شیعہ کی گستاخانہ تحریر کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی گستاخانہ تحریر کا جواب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

لہٰذا ثابت ہوا کہ "فدک رسول خدا کا ذاتی مملوک تھا"

ہبہ نامہ فدک اگر باغ فدک رسول کا ذاتی مال نہ ہوتا اور عوام کا مال ہوتا تو حضرت رسول خدا، فدک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ہرگز ہبہ نہ فرماتے لیکن معصوم رسول نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو فدک ہبہ فرما دیا تھا.

 جواب اہلسنت:

رسولﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو کیا دیا شیعہ حضرات خود پڑھیں۔ اہل تشیع کی معتبر کتاب خصال بن بابویہ میں ہے:

أتت فاطمۃؓ بنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فی شکواہ الذی توفي فیہ فقالت : یا رسول اللہ! ھذان ابنان ورثھما شیئاً قال:أما الحسنؓ فإن لہ ھیبتی، وأما الحسینؓ فإن لہ جرأتي.(خصال بن بابویہ،صفحہ:39)

حضرت سیدہ فاطمہؓ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپﷺ مرض الموت میں تھے، آپؓ نے عرض کیا یہ دونوں بچے ہیں انہیں کچھ میراث دیجیے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا: حسنؓ کے لیے میری ہیبت ہے اور حسینؓ کے لیے میری جرأت ہے۔

اس روایت سے واضح ہوا کہ آپﷺ نے ان کو مالی وراثت دینے کے بجائے اخلاق عطا فرمائے، یہ روایت اہل تشیع کی دیگر معتبر کتابوں میں بھی موجود ہے۔(دیکھئے: مناقب فاخرہ للعترہ الطاھرة، صفحہ:189، شرح نہج البلاغة جدیدی، جلد دوم، جز شانزدہم صفحہ:261)

 شیعہ کا رسولﷺ پر بہتان:

اور وثیقہ ہبہ سیدہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کو دے دیا تھا.

جواب اہلسنّت:

اس کو ثابت کرنے کے لیے مستند حوالہ معتبر کتب سے پیش کریں۔

 شیعہ بہتان دوم:

لہٰذا ثابت ہوا کہ فدک رسولﷺ کا مملوکۂ ذاتی تھا.

 جواب اہلسنت:

کیسے ثابت ہوا؟ خواب میں تو نہیں جناب؟ یہ گپ کس کتاب میں لکھی ہے؟

 شیعہ نوٹ

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فدک پر اپنا حق ثابت کرنے کے لیے رسولﷺ کا دیا ہوا وثیقہ دکھایا تھا.

 جواب اہلسنت:

کہاں لکھا دکھایا؟ کسی مستند کتاب سے حوالہ دکھانے کی ہمت ہے؟ اس کہانی وثیقہ پر سیدنا علیؓ حسنؓ و حسینؓ نے کیوں عمل نہ کیا ؟؟؟ یا احتجاج کیوں نہ کیا؟

 شیعہ گپ:

اور حضرت علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام، حضرت کلثوم علیہا السلام اور حضرت ام ایمن علیہا السلام نے یہ شہادت دی کہ واقعی ہبہ کا یہ وثیقہ رسول نے دیا تھا. اور باغ فدک ہبہ کیا تھا

جواب اہلسنت:

حوالہ ؟ دلیل ثبوت کوئی ہے تو پیش کریں فرضی کہانیوں سے بات نہیں بننی۔

 شیعہ بہتان سوم:

لیکن ان ہستیوں کی شہادت اور وثیقہ رسولﷺ کو رد کر دیا گیا (افسوس)

جواب اہلسنّت:

تو سیدنا علیؓ نے کیوں نہ اپنے دورِ حکومت میں عمل کیا؟؟؟

ناظرین کرام: شیعہ لکھاری دلائل دیتے ہوئے چند اہلسنت کتب کے نام لکھتا ہے:

حوالہ جات اہلسنت کی مستند کتب سے جو نیچے درج ذیل ہیں

1:صحیح بخاری کتاب المغازی باب الخمس اور باب المیراث

2:سیرت ابن ہشام

3:تاریخ کامل ابن اثیر

4:تفسیر درمنثور

5:صواعق محرقہ

6:فتاویٰ عزیزی

7:وفاء الوفا سمہودی شافعی مطبوعہ الجزء الثانی

8:صحیح مسلم جلد 5 کتاب الجہاد والسیر

9: روضۃ الاحباب جلد اول

10:ازالۃ الخفاء شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

نوٹ

مندرجہ بالا کتب دیکھنے سے معلوم ہو جائے گا کہ

حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا تا وفات غضب ناک ہی رہیں۔

 جواب اہلسنّت:

