شیعہ کی گستاخانہ تحریر کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی گستاخانہ تحریر کا جواب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

شیعہ کی گستاخانہ تحریر کا جواب 

  دُشمنِ آل و اصحابِ رسولﷺ اپنی تحریر کی حقیقت پڑھ

                            در جواب

   مبغض آل رسولﷺ اس تحریر کو غور سے پڑھ

چند دن پہلے ایک تحریر گردش کرتی میرے پاس آئی جس میں انبیاء کرامؑ کی مالی وراثت کو ثابت کرنے کے لیے قرآنی آیت و حدیث مبارکہ کے من پسند ترجمے کیے گئے ہیں۔ آئیے اس کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔

 شیعہ: (صاحبِ تحریر) نے وراثت انبیاءؑ کا عنوان دے کر قرآن پاک کی آیت لکھی کہ وراثتِ انبیاءؑ ارشاد باری تعالیٰ وَلِكُلٍ جَعَلنَا موالي مما ترك الوالدان والاقربون اور ٹھہرا دئیے ہم نے ہر کسی کے وارث اس مال میں جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابتی سورۃ النساء

جواب اہلسنّت

اول: اس آیت سے خصوصاً انبیاءؑ کی وراثت نہیں ثابت ہو رہی۔

دوم: سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خطاب امت کو ہے یا پیغمبرﷺ بھی اس خطاب میں داخل ہیں؟ حدیثِ میراث نے بتا دیا کہ خطاب امت کو ہے۔ نبی کریمﷺ اس خطاب میں داخل نہیں ہیں۔ یہ حدیث شریف آیت قرآنی کے خلاف تب ہوتی کہ قرآن حکیم کے اندر کسی آیت میں نبی کریمﷺ یا کسی دوسرے پیغمبر کا نام ذکر کر کے مالی میراث ثابت کی جاتی۔ قرآن میں اس مضمون کی کوئی آیت نہیں ہے۔

 شیعہ نکتہ: قرآن مجید کا حکم وراثت ہر کسی کیلئے عام ہے انبیاء کو مستثنٰی نہیں کیا.

شیعہ نکتے کا رد: دلیل؟؟ قرآنی حکم پیش کریں جس میں آپ کا نکتہ ثابت ہو۔

 شیعہ دلیل:

ارشاد باری تعالیٰ وَوَرِثَ سلَيْمَان دَاؤدَ اور وارث ہوئے سلیمان داؤد کے پارہ 19 سورہ النمل

حضرت سلیمان اور انکے والد حضرت داؤد دونوں نبی ہیں لہٰذا نبی کا وارث قرآن سےثابت ہوا۔

 جواب اول

اس آیت میں نبوت اور بادشاہت کی وراثت مراد ہے، دلائل ملاحظہ ہوں:

پہلی دلیل: آیت مذکورہ بالا کے بعد ہے "اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ" یعنی یہی ہے واضح فضیلت۔

اس جملے میں اسم اشارہ کا مشار الیہ حضرت جعفر صادق رحمہ اللّٰہ نے خود بیان فرمایا ہے۔ جس کو شیعہ کتاب تفسیر صافی جلد 2 صفحہ 73 پر نقل کیا ہے۔

"فی الجوامع عن الصادق علیہ السلام یعنی الملک والنبوۃ،"

یعنی حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اسم اشارہ سے مراد بادشاہت اور نبوت ہے۔

 ناظرین کرام!

حضرت جعفر صادق رحمہ اللّٰہ کی اس تفسیر سے واضح ہو گیا کہ آپ کے نزدیک حضرت سلیمان علیہ السلام نبوت اور بادشاہت کے وارث ہوئے ہیں۔ اگر حضرت جعفر صادق رحمہ اللّٰہ کے تصور میں وہ چیز ہوتی جو شیعہ حضرات کے ذہن میں ہے تو آپ اسم اشارہ کی یوں تفسیر فرماتے۔ یعنی المال والنبوۃ، مال کے لفظ کو ترک کر دینا اور اس کی جگہ پر ملک و نبوت کو رکھ دینا صاف بتا رہا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی مالی میراث آپ رحمہ اللّٰہ کے خیال شریف میں موجود نہیں ہے۔ یہاں سے شیعہ کتاب اصول کافی کی حدیث "ان الانبیاء لم یورثوا درھما ولا دینارا" کی بھی تصدیق ہوگئی۔

