رافضی پروفیسر کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق مولوی…

رافضی پروفیسر کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق مولوی کا منہ توڑ جواب

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی

"تم میں سے جس نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا ان کا درجہ ان لوگوں سے زیادہ ہے کہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا لیکن سارے صحابہ سے اللہ تعالی نے اچھا وعدہ یعنی جنت کا وعدہ کیا ہے"

(سورۃ الحدید آیت10)

کوئی آپ جیسے متعہ زادے سے پوچھ سکتا ہے کہ بتاؤ حضرت علیؓ کے لیے کون سی آیت اتری جس میں نام لے کر حضرت علیؓ کا ان کی شان بیان کی گئی ہو تب تمہاری ساری پروفیسری لیک ہو جانی ہے۔

پروفیسر: صحاح ستہ سے کوئی ایک صحیح حدیث (جو ضعیف یا موضوع نہ ہو اور جس کی سند قابل قبول ہو) جو معاویہؓ کی فضیلت میں آئی ہو؟

مولوی: قرآن میں اللہ کی طرف سے جنت کے وعدے کے بعد بھی اگر کسی ثبوت کی ضرورت رہتی ہے تو تمہارے میں ایمان کی رائی برابر مقدار بھی موجود نہ ہونے کی دلیل ہے۔ اس کے باوجود بھی سیدنا معاویہؓ کی فضیلت میں بہت سی احادیث ہیں۔ سچ سچ بتاؤ کہ واقعی نرے پروفیسر ہو یا دین کا کچھ پڑھا ہے اپنے گٹر کا منہ کھولنے سے پہلے؟؟؟

یاد رہے ہر صحابی کی شان صحاح ستہ میں ہونا لازم نہیں....یہ شرط تم نے کس آیت و حدیث سے نکال لی، دم ہے تو بتاؤ....اور ہاں سیدنا معاویہؓ کی شان میں یہ صحاح ستہ سے حدیث پاک پڑھیں

الحدیث: أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ البَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا

میری امت کا پہلا گروہ کہ جو بحری جہاد کرے گا ان کے لئے جنت واجب ہے

صحيح البخاري,4/42حدیث2924)

المعجم الكبير للطبراني حدیث323)

دلائل النبوة للبيهقي 6/452)

مستدرك للحاکم4/599حدیث8668)

أَرَادَ بِهِ جَيش مُعَاويةؓ، وَإِنَّمَا مَعْنَاهُ: أوجبوا اسْتِحْقَاق الْجنَّة

مذکورہ حدیث میں جنتی گروہ سے مراد سیدنا معاویہؓ کا گروہ ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ان کیلئے جنت واجب ہوچکی ہے۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري14/198)

أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ،

سب سے پہلے مسلمانوں نے جو بحری جہاد کیا وہ معاویہؓ بن سفیانؓ کی سربراہی میں کیا

سنن ابن ماجه ,2/927)

پروفیسر: تو آپ کو نبی ؐ کے ہزاروں صحابہؓ کو چھوڑ کر عرس منانے کیلئے صرف یزید کا باپ اور ظالم حاکم / بادشاہ ہی ملا تھا؟

مولوی: 64 لاکھ 65 مربع میل پر اسلامی پرچم لہرانے والے جلیل القدر صحابی رسولﷺ سیدنا معاویہؓ نے سبائی ملت کی ایسی دھجیاں اڑائی کہ آج تک تمہاری چیخیں نکل رہی ہیں۔ ہمارے پیارے نبیﷺ کے ایک صحابی سیدنا معاویہؓ نے ایسی مرمت کی تمہارے بڑوں کی کہ قیامت تک چیخیں نکلیں گی، ان شاء اللہ!

اہلسنّت کا عقیدہ ہے تمام صحابہؓ کامیاب اور جنتی ہیں، سب رسولﷺ کے تربیت یافتہ شاگرد ہیں، ہم کسی ایک صحابی کو چھوڑنا بھی کفر سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس تم روافض رسولﷺ کی تمام جماعت کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔ حقیقتاً تمہیں دشمنی سیدنا معاویہؓ سے نہیں بلکہ رسول اللہﷺ اور دینِ اسلام سے ہے، بھلا تم لوگ ابو جہل کے خلاف کیوں نہیں جو دشمنِ اسلام تھا؟ تم صحابہؓ کے خلاف کیوں ہو جو رسولﷺ کی نبوت کے عینی گواہ ہیں؟؟ ثابت ہوا تم دشمن دینِ اسلام ہو۔

پروفیسر: جب نبی کریم ﷺ نے علیؑ کے دشمن کو اپنا دشمن کہا تو آپ نے علیؑ کے دشمن سے محبت کرنا شروع کر دیا؟ یعنی تم لوگ اب کھل کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو گئے ہو؟ تم نے جہنم کا سودا کر لیا ہے ۔۔۔۔۔!

