غدیر خم کے حوالے سے شیعہ کے 8 سوالوں کے جواب - ردِ رافضیت |…

غدیر خم کے حوالے سے شیعہ کے 8 سوالوں کے جواب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

غدیر خم کے حوالے سے شیعہ کے 8 سوالوں کے جواب

عرصہ دراز گزر گیا تھا کسی شیعہ کا سوشل میڈیا پر علمی جوش نہیں ابھرا جیسے ایک سال قبل شیعہ کی طرف سے جاہلانہ سوالات کی لسٹیں بنا کر اہلسنّت کو چیلنج کے ساتھ وائرل کرتے تھے جب ہم اہلسنت جواب دیتے تو شیعہ اپنے سوالوں سے ہی مکر جاتے تھے۔

آئیے دیکھتے ہیں ان آج کے سوالات میں شیعہ عالم نے کیا گل کھلائے ہیں

سوال لکھنے سے پہلے شیعہ کہتا ہے 

"غدیر کے حوالے سے اہلسنت بھائیوں سے فقط 10 سوالات"

"میرے تمام اہلسنت بھائیوں کیلئے لمحہ فکریہ"

کہتے ھیں غدیر خم میں رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام کی حاکمیت کا نہیں بلکہ دوستی کا اعلان کیا تھا اب ہمیں فقط ان دس سوالات کے جوابات دے دیں:

 الجواب اہلسنت: 

جناب اہلسنّت آپ شیعہ روافض کے ہرگز بھائی نہیں، جی ہاں رسولﷺ نے دوستی ہی کا اعلان فرمایا تھا. آپ پیش کریں اپنے سوال دیکھتے ہیں کتنے قوی دلائل سے آپ نے سوال کیے.

 شیعہ سوال نمبر:-1 

بقول آپ کے (اہلسنّت) اگر غدیر خم میں مولا علی علیہ السلام کی حاکمیت کا اعلان نہیں بلکہ دوستی کا اعلان تھا تو اس سے ثابت ھوا کہ سوا لاکھ صحابہ کرام میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوست فقط علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام تھے دوسرا کوئی بھی دوست نہیں تھا اور علی علیہ السلام تو ویسے بھی اہلبیت علیهم السّلام میں سے تھے تو ان کی دوستی کے اعلان کیلئے اتنا بڑا اہتمام کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟؟؟

جواب اہلسنّت:-1 

اس سے ہرگز یہ نہیں ثابت ہوتا کہ دوسرے صحابہؓ رسولﷺ کے دوست نہیں تھے صرف حضرت علیؓ ہی دوست تھے بلکہ حضرت علیؓ کا تو خونی رشتہ تھا، داماد بھی تھے اس لیے اُن حضرات کی غلط فہمیاں دور فرمانے کے لیے من کنت مولا کے الفاظ فرمائے

دوسری بات :- جب قافلہ جا رہا ہو تو قطار میں ہوتا ہے جب یہ معلومات ملی تو سب جمع ہو گئے

تیسری بات:- آپ ثابت کریں کہ لفظ مولا کا مطلب حاکم ہے چلیں شاباش پھر آپ یہ ثابت کریں وہاں سوا لاکھ کا مجمع تھا، جناب اس مقام پر آتے ہوئے اکثر صحابہ کرام گھروں کو چلے گئے تھے

چوتھی بات:- کون سا اتنا بڑا اہتمام تھا؟ آپ وہاں شامیانے لگا کر آئے تھے؟

 شیعہ سوال نمبر:-2

اگر یہ حاکمیت نہیں بلکہ دوستی کا اہتمام تھا تو یہ کیسی دوستی ھے کہ الله تعالیٰ کو وحی نازل کرنا پڑی کہ اگر آپ نے علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان نہ کیا تو اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے اپنی رسالت کا کام مکمل ہی نہیں کیا اور تنبیہ بھی کرنا پڑی یعنی یہ سب کچھ دوستی کیلئے ہو رہا ھے؟؟؟

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ

ترجمہ:"اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے الله کا پیغام نہیں پہنچایا اور الله آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا ، بیشک الله کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا"

(المائدہ آیت 67)

 الجواب اہلسنت :- 1

یہ آیت اس مقام پر نہیں نازل ہی نہیں ہوئی بلکہ یوم عرفہ کے دن نازل ہوئی ذرا آپ حوالہ دیں کہ اہلسنّت مفسرین نے لکھا ہو کہ یہ آیت مقام غدیر پر نازل ہوئی شیعہ کو چیلنج ہے

الجواب اہلسنت:- 2

قرآن کی آیت کا ترجمہ تفسیر بدلنا شیعہ کا وطیرہ ہے.

