شہادت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور چند شہداء صحابہ رضی اللہ…

شہادت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور چند شہداء صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے شیعہ کے الزامات کے تحقیقی جوابات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

سیدنا علیؓ کی شیعہ کے مرکز کوفہ میں شہادت ہوئی تو جنازے کے وقت شیعہ کہاں تھے؟؟ جنازہ میں شریک کیوں نہ ہوئے؟

شیعہ کی معتبر کتاب شافی شرح اصول کافی ص 567 باب 111 میں لکھا ہے صرف حسنین کریمین جنازہ لے کر نکلے

پاکستان میں یوم علیؓ منانے والوں کے بڑے (شیعہ کے آباؤ اجداد) کہاں تھے؟؟

اتنے ہی لائق اعتبار ہوتے تک تو سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما نے تمہیں پتہ بتا ہی دیا ہوتا قبر کا۔ لیکن آج تم نے من گھڑت مزار بنا لیا ہے تا کہ عوام کو کھل کر گمراہ کر سکو۔

اہل بیت کے دشمنو……! جب تمہارے بڑے شریک جنازہ نہ ہوئے تو تم کس غمِ علیؓ کا ڈرامہ رچاتے ہو، حقیقت میں یہ اہلسنت کو دھوکہ دینے کی چالیں ہیں۔

 شیعہ

پھر اسی جماعت کے چوتھے فرد کا جنازہ 50 ہجری میں شہر مدینہ سےاُٹھا اور نانے کے مزار کی طرف چلا مگر کچھ لوگ تیروں سے مسلحہ راستے میں حائل ہوئے کہ نواسے کو نانے کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیں گے آخر وہ جنازہ بقیع کے عوامی قبرستان میں دفن کردیا گیا ۔

 اہلسنّت

یہاں آپ کا اشارہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف ہے اور ہر ہر لفظ بہتان ہے آپ کو شرم نہیں آتی، اہلبیت کی مقدس شخصیات پر بھی جھوٹے باندھتے ہو جھوٹ بولنے میں اگر ایوارڈ ملتا تو آپ کو ملتا کسی نے کوئی تیر نہیں چلایا 100% جھوٹ ہے

دوسرا جھوٹ یہ عوامی قبرستان نہیں بدبخت انسان یہ جنت البقیع ہے جہاں سیدہ فاطمہؓ مدفون ہیں، جہاں امہات المؤمنین یعنی ازواج رسولﷺ مدفن ہیں جہاں اولادِ رسولﷺ مدفن ہیں اور تم کہہ رہے ہو عوامی قبرستان۔۔۔۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک ان کی وصیت کے مطابق اپنی والدہ ماجدہ کے پہلو میں ہے، مگر افسوس کہ تم کو علم نہیں۔

 شیعہ

پھر 61 ہجری میں اصحاب مباہلہ کے آخری فرد کا جنازہ اٹھایا بھی نہ جاسکا بلکہ جنازہ گھوڑوں کی ٹاپوں سےپامال کردیا گیا ۔

اہلسنّت

یہاں اشارہ سیدنا حسینؓ کی طرف ہے، حقیقت میں یہ گھوڑے تمہارے ہی بڑوں کے تھے اپنے بڑوں کی قبروں پر جوتے مارو جنہوں نے شہید کیا اور تم جیسوں کو اب رونے دھونے کے لیے چھوڑ دیا اور قیامت تک روتے رہو گے کیونکہ جرائم تم لوگوں کے ایسے ہیں کہ کبھی معافی نہیں مل سکتی۔

 شیعہ

بحثیت مسلمان کیا ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ کم از کم ہم مؤرخ اسلام سے یہ تو پوچھیں کہ جن کی صداقت کا گواہ خود اللہ ہے اور وہ توحیدِ خدا کے گواہ ہیں امت رسول نے انکے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا ؟

ہمارا یہ سوال امت مسلمہ پر قیامت تک قرض رہے گا ۔ اور اگر اس دنیا میں اس کا جواب نہ ملا تو میدان محشر میں عدالت خداوند تعالیٰ میں ہم یہ سوال اٹھاٸیں گے ؟؟؟؟؟

 اہلسنّت

جی بالکل پوچھ رہے ہیں اوپر سب حقائق معلوم ہو چکے ہیں کہ تم نے اہلبیت سے کیا کیا سلوک کیا اور دعویٰ محبت اہل بیت کے جھانسے میں تمہاری دشمنی اہلبیت سے ثابت ہو چکی ہے اور یہ قرض تمہاری اور تمہارے بڑوں کی گردنوں پر ہے جنہوں نے ان مقدس شخصیات کو بے دردی سے شہید کیا پھر ان پر طرح طرح کی کہانیاں تیار کر کے ان مقدس ہستیوں کو داغدار کیا کبھی ان کے گھر جلانے کے افسانے، کبھی ان کی وفات کو قتل میں بدل رہے کبھی کچھ الزام کبھی کچھ اور دعوے محبت کے۔ یہ محبت نہیں حقیقت میں دشمنی ہے۔

اور حقیقت میں یہ سوال تم پر ہی الٹتا ہے کہ جن لوگوں کو قرآن نے رضی اللہ عنہم کے خطاب سے نوازا تم ان سے بغض رکھتے ہو، جن کو قرآن نے رحماء بینھم کہا تم ان کو ایک دوسرے کا دشمن ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہو، جن کو قرآن نے اولئک ھم الراشدون کہا تم انہیں گمراہ کہتے نہیں تھکتے، سادہ سی بات یہ ہے کہ تمہارا اللہ کی کتاب پر بھی ایمان نہیں اور نہ ہی کوئی اسلام سے تمہین ہمدردی ہے، تم صرف اسلام کی جڑیں کاٹنے کے درپے ہو، اللہ تمہاری ناپاک سازشوں کو کبھی کامیابی سے ہمکنار نہ فرمائے، آمین ثم آمین۔

مقام افسوس .....! اس پوری تحریر میں شیعہ لکھاری(سجاول کاظمی) نے کسی جگہ بھی ادب سے کوئی نام نہیں لکھا،، کسی ہستی کا بھی نہ صحابۂ کرامؓ کا نہ ہی اہل بیتؓ کا حتٰی کہ رسولﷺ کا بھی، یہ ان کی محبت ہے؟؟؟؟

نوٹ:- ہم نے اس تحریر کے لفظ بلفظ کا رد لکھا ہے اپنے آپ کو حسینی کھلانے والے کسی میں ہمت ہو تو ہمارے جواب کا بھی لفظ بلفظ جواب الجواب لکھیں ورنہ زحمت نہ فرمائیں.


صفحہ 3 از 3