مولوی: تم لوگ اتنے بڑے دین کے دشمن ہو اور حُبِ علیؓ کی آڑ میں تمام صحابہؓ کو دشمن علیؓ کہتے پھرتے ہو جو تمہیں شرم نہیں آتی مجھے بتاؤ اگر سیدنا معاویہؓ سیدنا علیؓ کےدشمن تھے تو سیدنا حسنؓ نے ان سے صلح و بیعت کیوں کی؟

اختلاف تو دو نبیوں میں بھی ہوا، ہم ان میں سے کسی کو برا کہنا کفر سمجھتے ہیں، ایسے ہی اختلاف صحابہؓ میں ہوا تو ہم کسی صحابی پر زبان درازی نہیں کر سکتے کیونکہ رسولﷺ نے اختلاف کرنے والے دونوں صحابۂ کرامؓ کی جماعتوں کو مسلمان فرمایا ہے۔

اب سنو کان کھول کر کہ سیدنا علیؓ اور سیدنا معاویہ ؓ وغیرہ میں اختلاف تھا، دشمنی نہیں ہوئی تھی۔

سیدنا علیؓ فرماتے ہیں:

والظاهر أن ربنا واحد ونبينا واحد، ودعوتنا في الاسلام واحدة. لا نستزيدهم في الإيمان بالله والتصديق برسوله صلى الله عليه وآله ولا يستزيدوننا. الأمر واحد إلا ما اختلفنا فيه من دم عثمان

یہ بات بالکل واضح ہے ظاہر ہے کہ ان(سیدنا معاویہؓ و سیدہ عائشہؓ وغیرہ)کا اور ہمارا رب ایک ہے، رسولﷺ ایک ہے، ان کی اور ہماری اسلامی دعوت و تبلیغ ایک ہے، ہم ان سے اللہ پر ایمان اور رسول کریمﷺ کی تصدیق کے معاملے میں زیادہ نہیں ہیں اور نہ وہ ہم سےزیادہ ہیں...ہمارا سب کچھ ایک ہی تو ہے، بس صرف سیدنا عثمانؓ کے قصاص کے معاملے میں اختلاف ہے۔

شیعہ کتاب نہج البلاغۃ3/114)

ثابت ہوا کہ سیدنا علیؓ کا ایمان اورسیدنا معاویہؓ کا ایمان، سیدنا معاویہؓ کا اسلام اور سیدنا علیؓ کا اسلام، اہلِ بیت کا اسلام اورصحابہ کرامؓ کا اسلام ایک ہی تھا اور وہ قرآن و حدیث اور سب دینی معاملات میں متفق تھے،سیدنا علیؓ و سیدنا معاویہؓ وغیرہ سب کے مطابق قرآن و حدیث میں کوئی کمی بیشی نہ تھی ....پھر کالے، مکار، بے وفا، ایجنٹ، غالی جھوٹے شیعوں نے الگ سے حدیثیں بنا لیں، قصے بنا لیے،الگ سے فقہ بنالی، کفریہ شرکیہ گمراہیہ نظریات و اعمال پھیلائے اور رافضیوں ونیم رافضیوں نے سیدنا علیؓ و معاویہؓ کے اختلاف کو دشمنی، منافقت اور کفر کا رنگ دے دیا...انا للہ و انا الیہ راجعون

جب کہ اللہ تعالیٰ ان کو رحماء بینہم یعنی آپس میں محبت رکھنے والے فرماتا ہے، ان کے متعلق فرماتا ہے کہ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً مَّا أَلَّفَتْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ

اور اُن (اہلِ ایمان) کے دلوں میں ایک دوسرے کی اُلفت پیدا کردی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کر لیتے تو ان کے دلوں میں یہ اُلفت پیدا نہ کرسکتے، لیکن اﷲ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا۔

صفحہ 3 از 4