Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

وزارت خزانہ و وزارت عدل اور عہد فاروقی میں ان کی ترقی

  علی محمد الصلابی

وزارت خزانہ

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ملکی آمدنی کے ذرائع

خلافت راشدہ کے دور میں مسلمانوں نے مال کو ہر اعتبار سے اللہ کی نعمت سمجھا اور یہ عقیدہ رکھا کہ انسان اس کا صرف ایک محافظ اور خلیفہ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے شروط و حدود کی رعایت کرتے ہوئے اس میں تصرف کر سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم مال اور اس کے خرچ سے متعلق تمام چیزوں میں اس حقیقت کو موکد شکل میں پیش کرتا ہے:

ارشادِ الہٰی ہے:

اٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَاَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَـكُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِيۡنَ فِيۡهِ‌ ۞(سورۃ الحديد: آیت 7)

ترجمہ:’’اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ، اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں دوسروں کا جانشین بنایا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰكُمۡ ۞(سورۃ البقرة: آیت 254)

ترجمہ: ’’اے لوگو! جو اللہ پر ایمان لائے ہو جو کچھ ہم نے تم کو روزی دی ہے اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کرو۔‘‘

اعمال خیر و نیکی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

وَاٰتَى الۡمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ وَالسَّآئِلِيۡنَ وَفِى الرِّقَابِ‌۞(سورۃ البقرة: آیت 177)

ترجمہ:’’جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے اور غلاموں کو آزاد کرے۔‘‘

پس مال کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا اس بات کا اعتراف ہے کہ جو مال اس کے ہاتھ میں ہے وہ اللہ کی دی ہوئی روزی ہے :

وَفِى السَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ ۞(سورۃ الذاريات: آیت 22)

ترجمہ: ’’اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے۔‘‘

مال اللہ کا ہے اس لیے کہ اسی نے اسے پیدا کیا، نعمت الہٰی کا یہ اعتراف ہی اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی و حسن سلوک کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ 

(دراسات فی الحضارۃ الإسلامیۃ: احمد ابراہیم الشریف صفحہ 253)

اور اسی ایمانی اساس سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جن کے دورِ خلافت میں آمدنی کے ذرائع وسیع ہو گئے تھے ملکی آمدنی کو دیکھا، اسلامی سلطنت نے بڑے بڑے شہروں کو فتح کر لیا تھا، اور مختلف اقوام اس کے سامنے سرنگوں ہو گئی تھیں، آپؓ نے ان قوموں کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کا راستہ ہموار کیا، ان میں سے بعض تو صلح کر کے اسلامی ریاست کے تابع ہو گئیں جب کہ بعض کو نہ چاہتے ہوئے اس کی فرمانبرداری قبول کرنا پڑی، اور پھر ان فتوحات کے نتیجہ میں اسلامی سلطنت کو ایسی زمین ملی جس پر جنگ و معرکہ آرائی کے ذریعہ سے غلبہ ملا، اور ایسی زمین بھی ملی جسے اس کے مالکان نے بطور صلح و مصالحت اسلامی سلطنت کے حوالے کر دیا جب کہ کچھ ایسی زمینیں بھی ملیں جن سے ان کے مالکان کو جلا وطن کر دیا گیا تھا، یا وہ سابق حکمرانوں اور جاگیرداروں کی ملکیت میں تھیں ان مفتوحہ ممالک کے عوام میں اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ تھے اس لیے حضرت عمر فاروقؓ نے اللہ کی محکم شریعت کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کیا، آپؓ نے اپنے ملکی مالیاتی نظام کو دیوان و دفاتر کی تنظیم و ترتیب کے ذریعہ سے ترقی دی، خواہ اس کا تعلق ذرائع آمدنی سے ہو، مصارف سے ہو یا لوگوں کے حقوق مرتب کرنے سے ہو۔ سیدنا عمرؓ کے دورِ خلافت میں ملکی آمدنی کے ذرائع جوں جوں بڑھتے رہتے آپؓ اس کی تنظیم و ترقی بھی کرتے رہتے، اور ان کی نگرانی کے لیے افسران و عہدیداران کو مقرر کرتے رہتے، چنانچہ اہم ملکی ذرائع آمدنی، اور سرمایہ کاری کے اسباب میں زکوٰۃ، اموالِ غنیمت، اموال فے، جزیہ، خراج اور تاجروں کے انکم ٹیکس شامل تھے۔ آپؓ نے ان ذرائع آمدنی کو ترقی دینے پر زور دیا اور شرعی مقاصد کو جن میں اولادِ آدم کی مصلحتوں کو مقدم رکھا گیا ہے، سامنے رکھتے ہوئے آپ نے کئی چیزوں میں اجتہاد بھی کیا کیونکہ اس دور میں ایسے جدید حالات و ظروف سامنے آتے رہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نہ تھے۔ 

(دراسات فی الحضارۃ الإسلامیۃ: احمد ابراہیم الشریف: صفحہ 254)

سیدنا عمرؓ کتاب و سنت کے احکامات کو نافذ کرنے میں لاثانی شخصیت کے حامل تھے، کسی چیز میں مسلمانوں کو چھوڑ کر خود کو ترجیح نہ دیتے تھے اور نہ مطلق العنان تھے کہ ان پر اپنی رائے تھوپتے، جب کوئی حادثہ پیش آتا آپ مسلمانوں کو اکٹھا کرتے اور ان سے مشورہ لیتے، پھر ان کی رائے کے مطابق فیصلہ کرتے۔ 

(مبادی النظام الاقتصادی الإسلامی: دیکھئے سعاد إبراہیم صالح: صفحہ 213)

بہرحال عہد فاروقی میں دولت کے اہم مصادر و ذرائع آمدنی کو یہاں تفصیل سے ذکر کیا جا رہا ہے: