، تمہارے جن معاملات کا اللہ نے مجھے نگران بنایا تھا میں نے ان شاء اللہ انہیں پورا کر دیا ہے، ہم نے تمہارے درمیان تمہارے فے، مکانات اور اموال غنیمت کو کھول کھول کر رکھ دیا، جو ہمارے پاس تھا اسے تم تک پہنچا دیا، تمہارے لیے فوج کو تیار کر دیا اور آسانیوں کو تمہیں بہم پہنچایا، تمہارے لیے ٹھکانے کا انتظام کیا، اور جتنا تمہارا مال فے تھا اسے تم کو دے دیا، تمہاری خوراک و غذا کو نامزد کر دیا، تمہیں تمہارا عطیہ، روزی، اور اموالِ غنیمت دینے کا حکم دے دیا، لہٰذا جسے مزید کسی چیز کی ضرورت کا علم ہو اور اس پر عمل کرنا مناسب ہو تو اسے چاہیے کہ مجھے اس سے مطلع کر دے ہم اس پر عمل کریں گے،

 اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 79) 

آپؓ نے یہ خطبہ مذکورہ نماز سے پہلے دیا تھا، درحقیقت طاعون عمواس مسلمانوں کے لیے ایک عظیم ہلاکت تھی، اس میں بیس ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، اور وفات کنندگان کی یہ تعداد باشندگان شام کی تقریباً نصف آبادی تھی، ایسا لگتا ہے کہ اموات کی کثرت دیکھ کر اس وقت مسلمان کچھ سہم گئے، اور روم والوں سے خطرہ محسوس کیا، اور یہ سچ بھی ہے کہ اگر روم والے مسلمانوں کے اس نازک وقت یعنی مجاہدین اسلام کی کمی پر ذرا بھی دھیان دے دیتے اور اسلامی شہروں پر ھلہ بول دیتے تو موجودہ فوج ریزرو فورس کے لیے ان کو ہٹانا کافی مشکل ہو جاتا، لیکن چونکہ مایوسی و ناامیدی اہلِ روم کے دلوں میں گھر کر گئی تھی اس لیے وہ مسلمانوں کی محاذ آرائی سے باز رہے، خصوصاً ایسے وقت میں کہ جب اسلامی شہروں کے غیر مسلم باشندے بھی مسلمانوں کی حکومت سے راضی تھے، اپنے عدل پرور حاکم اور اس کی خوش خلقی سے وہ دلی طور پر خوش تھے اور بغیر ان کی مدد کے شاہ روم کے اندر یہ سکت نہ تھی کہ شام کے مسلمانوں پر چڑھائی کرتا، خاص طور پر اگر مذکورہ سبب کے ساتھ ہم اس بات کو بھی دھیان میں رکھیں کہ رومی قوم جنگ سے اکتا چکی تھی، اسے ایسی قوم سے مقابلہ و محاذ آرائی سے نجات اور مستقل راحت کی تلاش تھی کہ ہر موڑ پر نصرتِ الہٰی جس کی حلیف ٹھہری اور جس کے غلبہ و قوت کا رعب ہر انسان کے دل میں بیٹھ چکا تھا۔ 

(أشہر المشاہیر: جلد 2 صفحہ 361)