اس آیت کے متعلق جو قصہ آپ شیعہ صاحبان نے جبرائیل علیہ السلام کے بار بار آنے اور اللہ تعالیٰ کے بار بار تاکید کرنے اور رسولﷺ کے ہر بار عذر کرنے کا بیان کیا ہے اس میں جس قدر تمسخر، توہین، اللہ اور رسولﷺ ساتھ ہے، ظاہر ہے، عجب تماشہ ہے کہ توحید کی تبلیغ میں رسولﷺ کفار مکہ کا کچھ خوف نہ کیا اور بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ تمام اہل مکہ کے خلاف توحید کے مضامین کو بیان فرمایا، اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن میں توحید کا مضمون خوب تفصیل و توضیح سے بے شمار آیتوں میں نازل فرمایا ہے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت اللہ جانے کیسی خطرناک چیز تھی کہ اللہ نے بھی اس کا بیان صاف صاف نہ کیا اور رسولﷺ بھی اس کی تبلیغ میں اس قدر خائف ہوئے اور اللہ تعالیٰ حفاظت کا وعدہ نہ کرتا تو چاہے کتنی تاکیدات اللہ کی طرف سے ہوتی رسول ﷺ ہرگز تبلیغ نہ کرتے،

پھر ان سب امور کے بعد یہ بھی کچھ کم قابل حیرت نہیں کہ رسولﷺ تبلیغ کرنے کھڑے ہوئے تو ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بیان کرنے کے لیے کوئی لفظ ہی نہ ملا "مولا" کا لفظ ارشاد فرمایا جس سے خلافت کا مفہوم کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتا ایسا فصیح العرب اور اس معاملہ میں اس کو کوئی صریح لفظ ہی نہ ملے.العجب کل العجب

اچھا ہم اس تمام قصے سے قطع نظر کر لیں اور صرف اتنی سی بات مان لیں کہ اس آیت میں لفظ " ما " سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت مراد ہے تب بھی یہ اعتراض اللہ پر ضرور ہوتا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلافت ایسی اہم اور ضروری چیز ہے کہ رسول ﷺ کو اس کے اعلان کی اس قدر تاکید کی جا رہی کہ اس قدر تاکید نہ عقیدہ توحید کے لیے کی گئی، نا عقیدہ قیامت کے لیے نہ عقیدہ رسالت کے لیے حتیٰ کہ اس خلافت کا اعلان نہ کرنے کی صورت میں رسول ﷺ کا نام رسولوں کی فہرست سے کاٹ دینے کی وعید آئی. ایسی اہم اور ضروری چیز کو خدا نے مبہم کیوں بیان فرمایا یا جس طرح عقیدہ توحید وغیرہ کو اللہ نے صاف صاف بیان فرمایا تھا کہ آج ہر شخص ان آیات کو دیکھ کر اصل مقصود کو سمجھ لیتا ہے خلافِ مقصود کا وہم بھی کسی کو نہیں ہوتا اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو صاف صاف بیان کیوں نہ بیان فرمایا ؟؟

معلوم ہوتا ہے اللہ بھی ڈرتا تھا کہ میں اگر علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو صاف صاف بیان کر دوں گا تو نہ معلوم میرے ساتھ اور میرے قرآن کے ساتھ ساتھ مخالفین علی رضی اللہ عنہ کیا سلوک کریں گے اور رسولﷺ پر بھی یہ اعتراض ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی حکمِ خداوندی کی تعمیل نہ کی، اللہ کا حکم تھا کہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اعلان کریں،

صفحہ 1 از 3