غدیر خم کے حوالے سے شیعہ کے 8 سوالوں کے جواب - ردِ رافضیت |…

غدیر خم کے حوالے سے شیعہ کے 8 سوالوں کے جواب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

انہوں نے بجائے خلافت کے علی رضی اللہ عنہ کے "مولا" ہونے کا اعلان کر کے خاموشی اختیار کر لی۔

استغفراللہ استغفراللہ

مذہب شیعہ کی سیر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین الٰہی کا مقصود سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اور کچھ تھا ہی نہیں نہ توحید کا اس قدر اہتمام، نہ رسالت اور نہ کسی اور چیز کا، لہذا وہ شعر مشہور اثناعشریوں کے مذہب کے مطابق بھی بالکل صحیح ہے:

" کہ جبرئیل کارآمد زبر خالق بچیوں، درپیش محمد شدو مقصود علی بود

مگر رونا اس کا ہے کہ دینِ الٰہی کا یہ مقصود پورا نہ ہوا رسول ﷺ کی رسالت سب سے زیادہ ناکام رہی کیونکہ جو مقصد اصلی آپﷺ کی بعثت کا تھا یعنی حضرت علیؓ کی خلافت اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی

حضرت علیؓ کو پہلی خلافت تو کیا ملتی جو چوتھے درجے میں ملی بھی تو بقول شیعہ برائے نام تھی،

اس کا ماتم حضرات شیعہ جس قدر کریں بجا ہے اور جتنا روئیں حق بجانب ہیں۔

شیعہ کی اس بات کا نتیجہ: 

1. رسول ﷺ نے اللہ حکم کی تعمیل کا معاملہ دو مرتبہ ٹالا، تیسری دفعہ مبہم الفاظ میں تعمیل کی جو عدم تعمیل ہی کی ایک شکل ہے۔ کیا نبی ﷺ اور خدا کا تعلق ایسا ہی ہوتا ہے؟؟؟

2. رسولﷺ صحابہ کرام سے اتنا ڈرتے تھے کہ اللہ کی نافرمانی تک کے لئے تیار ہو گئے؟؟

3. حضورﷺ کی حیات طیبہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ توحید، رسالت اور معاد کی تبلیغ کے لئے پورے عرب کی مخالفت قبول کر لی مگر تبلیغ اور پوری وضاحت کے ساتھ تبلیغ سے باز نہ آئے

دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت علیؓ کی خلافت کے لیے اعلان کے بارے میں غیروں سے نہیں اپنوں سے ڈرتے رہے آخری دم تک کوئی واضح اعلان نہیں فرمایا۔

4. حضورﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں قوم سے خطرہ کیوں تھا؟؟ کہ قوم اس فیصلے کو قبول نہ کرے گی؟؟ یا حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے اہل نہیں تھے؟؟ یا حضورﷺ پر کنبہ پروری کا الزام آتا تھا، اس کی کیا وجہ تھی؟

5. حضورﷺ کی 23 سالہ نبوی زندگی میں کیا کوئی اور ایسا مقام بھی آیا کہ اللہ نے کوئی حکم دیا ہو اور حضورﷺ اسے ٹالتے رہے ہوں؟؟؟

6. ماانزل میں صیغہ مجہول کا ہے جو زمانہ گزشتہ کو چاہتا ہے یعنی اس آیت سے پہلے خلافت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا حکم نازل ہو چکا تھا مگر حضورﷺ نے چھپائے رکھا۔ کیا رسول امین کے متعلق ہی تصور کیا جاسکتا ہے؟؟

جو شخص بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں دشمنوں کی زبان سے بھی امین کہلاتا ہے وہ اللہ کے دین کے معاملے میں معاذاللہ خیانت کرے، حضورﷺ کی سیرت طیبہ میں ایسا تضاد تو دشمن بھی نہیں پیش کر سکے۔

7. وحی کا ایک بات کے لئے بار بار آنا اور نبیﷺ کا بار بار ٹالنا اگر تسلیم کرلیا جائے تو ماننا پڑے گا معاذاللہ حضور ﷺ نے وحی کو مذاق سمجھ رکھا تھا حضور ﷺ کا وحی کے ساتھ یہ سلوک تو وحی کے ساتھ استہزاء، توہین اور اور تلعب بالوحی ہے، کوئی باہوش آدمی یہ تصور کر سکتا ہے؟؟؟

 شیعہ سوال نمبر:-3

اگر یہ حاکمیت کا اعلان نہیں تھا بلکہ دوستی کا تھا تو یہ کیسی دوستی ھے کہ دین کی تکمیل ہی دوستی پر ھو رہی ھے؟؟؟؟

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً..

