شیعہ کی گستاخانہ تحریر کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی گستاخانہ تحریر کا جواب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

3:- اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡرِثُوا الۡكِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ

ان آیات میں یہ لفظ علمی میراث کیلئے بولا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قبضہ ملکی پر بھی قرآن حکیم میں میراث کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جیسے

1:- اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ۙ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَاءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ ؕ

2:- وَلِلّٰهِ مِيۡـرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ‌ؕ

شیعہ کا استدلال یہ ہے کہ میراث کا لفظ مال مکتسب کیلئے بولا جاتا ہے جو وارث کو بلا کسب(محنت کے بغیر) ملتا ہے۔ اور علم کسبی چیز ہے۔ مذکورہ بالا دو آیتیں اس استدلال کو رد کرتی ہیں۔ آیت اول کسب کے قصے کی تردید کرتی ہے لفظ میراث موجود ہے مگر کسب موجود نہیں۔ دوسری آیت پر شیعہ کے استدلال کی روشنی میں غور کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ زمین و آسمان کسی اور ہستی کے مال مکتسب تھے جس کے مرنے کے بعد اللہ تعالٰی کو بلا کسب وراثت میں ملے۔ کیا کوئی ذی ہوش انسان یہ سوچ سکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ وراثت کا لفظ اس چیز پر بولا جاتا ہے جو بلا قیمت اور بغیر احسان کے حاصل ہوجائے۔

(ب) صرف تفاسیر کے نام لکھنے سے دعویٰ ثابت نہیں ہوتا اندر کیا لکھا ہے وہ پڑھیں۔

 شیعہ کی غلط فہمی:

کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو ورثہ میں ایک ہزار گھوڑے ملے لہٰذا وراثت مال ثابت ہوگئی.

 جواب اہلسنّت:

آپ کی جہالت کو داد دینی پڑے گی، آپ نے ہزار گھوڑے کیسے مالی وراثت میں شامل کر دیے؟ آئیے ذرا حضرت سلیمان علیہ السلام کی دولت کا جائزہ لیتے ہیں۔

       دولت سلیمان علیہ السلام کا جائزہ 

اگر شیعہ اسے مالی میراث ہی قرار دیں تو حضرت داؤد علیہ السلام کی دولت کا جائزہ لینا پڑے گا وہ دیکھنا یہ ہے کہ جو شخص زرہیں بنا کر اپنا گزر اوقات کرے وہ کتنا ترکہ چھوڑ سکتا ہے جس کے لیے قرآن حکیم میں خاص اہتمام سے ذکر کیا گیا ہے۔ پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ جب وہ مال آیا تو انہوں نے اسے کہاں کھپایا۔ کیونکہ وہ ٹوپیاں بنا کر اپنا گزارہ کرتے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مفسرین لکھتے ہیں کہ میراث میں گھوڑے ملے تھے تو ظاہر ہے کہ وہ گھوڑے حکومت کے تھے۔ جن پر حضرت سلیمان علیہ السلام کا تصرف مالکانہ نہیں تھا بلکہ متولیانہ تھا۔ یعنی مالک نہیں تھے بلکہ متولی تھے۔ جیسے کسی ملک کا صدر ہو۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی معاش کے متعلق ایک شیعہ مترجم قرآن علامہ حسین نے وورث سلیمان داؤد کی تفسیر میں لکھا ہے:

"باوجود آں ملک و سلطنت زنبیل بافتے بجہت او معاش خود وبہ حصیر خواب کردے ولحظہ از یاد خدا غافل نہ بودے۔"

ترجمہ: اس وسیع حکومت کے باوجود اپنی معاش کیلئے زنبیل بنتے اور چٹائی پر سوتے تھے اور ایک لحظہ بھی یاد خدا سے غافل نہ ہوتے تھے۔

اگر بقول شیعہ قرآن نے مالی میراث کا ذکر کیا ہے۔ تو وہ کتنی تھی اور کہاں گئی جسے میراث ملی اس کا حال یہ ہے کہ ٹوکریاں بنا کر پیٹ پالتا ہے اور رات چٹائی پر بسر کرتا ہے؟

 شیعہ

رسولﷺ خود وارث ہوئے

فتح الباری شرح صحیح بخاری حضرت رسول خداﷺ کو حضرت ہاشم ع کا مکان ورثہ میں ملا اور ماثور نامی تلوار، بکریاں اور پانچ اونٹ بھی رسولﷺ کو ورثہ میں ملے حوالہ بخاری جلد 3 سیرت حلبیہ جلد اول

 جواب اہلسنت:

اس بات سے کس نے انکار کیا؟ رسولﷺ کو جو ورثے میں ملا وہ سب کیوں نہ سیدہ فاطمہؓ کو دیا؟ ورثے میں ملنا الگ بات ہے جب کہ انبیاءؑ کی مالی وراثت کا ہونا الگ بات ہے جو شیعہ ثابت نہیں کر سکے۔

دوسری بات یہ کہ شرعاً اگر دادا کی زندگی میں والد فوت ہو جائے تو اولاد ورثے کی حقدار نہیں ہوتی لہٰذا اگر کوئی چیز نبی پاکﷺ کو ملی بھی تو وہ وراثت نہیں بلکہ ہبہ تھی

 شیعہ

ایک عُذر کا جواب اگر یہ کہا جائے کہ جب رسولﷺ کو ورثہ ملا اس وقت (معاذ اللہ) حضورﷺ نبی نہ تھے تو یہ غلط بات ہے

 جواب اہلسنت:

نبی تو پیدائشی نبی ہوتا ہے نبی کریمﷺ اعلان نبوت 40 برس کی عمر میں فرمایا. اس سے آپ کا دعویٰ کیسے ثابت ہوا؟

 شیعہ

  کیونکہ حدیث مبارکہ ہے کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب حضرت آدم علیہ سلام پیدا نہ ہوئے تھے.

اور نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب میں اشرف علی تھانوی نے حدیث نقل کی ہے کہ حدیث مبارکہ ہے کہ

آدم علیہ سلام کی خلقت سے چودہ ہزار سال پہلے میرا نور پیدا ہوا.

 جواب اہلسنت:

یہاں بات نور نبوت کی ہے آپ یہاں بھی اپنا دعویٰ ثابت نہیں کر سکے۔

 شیعہ وہم:

فدک رسولﷺ کا ذاتی مال تھا

جواب اہلسنّت

کیسے ذاتی مال تھا؟؟ اگر فدک رسولﷺ کا ذاتی مال تھا اس مال کی اکیلی وارث سیدہ فاطمہؓ کیسے ہو سکتی تھیں؟

شیعہ دلیل:

ارشاد باری تعالیٰ اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسولﷺ کو ان سے دلوایا.

سو تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ لیکن اللہ تعالیٰ (کی عادت ہے کہ) اپنے رسولوں کو جس پر چاہے (خاص طور پر) مسلط فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے پارہ 28 سورۂ حشر

قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت مبارکہ کی رو سے فدک اور دیگر اموال فئے اللہ نے اپنی قدرت سے اپنے رسول ص کو دلوائے تھے. اور مسلمانوں کو فرما دیا کہ

تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ

تاکہ فدک اور دیگر اموالِ فئے کو عوام کا مال نہ سمجھا جائے. اور مسلمان عوام فدک وغیرہ پر اپنا حق جتلانے سے باز رہیں۔

 جواب اہلسنّت:

شاید اتنا جھوٹ آپ نے تقیہ کا ثواب لوٹنے کے لیے بولا جب کہ قرآن کریم میں مال فئی کی آمدنی کے حقدار بھی بتا دئیے کہ وہ کن حقداروں میں خرچ کی جائے گی۔

یہ آٹھ مصارف (حقدار) ہیں جن کا ذکر سورۂ حشر کی آیت نمبر 7۔8۔ 9 میں موجود ہے اور وہ یہ ہیں:

1 اللہ کے نام پر۔

2 رسول اللہﷺ کے لیے۔

3 رسولﷺ کے قرابت داروں کے لیے۔

4 یتیموں۔

5 مسکینوں۔

6 مسافروں۔

7 مہاجرین۔

8 انصار کیلئے۔

شیعہ عالم محمد بن مرتضٰی المعروف فیض کاشانی نے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے حوالے سے اموال فئی کے متعلق نقل کیا ہے کہ۔۔۔۔۔۔

ھی للّہ وللرسول علیہ السلام ولمن قام مقامہ بعدہ

(تفسیر صافی: صفحہ 210)

یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا حق ہے اور جو رسولﷺ کے بعد ان کا قائم اور جانشین بنے اس کا حق ہے۔

نوٹ: جب شیعہ لوگ رسول اللہﷺ کی وراثت ثابت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فدک ہبہ(گفٹ) کیا تھا۔

 آئیے شیعہ کی اس بارے میں علمی قابلیت دیکھتے ہیں۔

 شیعہ جھوٹ:

صفحہ 2 از 4