ان مذکورہ کتب میں نہ تو سیدہ فاطمہؓ کو ہبہ دینے کا ذکر ہے نہ کوئی وثیقہ دینے کا لکھا نہ ہی کسی ایک کتاب میں کسی جگہ یہ لکھا کہ سیدہ فاطمہؓ نے فرمایا ہو کہ میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے غضب ناک ہوں۔

ہمارا سوال ہے سیدہ فاطمہؓ کس بات سے غضب ناک ہوئیں کیا فرمان رسولﷺ سن کر ؟ تو یہ سیدہ فاطمہؓ کی بدترین توہین ہے کوئی عام مسلمان بھی رسولﷺ کا فرمان مبارک سن کر غضب ناک نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ سیدہ فاطمہؓ پر یہ بہتان لگایا جائے۔ اور پھر بھی دعویٰ محبت کا کرتے ہو شرم آنی چاہیے۔

شیعہ جھوٹ:

یہاں تک کہ وصیت فرماگئیں کہ ناراض کرنے والے میرے جنازہ پر نہ آنے پائے.

 جواب اہلسنت:

ناراض کس بات پر ہوئیں؟؟؟ کس نے ناراض کیا؟ کیا آپ شیعہ سیدہ فاطمہؓ کو دنیا دار ثابت کرنا چاہتے ہو؟ اسلام میں تین دن سے زیادہ ناراض رہنا جائز نہیں تو سیدہ فاطمہؓ زمین کے ٹکڑے کی خاطر اتنی ناراض ہوگئیں کہ وفات تک راضی نہ ہوئیں؟ یہ سیدہ فاطمہؓ کی وکالت نہیں توہین ہے۔ شیعہ کی جہالت قابل داد ہے۔

 حضرت فاطمہؓ کی نماز جنازہ اور شیخینؓ کی شمولیت 

 غسل اور تجہیز وتکفین کے مراحل کے بعد حضرت فاطمہؓ کے جنازہ کا مرحلہ پیش آیا

سیدہ فاطمہؓ کے جنازہ پر خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ اور ديگر صحابۂ کرامؓ جو اس موقعہ پر موجود تھے تشریف لائے۔ حضرت علیؓ کو صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ آگے تشریف لا کر جنازہ پڑھائیں۔ جواب میں حضرت علیؓ نے ذکر کیا کہ آنجنابؓ خلیفۂ رسولﷺ ہیں آپؓ کی موجودگی میں میں جنازہ پڑھانے کے لئے پیش قدمی نہیں کرسکتا۔ نماز جنازہ پڑھانا آپؓ ہی کا حق ہے آپؓ تشریف لائيں اور جنازہ پڑھائیں اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ آگے تشریف لائے اور حضرت فاطمہؓ کا چار تکبیر کے ساتھ جنازہ پڑھایا۔ باقی تمام حضرات نے ان کی اقتداء میں صلوٰة جنازہ ادا کی۔

یہ تفصیل متعدد مصنفین نے اپنی اپنی تصانیف میں باحوالہ ذکر کی ہے چنانچہ چند ايک عبارتیں اہل علم کی تسلی خاطر کے لئے بعینہ یہاں نقل کرتے ہیں۔

1۔ترجمہ: ابراہیم (النخعی) فرماتے ہیں کہ ابوبکرؓ نے فاطمہؓ بنت رسولﷺ کا جنازہ پڑھایا اور اس پر چار تکبیریں کہیں۔

(طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 19 تحت تذکرہ فاطمہؓ طبع لیڈن)

2۔ ترجمہ: حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد محمد باقر رحمہ اللہ سے روایت فرماتے ہیں کہ محمد باقر رحمہ اللّٰہ نے فرمایا کہ نبیﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ فوت ہوئیں ابوبکرؓ اور عمرؓ دونوں تشریف لائے تاکہ جنازہ کی نماز پڑھیں۔ تو ابوبکر صدیقؓ نے حضرت علیؓ کو فرمایا کہ آپؓ آگے ہو کر نماز پڑھائيے تو حضرت علیؓ نے کہا کہ آپؓ خلیفۂ رسولﷺ ہیں آپؓ کے ہوتے ہوئے میں آگے نہیں ہوتا۔ پس ابوبکرؓ آگے تشریف لائے اور حضرت فاطمة الزہراءؓ کا جنازہ پڑھایا۔

(کنزالعمال جلد6 صفحہ318 حظ فی رواة مالک ۔طبع اول حیدر آباد ۔دکن تحت فضل الصدیقؓ۔ مسندات علیؓ ۔باب فضائل الصحابةؓ)

صفحہ 3 از 4