رافضی پروفیسر کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق مولوی…

رافضی پروفیسر کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق مولوی کا منہ توڑ جواب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

سیدہ ہندؓ کے بارے میں فرمانِ رسولﷺ پڑھیں:

قالت: يا رسول الله ما كان على ظهر الارض من اهل خباء احب إلي ان يذلوا من اهل خبائك، ثم ما اصبح اليوم على ظهر الارض اهل خباء احب إلي، ان يعزوا من اهل خبائك، قال:ایضا

ترجمہ: (ہند بنت عتبہؓ رسولﷺ کی خدمت میں اسلام لانے کے بعد) حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسولﷺ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپ کے گھرانے کی ذلت سے زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ کے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے۔ رسولﷺ نے فرمایا ”ایسا ہی ہے"

بخاری حدیث3825)

وَأَنا أَيْضا بِالنِّسْبَةِ إِلَيْك مثل ذَلِك، وَقيل: مَعْنَاهُ وَأَيْضًا ستزيدين فِي ذَلِك

"ایسا ہی ہے" کا معنی ہے کہ میں رسولﷺ بھی تم سے راضی ہوں محبت کرتا ہوں، ایک معنی یہ بنتا ہے کہ اور "ایسے ہی" ترقی و محبت پاؤ گی۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري ,16/284)

فَعَفَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم

رسولﷺ نے سیدنا معاویہؓ کی والدہؓ کو معاف کردیا

تاريخ ابن الوردي1/124)

اب پروفیسر صاحب چلو تم سیدنا ابوسفیانؓ اور سیدہ ہندؓ بنتِ عتبہ کے مسلمان ہونے کے بعد کا واقعہ ثابت کرو کہ انہوں نے مسلمانوں کو اذیت دی، چیلنج ہے!

پروفیسر: آپ نے بتایا کہ معاویہؓ کاتبِ وحی تھے تو پھر آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کون سی آیات کی کتابت کی تھی؟

مولوی: تمہارے پاس کون سا ایسا آلہ ہے جس سے تم معلوم کر سکو کہ سیدنا معاویہؓ کے علاوہ باقی کاتبین وحی نے کتنی اور کون کون سی آیات لکھی؟ چلو تم پہلے بتاؤ کہ فلاں کاتب وحی نے اتنی لکھی ہیں پھر ہم بتائیں گے کہ سیدنا معاویہؓ نے کون سی آیات کی کتابت کی تھی۔

پروفیسر: کیا آپ کے حضرت صاحب کو معلوم نہیں کہ معاویہؓ نے مولا علی علیہ السلام سے بغاوت کی تھی....؟

مولوی: یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ سیدنا معاویہؓ نےکوئی بغاوت نہیں کی۔ تم ذرا بغاوت کا معنیٰ و مفہوم بتاؤ؟

پروفیسر: کیا آپ کے حضرت صاحب کو معلوم نہیں کہ معاویہؓ نے مولا علی علیہ السلام کے خلاف تلوار اُٹھائی اور آپؑ پر منبروں سے لعنتیں اور گالیاں کہلوائیں؟

مولوی: اگر سیدنا معاویہؓ نے تلوار اٹھائی تو کیا سیدنا علیؓ بیٹھے رہے؟؟ حضرت حسنؓ کے جنگ نہ کرنے کے مخلصانہ مشورے کے باوجود تمہارے آباؤ اجداد نے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کو باہم دست و گریبان کروا دیا۔

دونوں اطراف سے تلوار اٹھانے کا سبب حقیقتاً تمہارے آباؤ اجداد سبائی تھے، جو قاتلانِ عثمانؓ تھے وہی حقیقت میں باغی تھے، انہی میں سے کچھ سیدنا علیؓ کے گروہ میں شامل ہوئے اور کچھ سیدنا معاویہؓ کے گروہ میں شامل ہو گئے اور انہوں نے جنگ کا آغاز کیا۔

سیدنا معاویہؓ کو سیدنا علیؓ نے اپنا بھائی کہا اور اس جنگ میں دونوں طرف سے شہید ہونے والے مسلمانوں کو جنتی کہا۔

عَلِيٌّ: «قَتْلَايَ وَقَتْلَى مُعَاوِيَةَ فِي الْجَنَّةِ

سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ میرے مقتول اور سیدنا معاویہؓ کے مقتول جنتی ہیں

طبرانی معجم کبیر روایت688)

باقی سیدنا معاویہؓ پر ممبروں پر گالیاں کہلوانے کی تمہاری روافض کی اپنی بکواس ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔

پروفیسر: کیا آپ کے حضرت صاحب کو معلوم نہیں کہ معاویہؓ نے امام حسن علیہ السلام سے کی گئی صلح کی شرائط کو توڑا۔

مولوی: جی نہیں، کوئی شرائط کو نہیں توڑا یہ تمہارا خبث باطن اور الزام ہے

ذرا اپنے ابو مجلسی رافضی لعین کی سنو:

هذا ما صالح عليه الحسن بن علي بن أبي طالب معاوية بن أبي سفيان: صالحه على أن يسلم إليه ولاية أمر المسلمين، على أن يعمل فيهم بكتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وآله وسيرة الخلفاء الصالحين

(شیعوں کے مطابق) سیدنا حسنؓ نے فرمایا یہ ہیں وہ شرائط جس پر میں معاویہؓ سے صلح کرتا ہوں، شرط یہ ہے کہ معاویہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ اور سیرتِ نیک خلفاء کے مطابق عمل پیرا رہیں گے۔

شیعہ کتاب بحار الانوار جلد44 ص65)

سیدنا حسن نے "نیک خلفاء کی سیرت" فرمایا جبکہ اس وقت شیعہ کے مطابق فقط ایک خلیفہ برحق علیؓ گذرے تھے لیکن سیدنا حسنؓ "نیک خلفاء" جمع کا لفظ فرما رہے ہیں جس کا صاف مطلب ہے کہ سیدنا حسنؓ کا وہی نظریہ تھا جو اہلسنت کا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و علیؓ خلفاء برحق ہیں تبھی تو سیدنا حسنؓ نے جمع کا لفظ فرمایا...اگر شیعہ کا عقیدہ درست ہوتا تو "سیرت خلیفہ" واحد کا لفظ بولتے سیدنا حسنؓ....اور دوسری بات یہ بھی کہ سیدنا معاویہؓ خلفاء راشدینؓ کی راہ حق پہ چلے، متفقہ شرائط پر عمل کیا، شرائط نہ توڑیں ورنہ سیدنا حسنؓ و حسینؓ ضرور بیعت توڑ دیتے،سیدنا حسنؓ و حسینؓ کی صلح رسولﷺ کی صلح ہے جو سیدنا معاویہؓ کو عادل بادشاہ بنا دیتی ہے۔

صلح کی شرائط کی پاسداری کا حوالہ تمہارے ہی مؤرخ کی کتاب سے دیا جاتا ہے، دیکھ لو اور ہدایت حاصل کرنے کی سعی کرو۔

ولم یر الحسن و لالحسین طول حیاۃ معاویۃ منہ سوء فی انفسھما و لا مکروھا و لا قطع عنھما شیئا مما کان شرط لھما ولا تغیر لھما عن بر (اخبار الطوال: ص 226)

یعنی حضرات حسنین کریمینؓ نے اپنی ذات کے متعلق حضرت معاویہؓ کی مدتِ خلافت میں کوئی بری بات اور ناگوار چیز نہیں دیکھی، جو شرائط حضرت معاویہؓ نے ان سے کی تھیں ان کو پورا کیا اور جو احسان و بہتر سلوک ان کے حق میں جاری کیا تھا اس کو بدلا تک نہیں۔

تمہارا یہ شرائطِ صلح توڑنے والا الزام اپنی موت آپ مر گیا ہے اور تمہاری کتب سے ہی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔

پروفیسر: معاویہؓ نے اسلامی اصولوں کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے جان بوجھ کر یزید پلید کو اپنا جانشین منتخب کیا؟

مولوی: یزید کو جانشین بنانے میں کس اسلامی اصول کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں؟ثابت کرو کہ وہ اصول کہاں لکھا ہوا ہے؟

پروفیسر: قرآن کی کوئی آیت جو معاویہؓ کیلئے اتری ہو؟

مولوی: صحابیت کے لیے یہ ضروری تو نہیں ہے کہ ہر ایک کیلئے آیت نازل ہوئی ہو اس طرح تو کئی ہزار سے بھی زائد صحابہ کرامؓ ہیں تو ہزاروں آیات نازل ہونی چاہئیں...؟؟ اللہ تعالی نے سب صحابہ کرامؓ کا اجمالاً ذکر فرما دیا اور فتح مکہ سے پہلے اور بعد والے تمام صحابہؓ سے جنت کا وعدہ بھی فرما دیا۔

صفحہ 2 از 4