اب شیعہ حضرات جو اعتراض علمائے اہل سنت پر کرتے ہیں وہی اعتراض حضرت جعفر صادق رحمہ اللّٰہ پر وارد ہوگیا کیونکہ حضرت جعفر صادق رحمہ اللّٰہ نے بھی میراثِ سلیمان علیہ السلام کے وہی معنی لیے جو اہلِ سنت کے علماء بیان کرتے ہیں۔

 جواب دوم:

حضرت داؤد علیہ السلام کے فرزندوں کی تعداد 19 تک کتب تفسیر اور تاریخ میں ملتی ہے۔

جیسا کہ شیعہ کتاب ناسخ التواریخ جلد 1 صفحہ 270 پر بیٹوں کے نام درج ہیں۔

پس آیت مذکورہ میں حضرت داؤد علیہ السلام کی مالی میراث کا ذکر ہوتا تو آپ علیہ السلام کے فرزندوں میں سے صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کے ذکر کرنے میں کون سا فائدہ ہے؟ کیا یہ مقصود ہے کہ باقی فرزندوں کو محروم کردیا گیا تھا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ نہ حضرت داؤد علیہ السلام اپنی اولاد کو حقوق شرعیہ سے محروم کرنے والے تھے اور نہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے بھائیوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے والے تھے۔ کلام اللہ بے فائدہ ہونے سے پاک ہے۔ اس لیے اس آیت میں میراث نبوت اور بادشاہت مراد ہوگی۔ اور متنازعہ فیہ وراثت سے اس آیت کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔

اس کے علاوہ آیت کا باقی حصہ مالی میراث کی تردید کرتا ہے کہ " وَقَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّيۡرِ (سورۃ النمل:16)

"اور کہا سلیمان نے اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے"

آیت کا یہ حصہ بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت داؤد علیہ السلام کی وراثت میں علم و نبوت ہی پایا تھا۔ اور صاف ظاہر ہے کہ یہ میراث علم اور منصبِ نبوت کی تھی۔

 شیعہ الزام:

لیکن غیر شیعہ حضرات یہ عذر کرتے ہیں کہ یہ وارثت علم ہیں وارثت مال نہیں۔

 جواب اہلسنّت۔

جناب یہ عذر غیر شیعہ(اہلسنت) ہی نہیں کرتے بلکہ جن کے آپ نام لیوا ہیں ان کا مؤقف بھی یہی ہے جو اہلسنت کا ہے۔

دنیائے شیعیت سے سوال ہے کہ اصول کافی میں حضرت جعفر رحمہ اللہ کی روایت ہے، آپ نے فرمایا:”وورث سلیمان داؤد، وورث محمد صلی اللہ علیہ وسلم سلیمان“․ (اصول کافی: صفحہ:137)

"کہ حضرت سلیمان حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سلیمان علیہ السلام کے وارث ہوئے۔"

اگر شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ قرآن میں لفظ ورث مطلق استعمال ہوا ہے تو شیعہ علماء ذرا یہ بتائیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے صدیوں بعد حضور اکرمﷺ کو ان کا کونسا مال ورثے میں ملا تھا؟؟

ظاہر ہے کہ اس سے مراد علوم نبوت اور منصب نبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی علمی میراث پر متقدمین(پرانے) شیعہ متفق ہیں۔ بعد کے شیعہ نے انبیاء علیہم السلام کی مالی میراث کا نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے۔

 شیعہ جھوٹ

لیکن ان کا (اہلسنّت) یہ عذر، تفسیر قرآن مجید کی انہی لوگوں کی کتب سے غلط ثابت ہو جاتا ہے. کیونکہ تفسیر کبیر امام فخر الدین رازی مطبوعہ مصر جلد ششم اور تفسیر معالم التنزیل ابو الفراءبغوی مطبوعہ مصر میں تسلیم کیا گیا ہے۔

 جواب اہلسنّت

(ا) کیسے غلط ہو جاتا ہے؟ اور کیا تسلیم کیا ہے ان تفاسیر کی عبارات لکھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ میراث کو مال سے مختص کرنا قرآن کے خلاف ہے۔ مثلاً ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

1:-ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَاۚ

2:-فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ

صفحہ 1 از 4