Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

طاعون زدہ زمین میں جانے اور نکلنے کا حکم

  علی محمد الصلابی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوْا عَلَیْہِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِہَا فَلَا تَخْرُجُوْا فِرَارًا مِنْہُ۔

 (صحیح مسلم: حدیث 2219 )

’’جب تم اس وباء طاعون کے بارے میں سنو کہ وہ کسی شہر و بستی میں واقع ہے تو تم وہاں نہ جاؤ، اور جب یہ کسی علاقے میں پھیل جائے اور تم اس میں موجود ہو تو وہاں سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے نہ بھاگو۔‘‘

طاعون زدہ زمین میں جانے اور وہاں سے نکلنے کی ممانعت کے مفہوم کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اختلاف رہا ہے، بعض صحابہ کرامؓ نے حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا ہے، اور بعض نے اس کی تاویل کی ہے۔ جن لوگوں نے ممانعت کی تاویل کی ہے انہوں نے طاعون زدہ زمین سے نکل جانے کو جائز قرار دیا ہے، اور پچھلے صفحات میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے طاعون زدہ بستی سے حضرت ابو عبیدہؓ کو نکالنے کی کیسی تدبیر اپنائی تھی، لیکن حضرت ابو عبیدہؓ نے اس سے انکار کر دیا تھا اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ نے ہی حضرت ابو عبیدہؓ کو حکم دیا تھا کہ تالاب اور گڑھوں سے بھری ہوئی سیلن والی زمین سے مسلمانوں کو لے کر صحت افزا اور بہترین آب و ہوا والے علاقے میں چلے جائیں اور پھر حضرت ابو عبیدہؓ نے ایسا ہی کیا تھا۔ واضح رہے کہ سیدنا عمرؓ نے حضرت ابو عبیدہؓ کے نام مذکورہ خط اس وقت لکھا تھا جب مقام ’’سرغ‘‘ پر ان دونوں کی ملاقات ہو چکی تھی اور طاعون زدہ علاقے میں جانے اور وہاں رہتے ہوئے نہ نکلنے کی ممانعت پر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث دونوں سن چکے تھے پھر حضرت عمرؓ وہیں سے مدینہ واپس لوٹ آئے تھے۔

بہرحال اس وقت کے حالات بتاتے ہیں کہ جب آپؓ وہاں سے واپس لوٹے تھے تو یہ وباء اپنے ابتدائی مراحل میں تھی، وہ ابھی پھیلی نہ تھی اور نہ اس میں شدت ہی آئی تھی، لیکن جب آپؓ واپس ہو کر مدینہ پہنچ گئے تو طاعون کے سبب مسلمانوں کی بکثرت موت کی خبریں آپؓ کو پہنچنے لگیں سیدنا عمرؓ نے طاعون زدہ علاقے سے نکلنے کا جو مفہوم سمجھا تھا اس کی تائید بعض ایسے صحابہؓ کے عمل سے بھی ہوئی جنہوں نے شام میں حضرت ابو عبیدہؓ کے ساتھ زندگی گزاری، اور خود اس مصیبت و آزمائش سے دوچار ہوئے۔ مثلاً عمرو بن عاص اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما وغیرہما۔

دراصل اختلاف طاعون زدہ زمین میں جانے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس بارے میں ہے کہ اس زمین میں سکونت اختیار کرنے کی حالت میں وہاں سے نکلنا جائز ہے یا نہیں۔ چنانچہ بعض علماء نے نکلنا جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ اللہ کی قضاء و قدر سے راہ فرار اور یہ عقیدہ نہ ہو کہ یہاں سے بھاگ نکلنے سے موت سے محفوظ ہو جائے گا۔ البتہ اگر کوئی کسی اضطراری ضرورت کے لیے وہاں سے باہر جاتا ہے، تو اس کے لیے وہاں سے نکلنا جائز ہے۔ اسی طرح دوا اور علاج کے لیے نکلنا بھی جائز ہے۔ پس اگر طاعون زدہ علاقے سے منتقل ہو کر کسی صحت افزا اور بہترین آب و ہوا والے علاقے میں چلا جائے تو یہ اور بھی اچھی بات ہے اور یہی مطلوب ہے۔

رہا مسئلہ حضرت ابو عبیدہؓ کے عدم خروج اور حضرت عمر فاروقؓ سے معذرت خواہی کا تو دراصل اس کے کچھ صحتِ جسمانی، معاشرتی، سیاسی اور قیادت و حکمرانی سے متعلقہ اسباب تھے، جنہیں دین اسلام منظم شکل میں دیکھنا چاہتا ہے اور ایسی ہی منظم زندگی امانت دار قیادت کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتی ہے، پس حضرت ابو عبیدہؓ کی قیادت کا کیا کہنا! وہ تو اس امت کے امین تھے۔ چنانچہ آپؓ نے طاعون زدہ زمین میں اپنی ثابت قدمی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا: میں مسلمانوں کے فوجی لشکر میں ہوں ان کو چھوڑ کر جانے کو میری طبیعت تیار نہیں۔

بعض علماء نے طاعون سے راہِ فرار اختیار کر کے طاعون زدہ زمین سے نکلنے کی ممانعت کی علت بیان کرتے ہوئے تفصیلی گفتگو کی ہے اور اچھی بات کہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر سارے لوگ ایک ساتھ طاعون زدہ علاقے سے نکلنے لگیں تو جو عاجز ہے، یعنی طاعون میں مبتلا ہے اور جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ان سب کی مصلحتیں و مفادات رائیگاں ہو جائیں گے، اس لیے کہ زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں ان کا کوئی محافظ و مددگار نہیں ہے۔ اسی طرح اگر ایسی زمین سے نکل جانے کی عام اجازت ہو جائے اور طاقتور و مال دار لوگ اس بستی سے نکل جائیں تو کمزور و نادار افراد جو نکل نہ سکیں ان کی لا محالہ دل شکنی ہو گی اور انہیں ان کی ذلت و رسوائی کا احساس دلانا ہو گا۔

خلاصہ یہ کہ طاعون زدہ علاقے میں باقی رہ جانا رخصت ہے، اور نکل جانا بھی رخصت ہے۔ جو شخص طاعون میں مبتلا ہو جائے اس کے باہر نکل جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، بلکہ وہ اس راستے سے اپنے مرض کو دیگر تندرست افراد تک پہنچا دے گا۔ 

(یہاں یہ واضح رہے کہ بیماریاں فی نفسہٖ متعدی نہیں ہوتی ہیں کہ خود سے ساتھ رہنے کی وجہ سے دوسروں کو لگ جائیں، اگر ایسا ہوتا تو شام میں کسی کو نہیں بچنا چاہیے تھا، بلکہ وہ اللہ کے حکم کے تابع ہوتی ہیں، جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تبھی دوسرے پر اثر ہوتا ہے، احتیاطی تدابیر اور بات ہے، رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: ’’لَا عَدْوٰی‘‘ متفق علیہ بیماریاں متعدی نہیں ہوتی مترجم)

 اور جو اس میں مبتلا نہ ہوا ہو، اسے علاج و دوا کی غرض سے اس بستی سے باہر نکلنا جائز ہے بشرطیکہ پوری بستی کے لوگ نہ نکلیں، بلکہ وہاں کچھ لوگ ضرور رہیں جو مریضوں کی خبر گیری اور دوا علاج کریں۔ 

(أبوعبیدہ عامر بن الجراح: شراب: صفحہ232، 237)