ترجمہ:" آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا" (المائدہ آیت 55)اللہ کی پھٹکار ہو آپ شیعہ پر۔

شیعہ سوال نمبر 4

اگر دوستی کا اعلان تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا ضرورت تھی اتنی شدید گرمی میں مسلمانوں کو مقام غدیر خم پر جمع کرنے کی اور جو لوگ آگے پیچھے تھے انہیں بھی گرمی میں بلانا پڑا صرف دوستی کے اعلان کیلئے؟؟؟

الجواب اہلسنّت

جب معاملہ معلوم ہی راستے میں غدیر خم کے مقام پر ہوا تو وہیں اس مسئلے کو حل کرنا تھا نا یا واپس مقام عرفات میں جاتے ؟؟

شیعہ سوال نمبر 5

اگر صرف دوستی کا اعلان کرنا تھا تو اونٹوں کے پالانوں سے منبر بنانے اور پھر سجانے کی کیا ضرورت تھی ؟؟؟

 الجواب اہلسنّت

جب چند لوگوں کو جمع کیا ہوا ہو تو کچھ اُونچی جگہ کھڑے ہو کر ہی بات ہوتی ہے

منبروں والی من گھڑت ہے کیا آپ وہاں منبر بنانے کا کام سرانجام دے رہے تھے؟

 شیعہ سوال نمبر 6 

اگر حاکمیت نہیں صرف دوستی کا اعلان تھا تو یہ کیسا اعلان ھے جو مکہ میں بھی نہیں کیا گیا صرف غدیر میں کرنا پڑا اس کی کیا حکمت ھے ؟؟؟

الجواب اہلسنّت:-1

رسولﷺ کو ساری معلومات مکہ مکرمہ میں نہیں ہوئی تھیں جب حج سے فارغ ہو کر راستے میں غدیر خم کے مقام پر پہنچے تو یہ سب اطلاع ملی کہ حضرت علیؓ کے ساتھ معاملات پیش آئے ہیں یہ جہاں اطلاع ملنی تھی وہی سب قافلے کو جمع فرما کر ارشاد فرمایا من کنت مولا اس میں خلیفہ کا تو لفظ ہی نہیں

جواب اہلسنت 2

یہی سوال ہمارا ملت شیعہ سے ہے اگر حضرت علیؓ کی ولایت، خلافت کا مسئلہ اتنا اہم اور لازمی تھا تو قرآن مجید میں اس کا ذکر کیوں نہیں؟ مسجد نبوی میں یہ کیوں نہیں فرمایا؟؟ حجۃ الوداع میں لاکھوں کہ موقعہ پر کیوں نہیں فرمایا؟؟ جب زیادہ تر صحابہؓ گھروں کو جا چُکے تب ایک غدیر تالاب کے کنارے یہ فرمایا وہ بھی ایسا لفظ جس کا مطلب واضح نہیں ہے بلکہ متعدد معنیٰ ہیں۔

 شیعہ سوال نمبر 7

اگر دوستی کا اعلان تھا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا ضرورت تھی پورا خطبہ دینے کی جبکہ حجتہ الوداع میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اعلان کر دینا چاھئے تھا۔

الجواب اہلسنّت:

خطبہ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی

آنحضرتﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر 4ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ میں تشریف لائے ،حرم مکہ پہنچ کر عمرہ کے ارکان ادا فرمائے،اور پھر چار دن تک مکہ میں قیام فرمایا،انہی چار دنوں میں حضرت علیؓ (جو رمضان 10 ہجری سے یمن تشریف لے گئے ہوئے تھے) واپس مکہ مکرمہ پہنچے اور وہ خمس حضورﷺ کی خدمت میں پیش کیا جسے لانے کے لیے حضورﷺ نے انہیں یمن روانہ کیا تھا،اس سفر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعض ساتھیوں کو آپ رضی اللہ عنہ سے چند شکایتیں ہوگئی تھیںں۔جن کا تذکرہ ان ساتھیوں نے آنحضرتﷺ سے کیا تو حضورﷺ نے ان شکایات کے ازالہ کے لیے غدیر خم کے مقام پر یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔

خلاصہ کلام

صفحہ 2 از 3